عاصمہ جہانگیر: آج کی کالی بھیڑ۔۔۔ 2050ء کی ہیرو!


گروہی نفسیات کی حرکیات میں “بلیک شیپ ایفیکٹ ” بہت اہم ہے۔ گروہ میں افراد “گروہ میں پسندیدہ افراد” کی جانب جھکاؤ کو ترجیح دیتے ہیں۔ گروہ کی عمومی سوچ سے متصادم سوچ “بلیک شیپ ایفیکٹ” کا شکار ہوتی ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے” سبجکٹو گروپ ڈائنمک تھیوری” کو بھی نوٹ کر لیجئے۔ گروہ کے اندر کسی فرد کی گروہ سے متصادم سوچ کو، زیادہ تحقیر سے دیکھا جاتا ہے نسبتاً گروہ کے باہر، کوئی فرد یہی خیال دے رہا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گروہ اپنے اندر کی متصادم سوچ کو بقا کے حوالے سے نسبتاً بڑا خطرہ محسوس کرتا ہے۔

اگر پرویز مشرف یہ کہے کہ، “ڈکٹیٹر وں نے ملک ٹھیک کیا، سویلینز نے بیڑا غرق کیا” تو ان کے اس بیان کو عمومی سطح پر غلط نہیں سمجھا جائے گا۔ گروہ میں 70 برسوں سے جس بیانیے کو فروغ دیا گیا یہ بیان اس سے متصادم نہیں، بلکہ اس کی تائید کرتا ہے۔ 21 صدی کے دوسرے عشرے میں فکری سطح یہ ہو کہ دہائیوں سے ایک فقرہ دہرایا جاتا رہا ہو۔۔ “سیاستدان ملک لوٹ کر کھا گئے، یہ تو فوج ہے جس نے ملک بچایا ہوا ہے”۔ تو ایسے معاشرے میں پرویز مشرف کا قانون، تہذیب اور بنیادی انسانی حقوق کا مذاق اڑانے والا یہ قول۔۔۔ ایک ہیرو کا قول دکھائی دے گا۔

1983 ء پرآشوب دور تھا۔ حسب توقع مذہبی طبقے کی اکثریت، جو ملوکیت میں فینٹسی تلاش کرتی ہے، تسبیح سمیت ڈکٹیٹر کےمقدس چرنوں میں بیٹھی اس کے حسن خیال کی مدح کر رہی تھی۔ اس دور کا المیہ یہ تھا کہ اہل دانش کا کچھ طبقہ بھی قلم پر تھوک لگا لگا کر ڈکٹیٹر کے فضائل پر دفتر کے دفتر لکھ رہا تھا۔ مجھے معاف کیجئے اشفاق احمد اور بانو آپا میرے محسن ہیں اور ادب کے درخشندہ ستارے ہیں اور میں ان کا بے حد احترام کرتا ہوں لیکن یہ آج تک نہیں سمجھ سکا کہ احمد فراز کو غم و مایوسی میں ڈوب کر یہ لازوال مصرعے کیوں تخلیق کرنے پڑے۔۔

تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے

وہ آسمان ِہنر کے نجوم سامنے ہیں

بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا

گداگران ِسخن کے ہجوم سامنے ہیں

قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو

تمھارے ساتھ ہے کون؟ ‌آس پاس تو دیکھو

تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو

تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو

(محاصرہ)

یہ وہ وقت تھا جب لکیر کے اس پار معدودے چند تھے۔ ان چند میں عاصمہ جہانگیر تھیں۔ جمہوریت بحالی مہم میں جیل ہو گئی۔

پھر ایک اور ڈکٹیٹر آیا۔ اب کے پلے سے باندھا جو مال تھا اس میں روشن خیالی کے دمکتے ہیرے تھے جن سے ایک دفعہ پھر اہل دانش کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں۔ دل رنجیدہ ہے کہ احمد فراز نے اس دور میں ہلال امتیاز قبول کیا۔ (بعد میں واپس کر دیا)

یہاں پھر چند تھے جو لکیر کے اس پار تھے ان میں عاصمہ جہانگیر تھیں۔ عاصمہ جہانگیر گھر میں نظر بند ہو گئیں۔

فیض صاحب کے شریف النفس ہونے میں کسے اعتراض لیکن غدار اس لیے تھے کہ گروہ میں غالب خیال سے متضاد بات کرتے تھے۔

فاطمہ جناح کے مادر وطن ہونے میں کسے کلام لیکن 1964 میں بھارت کی ایجنٹ اس لیے قرار پاتی ہیں کہ رائج بیانئے کی ستائش نہیں کرتیں۔

اور یہ ایک لمبی فہرست ہے۔۔

ایک عجب سماجی سوچ کا نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے۔۔۔ عقل اور انسانی تجربے کی نچوڑ دانش کے معیار پر بات کرنے والے پسماندہ معاشروں میں مرنے کے اوسطا 30 سے 40 سال بعد ہیرو قرار پاتے ہیں۔ یہ رفتار اب کافی زیادہ ہے وگرنہ ابن رشد کے گناہ معاف ہونے اور غیر متنازعہ ہیرو بننے میں صدیاں لگ گئیں۔ عاصمہ جہانگیر ان چند افراد میں ہیں جو اپنی سوچ میں پہلے دن سے واضح ہیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ “میں 20 سال پہلے نظریاتی نہیں تھا لیکن اب نظریاتی ہو گیا ہوں “۔ تو میں اس کو بھی خوش آئند اور بڑی کامیابی سمجھتا ہوں لیکن ان نابغوں کے کیا کہنے جو حق و باطل اور قانونی و لاقانونیت میں عملی زندگی میں پہلے دن سے واضح ہوں۔ (عاصمہ جہانگیر کی ایک خوش قسمتی ان کا خاندانی پس منظر بھی ہے)۔ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں لیکن بہت پراثر ہوتے ہیں۔ ان کے توانائیاں پہلے دن سے ایک ہی سمت میں خرچ ہوتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو ہماری طرح ماضی کی سوچ اور بیانات سے شرمساری نہیں ہوتی۔

ڈان نے ایک دفعہ ایک ہی فقرے میں عاصمہ جہانگیر کی ساری شخصیت کو سمو دیا تھا۔

“Calculated aggression, wit and sharp one-liners.”

عاصمہ جہانگیر کے چہرے میں ایک سخت گیر ماں کے تاثرات نمایاں ہیں۔ ایک ماں جو بچوں کی فلاح کی خاطر نہ قید و بند سے گھبراتی ہے نہ قتل کی دھمکیوں سے۔ بچے بھٹک جاتے ہیں۔ کبھی آمروں کو اچھا سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ کبھی کسی ایسے قانون کو مقدس سمجھ بیٹھتے ہیں جس کے پیچھے خاص مقاصد کے حصول کی خواہش کارفرما ہوتی ہے۔ وہ سب دیکھتی ہے۔ بچوں کے ہاتھ انگاروں کی جانب بڑھتے دیکھتی ہے تو چہرے پر مزید سختی لاتی ہے۔ متنبہ کرتی ہے۔ کبھی کوئی اچھی خبر، جس کا امکان ہمارے ہاں کم ہوتا ہے، سناتی ہے تو مسکراہٹ سے چہرہ شفیق ہو جاتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر پاکستان کا کیسا خوبصورت صاحب کردار چہرہ ہے جس کی کبھی کسی گروہ سے نسبت نہیں رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے سول مارشل لا کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں اور آئین کے بننے میں اہم قابل ذکر کردار ادا کیا۔ ڈکٹیٹر ضیا الحق کے خلاف ڈٹی رہیں۔ بی بی بے نظیر کی قریبی دوست ہونے کے باوجود مسلسل ان پر تنقید کرتی رہیں۔ نواز شریف کے ہر دور میں ان کو آئینہ دکھایا۔ جنرل مشرف کے مارشل لا کے خلاف سب سے توانا آواز رہیں۔ آصف علی زرداری حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی۔ عدلیہ کو تو کسی دور میں عاصمہ جہانگیر نے تنقید سے نہیں بخشا۔ فوج کی غلط پالیسیوں اور دخل اندازیوں پر چیختی رہیں۔ طالبان کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود طالبان پر اس وقت کھل کر تنقید کی جب ریاست گومگو کا شکار تھی اور عمران خان طالبان کے دفتر کھولنے کے حامی تھے اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا تناسب 40 فیصد بتا کر قوم کے حوصلے پست کر رہے تھے۔۔۔

یہ بی بی کسی کی نہیں۔ عاصمہ جہانگیر کی زندگی کا حاصل کیا یہ کم ہے کہ ان کا قد، کسی ادارے یا سیاسی جماعت سے وابستگی سے بہت بالا ہے۔

ان کا بد ترین دشمن بھی کرپشن کا الزام لگانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

جہاں جھوٹ گھوڑے پر سوار ہو، وہاں پیادہ سچ بولنے والا صرف رسوا ہوتا ہے۔ لیکن سچ کو دوام حاصل ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب مجموعی شعور سچ کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔ اس وقت ایسے لوگ قومی ہیرو قرار پاتے ہیں۔

فیس بک پر کبھی دیکھتا ہوں کہ ان کے خلاف مہم میں ایسی تصاویر شامل ہوتی ہیں جن میں وہ سگریٹ پی رہی ہیں۔ واللہ ہماری دادیاں نانیا ں پوری زندگی حقہ پیتی رہیں۔ اور جب شہروں میں بچوں کو ملنے جاتیں جہاں حقہ نہیں ہوتا تھا وہاں سگریٹ ہی پیتی تھیں۔ دانشورو! اس قباحت کا عظمت کردار سے کیا تعلق؟

فیس بک پر کبھی دیکھتا ہوں کہ زرد رنگ میں ملبوس عاصمہ جہانگیر کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔ کاش ایسی پوسٹیں کرنے والوں کو بسنتی رنگ کی تاریخ کا علم ہوتا۔ کاش انہوں نے خسرو کی درد بھری اور محبت سے بھرپور شاعری میں بسنتی رنگ کی اہمیت کو جانا ہو تا۔ مخدوم ٹیپو سلطان کی کتاب “تاریخ پاکستان کے متنازع ادوار ” پڑھ لیجئے۔ شاید آپ کو دھرتی سے جڑی دانش سمجھ آ جائے اور اس سے پیار ہو جائے۔ عاصمہ جہانگیر سمجھ میں آ جائے!

عاصمہ جہانگیر کی سیاسی رائے بہت واضح ہے۔ ان کے خیالات لگی لپٹی کے بغیر تاریخ کے صفحوں کی زینت بنتے چلے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کے خلاف حاشیہ آرائی بصورت دشنام بھی رقم ہو رہی ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا ء80 کی دہائی کا سچ اس وقت کا جھوٹ اور آج کا سچ ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا آج کا سچ، آج کا جھوٹ اور 2040 کی دہائی کا سچ ہو گا۔۔۔

2050 ء کے طالبعلم کے سامنے ایک ایسی کتاب ہو گی جس پر عاصمہ جہانگیر کے خیالات تو رقم ہوں گے لیکن حاشیہ آرائی زمانے کی گرد کی نذر ہو چکی ہو گی۔ تاریخ کا چلن یہی ہے۔ آج کی کالی بھیڑ۔۔ 2050 میں ہیرو ہو گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 108 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik