جی ٹی روڈ ۔ کیا وہ لمحہ آن پہنچا


نواز شریف نے عدالتی فیصلے پر خاموش رہ کر پہلا پتہ کھیلا تھا۔ اس خاموشی میں خاقان عباسی کو وزیراعظم منتخب کروا کر دوسرا پتہ کھیلا گیا۔ اپنی مرضی کی کابینہ بنوا کر تیسرا پتہ سامنے آیا۔ یہ کہہ کر اپنے مخالفین کو رانگ فٹ پر کھلایا گیا کہ خاقان عباسی عارضی وزیراعظم ہے۔ موٹر وے پر آنے کا کہہ کر ایک بار پھر رانگ فٹ پر کھلایا گیا۔ اور اب جی ٹی روڈ کے ذریعے آنے کا فیصلہ۔

یہی حقیقی سیاست ہے۔ اپنے کارڈز شو نہ کرنا۔ ھر کوئی سمجھ رہا ہے۔ استقبال کتنا زبردست ہو گا۔ یہ عوامی فیصلے کو شو کرے گا۔ نواز شریف کا پاور آف شو۔ اسی کو لے کر اب تک نواز شریف کو ڈرایا جا رہا تھا۔ لیکن اس نے ڈرنے کی بجائے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب سوچیں وہ جگہ جگہ خطاب کرے گا۔ لوگوں کا جم غفیر ہو گا۔ راولپنڈی سے نکل کر پوٹھوہار کی مارشل بیلٹ میں داخل ہو گا۔ فوجی آمروں اور عدلیہ کی کہانیاں بیان کرے گا۔ سازشوں کو ننگا کرے گا۔ مارشل بیلٹ سے گجرات، اور پھر گوجرانوالہ سے ہوتا ہوا لاہور میں داخل ہو گا۔ تو کیا منظر ہو گا۔ لوگوں سے آخری جنگ کا عہد لے گا۔ جو راولپنڈی اور اسلام آباد میں لڑی جائے گی۔

شاید ہم پاکستان کی تاریخ کے ڈیفائنگ مومینٹس میں داخل ہو رہے ہیں۔ جب اسٹیبلشمنٹ کے اپنے پسندیدہ پنجاب کے میدانوں سے اسے للکارا جائے گا۔ اور نواز شریف کی یہ کامیابی ہو گی۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو ن لیگ کی حکومت ختم کرنا ہو گی۔ نواز شریف کو پکڑ کر جیل میں ڈالنا ہو گا۔ کیا اسٹیبلشمنٹ یہ رسک لے سکتی ہے؟ لیکن یاد رہے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں آپ کا ناجائز قبضہ چند مہینوں میں چھڑوا لیں گی۔ اسٹیبلشمنٹ ایک ہی وقت میں بہت ظالم ہے۔ کم عقل بھی ہے۔ اور کم حوصلہ بھی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ممتاز قادری سیاست پر کیا اثرات ڈالے گا؟

یہاں بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ بے نظیر سڑک پر قتل کر دی جاتی ہے۔ نواز شریف کو جیل میں پھنکوا دیا جاتا ہے۔ بگٹی کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ قوتیں پھر کوئی ایسا بھیانک کھیل کھیلنے کو تیار ہیں؟ کیا نواز شریف کی زندگی کو خطرہ ہے؟ لیکن اس کے ردعمل سے بھی واقف رہیں۔ پنجاب آپ کی آخری جائے پناہ ہے۔ آپ آج تک سیاسی لیڈروں کو ڈراتے آئے ہیں۔ اب شاید آپ کے ڈرنے کے دن آ رہے ہیں۔ نواز شریف خاموش رہتا۔ یا سڑک پر نکلتا۔ آپ نے دونوں صورتوں میں اسے جیل ڈالنا تھا۔ اب دیکھتے ہیں۔ اس ملک کی تقدیر میں کیا لکھا ہے۔ لیکن اس ملک کا استحکام صرف نواز شریف کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اداروں کی بھی ذمہ داری ہے اور ان عناصر کی بھی جو قانون اور آئین اور انصاف پر چلنے کو تیار نہیں ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

طارق احمد کی دیگر تحریریں
طارق احمد کی دیگر تحریریں