میڈ اِن جرمنی


شام ہونے کو تھی، ہماری کار فیری میں داخل ہوئی اور جھیل کو پار کرتے ہوئے پرلے کنارے پر جا لگی، جھیل پرسکون تھی، پانی نے سبز رنگ کی چادر اوڑھ رکھی تھی، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، آفتاب کو بادلوں نے گھیر رکھا تھا اور اس کی کرنیں باہر آنے کو مچل رہی تھیں، قید سے رہائی پانے والی روشنی جب جھیل کے سبز پانی پر پڑتی تو دور قوس قزح بن جاتی۔ جھیل کے کنارے پر چھوٹے چھوٹے ریستوران بنے تھے جہاں لوگ ہلکی ہلکی موسیقی سے لطف اندوز ہو کر کافی کی چسکیاں لے رہے تھے، سامنے سرخ رنگ کی ٹرین گزر رہی تھی، شام ملگجی تھی، فضا میں رومان تھا، ہوا میں خنکی تھی، دور کہیں سورج ڈوب رہا تھا۔ یہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر واقع ’’کونستانز‘‘ نامی ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، اس چھوٹے سے قصبے میں سپر اسٹور تھا، لا تعداد کیفے اور ریستوران تھے، جہاز رانی کے لئے کشتیاں دستیاب تھیں، ہر پندرہ منٹ بعد یہاں سے فیری چل رہی تھی، غرض پورا جہان اس قصبے میں آباد تھا۔ اولم شہر سے یہ جگہ دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے۔ اولم جرمنی کا چھوٹا سا شہر ہے مگر اسے آئن سٹائن کی جائے پیدائش ہونے کا فخر حاصل ہے، اس بات پر ہی اس شہر کو سیلوٹ کرنا بنتا تھا سو وہ کیا۔ اس شہر کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ یہاں ائیر بس کے پرزے بنائے جاتے ہیں، سیمنز جیسی بڑی کمپنیوں کے یہاں کارخانے ہیں ،چپے چپے پر انڈسٹری لگی ہے، دنیا کا سب بلند چرچ بھی اولم میں واقع ہے، اس چرچ کے اردگرد ایک وسیع جگہ ہے اور پھر نیم دائرے کی شکل میں شاپنگ سنٹر بنائے گئے ہیں اور یوں شام کو یہ علاقہ اولم کی چہل پہل کا مرکز بن جاتا ہے۔

جرمنی کی حیرت انگیز بات دوسری جنگ عظیم کی شکست کے بعد دوبارہ نہ صرف اپنے پیروں پہ کھڑا ہونا بلکہ یورپ کا چودھری بننا ہے، اس کایا کلپ کا راز اسی کلیے میں پوشیدہ ہے جو انسان ذاتی کامیابی کے لئے اپناتے ہیں، یعنی کسی ایک کام میں اعلیٰ درجے کی مہارت پیدا کرنا اور اُس میں ایمانداری سے جُت جانا، جرمنی نے یہ مہارت آٹو انڈسٹری میں پیدا کی اور پھر دیانت کو اپنا شعار بنایا، جرمن لوگ اپنے کام کو عبادت سمجھ کے کرتے ہیں، معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ آج دنیا کی آٹو انڈسٹری پر جرمنی کا راج ہے، جس شے پر میڈ اِن جرمنی لکھا ہو اسے لوگ آنکھیں بند کرکے خریدتے ہیں۔ جرمنی آکر اِس بات کا احساس ہوتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے زخم اب بھی اِن کے ذہنوں میں تازہ ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ جب یہاں مہاجرین کی ٹرینیں آ کر رکیں تو جرمنوں نے انہیں یوں گلے لگایا جیسے ان کے بچھڑے ہوئے بھائی بہن آئے ہوں، لوگ ان کے لئے کھانے پینے کی چیزیں، بستر، کپڑے، پھولوں کے ہار لئے کھڑے تھے، جرمن حکومت نے انہیں رہائش، کھانے پینے، مشاہرے اور گھر کے کرایے سمیت ہر سہولت دی اور اِن لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں۔ یہ لوگ اب یورپ کے دل میں رہتے ہیں، اپنا گھر بار تو چھوڑ آئے مگر یہاں پہنچ کر انہیں وہ تحفظ ملا جس کا تصور وہ اپنے جنگی علاقوں میں نہیں کر سکتے تھے۔ زندگی بھی عجیب ہے، شام میں جنگ چھڑی، لوگ بحیرہ روم کے راستے یورپ میں داخل ہوئے، کچھ بیچ سمندر میں ہی مر گئے اور کچھ اب جرمنی کے آہنی ہاتھوں میں محفوظ ہیں۔ یہ خوش قسمت لوگ ہیں ورنہ یمن میں تو بچے فاقوں سے مر رہے ہیں اور اُ ن کی کہیں خبر بھی نہیں آتی۔

جرمنی سمیت یورپ میں پانچ باتیں ایسی ہیں جو قدر مشترک ہیں۔ پہلی، ڈرائیونگ لائسنس۔ جرمنی کی شہریت لینا آسان ہے مگر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا مشکل، ڈرائیونگ کی پوری کتاب ہے جس کا امتحان دینا پڑتا ہے، پریکٹیکل اس کے بعد ہوتا ہے، امتحان لینے والا گاڑی میں ساتھ بیٹھتا ہے اور پیچیدہ گلیوں میں کار چلوا کے دیکھتا ہے، کہیں غلطی ہوئی اور آپ فیل، تین مہینے کے لئے چھٹی۔ جرمنی غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ہائی وے پر رفتار کی حد نہیں مگر اس کے باوجود حادثات کی شرح بے حد کم ہے اور وجہ ڈرائیونگ لائسنس کی سختی۔ دوسری قدر مشترک work ethicsاور دیانت ہے، اگر آپ نے کسی کو آٹھ گھنٹے کے لئے ہائر کیا ہے تو وہ اپنا کام پوری دیانت سے کرے گا، ایمانداری کی انہیں عادت پڑ چکی ہے، عالم یہ ہے کہ کسی باغ سے پھول توڑنے کو اگر دل چاہ رہا ہے تو بیشک توڑ لیں اور پیسے ساتھ رکھے ڈبے میں ڈال دیں، کوئی چوکیدار وہاں موجود نہیں ہوگا۔ تیسری بات، یورپی اقوام نے اپنے ملکوں میں ایک سسٹم ترتیب دے دیا ہے، اس سسٹم سے باہر کچھ نہیں ہے، سب کچھ اس سسٹم میں فیڈ ہے، اگر آپ اِن سے کوئی ایسی بات پوچھ لیں جو سسٹم میں موجود نہیں تو پھر بے شک لاکھ سر پٹختے رہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا، ایک لکیر انہیں کھینچ دی گئی ہے اور بتا دیا گیا ہے کہ اس لکیر پر چلنا ہے، دائیں بائیں ہونے کی صورت میں سسٹم ذمہ دار نہیں۔ چوتھی قدر مشترک، حد سے بڑھی ہوئی انفرادیت، یہاں It’s my lifeکا اصول اس قدر شدت سے لاگو ہوتا ہے کہ میاں اگر بیوی سے پوچھ لے کہ تم کس سیاسی جماعت کو ووٹ ڈال کر آئی ہو تو وہ لڑنے پر آمادہ ہو جاتی ہے کہ یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے، تم نے دخل اندازی کیوں کی!It’s my lifeکے اصول نے مغرب کو ایک دوجے سے اس قدر بیگانہ کر دیا ہے کہ محبت کے دعویدار لڑکا لڑکی جب ریستوران میں کھانے کا بل ادا کرتے ہیں تو اپنے اپنے پیسے خود دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو جس لڑکی سے محبت ہو جائے اس کے بعد تو لڑکی کے گھر والوں کا خرچہ بھی لڑکا اٹھاتا ہے۔ اسی مادیت کی وجہ سے اب یہاں شادیوں کا رواج کم ہے، جرمن لوگ اب بچے پیدا کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ انسانوں سے زیادہ اب یہ لوگ کتوں سے محبت کرتے ہیں، شاید انسان کے اندر کی کمینگی کا اندازہ اِن لوگوں نے لگا لیا ہے۔ پانچویں قدر مشترک ہے شہروں کی خوبصورتی اور برینڈنگ یعنی سٹی سینٹر، تاریخی مقامات، شہر کے بیچوں بیچ بہتا دریا اور بل کھاتی ٹرینیں اور ٹرام۔ یورپ کے تمام بڑے شہروں کی مثال اُس خوبصورت دوشیزہ کی سی ہے جو حسین تو ہے ہی مگر ساتھ ہی اُس نے لباس بھی اعلیٰ زیب تن کیا ہے، بدن کی خوشبو بھی مسحور کن ہے اور اعلیٰ میک اپ اُس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا ہے۔ اپنے ہاں بھی دریاؤں، پہاڑوں، سمندروں اور برف پوش چوٹیوں کے بیش بہا قدرتی نظارے ہیں مگر اِن کی مثال اُس انسان کی سی ہے جو خوبصورت تو ہو مگر اس کے جسم سے پسینے کی بُو آ رہی ہو، ہفتوں سے وہ نہایا نہ ہو، کپڑوں میں پیوند لگے ہوں اور ہونٹ کٹے پھٹے ہوں۔

ایک جیسے ہونے کے باوجود یورپ کے ہر شہر نے اپنی ایک انفرادیت ضرور رکھی ہے۔ میونخ میں اسی انفرادیت کا احساس ہوا۔ میونخ میں دیکھنے کی تین چیزیں ہیں، باغات، محلات اور نازی کنسنٹریشن کیمپ۔ یہ وہی شہر ہے جہاں 1972میں اولمپک مقابلوں میں فلسطینیوں نے گیارہ اسرائیلی کھلاڑیوں کو یرغمال بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔ محلات کا احوال یہ ہے کہ Bavarianبادشاہ یہاں Nymphenburg Palaceمیں گرمیاں گزارنے آتے تھے، محل کیا ہے ایک پوری دنیا ہے، تا حد نگاہ سرسبز جنگل نما میدان اور بیچ میں ایک بڑی سی جھیل اور پھر قطار اندر قطار کمرے ،محل کو فقط دیکھ کر ہی آنکھیں تھک گئیں، نجانے بادشاہ ان میں کیسے رہتے تھے۔ جرمنی کا سب سے بڑا کنسنٹریشن کیمپ بھی میونخ میں ہے، اِس کیمپ میں ایک پوری تاریخ ہے، یہاں آکر احساس ہوتا ہے کہ یہ اقوام کس قسم کے ادوار سے گزریں اور کیسے انہوں نے خود کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اپنے آپ کو دنیا کی طاقتور ترین اقوام میں شامل کیا۔ میونخ کے اس کنسنٹریشن کیمپ میں درد اور دکھ کی ایک داستان ہے، ہزاروں بے گناہ لوگ جو دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے کمانڈرو ں کے ہاتھوں گیس چیمبرز میں دم گھونٹ کر مارے گئے اُن کی کہانیاں ہیں، جرمنی کی آنے والی نسلیں اِس مرگ انبوہ کو اپنے دل و دماغ سے نکال پائیں گے یا نہیں، اس کا ذکر پھر کبھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 156 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada