پٹرول میں کفایت ، علم رمل اور جنتری


husnain jamal (3)سنا جاتا ہے شہر عشق کے گرد
مزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں

آج ایک عرصے بعد بہت مزے کی کتاب ہاتھ لگی، پڑھتے گئے اور واہ واہ کرتے گئے۔ بچپن کے دن یاد آ گئے، عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے، کتاب کیا ہے زندگی کرنے کا جدولی سلیقہ ہے۔ آپ نے خواب میں کوئی اوٹ پٹانگ چیز دیکھ لی، اس کی تعبیر آپ کو یہاں ملے گی۔ آپ سوال کریں، آپ کے سوال ہی کو مدھول کے اس میں سے جواب نکال لیا جائے گا۔ جواب علم جفر کی مدد سے نکلے گا۔ سوال میں موجود تمام حروف ابجد جو جمع وغیرہ کر کے اور کوئی بھی داو¿ لگا کر جواب بہرحال گول مول سا حاضر ہو گا۔ حتیٰ کہ ایک صاحب نے سوال کیا، بتائیے کیا آپ کے علم (علم جفر) کی رو سے یہ رمل اور جفر واقعی درست علوم ہیں، بڑی خوب صورتی سے مثبت جواب نکالا گیا اور بغیر کسی پریشانی کے بتا دیا گیا کہ ہاں بھئی درست ہی ہیں۔ پھر آپ کو یہاں مبارک اور منحوس دن ملیں گے، سفر کرنے کے لیے اور سفر ہرگز نہ کرنے کے لیے مناسب دن بتایا جائے گا۔

شادی بیاہ و دیگر تقریبات کے لیے مناسب دن کا علم آپ کو یہیں سے ملے گا اور ساتھ ساتھ ہر اس کام کے لیے تعویز بنانے کے مجرب نسخے ملیں گے جو عام حالات میں مشکل ہی نہیں ناممکن تصور کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً محبوب کو قابو کرنا، شوہر کو قابو کرنا (اور اگر ایک محبوب کسی دوسرے کا شوہر بھی ہو، اور دونوں خواتین اس کتاب والے نسخے لڑا رہی ہوں تو کیا کیا جائے؟)، لاٹری کا ٹکٹ خریدنا، امتحان میں کامیاب ہونا (یقیناً بغیر پڑھے) اور کئی دوسرے معاملات کے تعویز۔ اس سب کے علاوہ بھی بھانت بھانت کا علم زبردستی آپ کے حلق میں انڈیلا جاتا ہے۔

یہ جنتری ہے۔

مشتے نمونہ از خروارے چند چیزیں دیکھتے ہیں۔

??????????

ایک تعویز دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک بدکار شخص کو تین بار آگ میں ڈالا گیا مگر وہ نہ جلا، پھر پانی میں ڈالا گیا تو وہ اس میں بھی نہیں ڈوبا، پھر اس کی گردن پر شمشیر چلائی وہ بھی کارگر نہ ہوئی (واقعی کمال ہے) اور پھر جب وجہ دریافت کی گئی کہ صاحب بدکار کے پاس یہ تعویز موجود تھا جس نے انہیں تمام آفات و بلیات سے محفوظ رکھا۔

اب ایک نسخہ کہ جو کام کر جائے تو واقعی کیمیا ہو، یہ تھا کہ ٹنکی بھروانے کے اول و آخر فلاں مقدس کلمات کا ورد کر لیں تو پٹرول زیادہ دیر چلے گا۔ صاحب قوم بڑی ظالم ہے، پانی سے گاڑی چلانے کے غلط دعوے آئیں تو بھی لوگوں کو سر آنکھوں پر بٹھا لیتی ہے، کوئی کشش ثقل سے انکار کرے تو باقاعدہ پریس کانفرنس میں اس کو سنا جاتا ہے، کوئی جنوں بھوتوں سے بجلی پیدا کرنا چاہے تو اس پر بھی کانفرنسیں ہو جاتی ہیں، نہیں پوچھتا تو کوئی ہمیں نہیں پوچھتا، نہ معلوم کتنے نوری برس سے یہ نسخہ ایسا ہی چھپتا چلا آ رہا ہے اور کوئی محقق اس کوچے میں وارد ہی نہیں ہوتا۔ کئی جہات ہو سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے اس طریقے پر عمل کرنے کے بعد آپ کو سفر کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے اور پٹرول زیادہ عرصہ نکال جائے، یا پھر یہ ہو کہ آپ کو ٹریفک ہی نہ ملے اور سنجی گلیوں میں یار مرزا سواری دوڑاتا پھرے، یہ بھی ممکن ہے انجن کی گراریوں کو ہی کچھ حیا آ جائے اور وہ غیبی طاقت کی مدد سے سواری دوڑاتی رہیں، خود پٹرول پھونکنے سے احتراز کریں اور تو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غیب سے ایک مکمل ہائبریڈ سواری ہی عطا ہو جائے اور پٹرول یا بھرن کے جھنجھٹ سے ہی چھوٹ جائیں۔ غرض اس جہان معانی و فانی میں کچھ بھی ممکن ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں اپنے میر صاحب؛

سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا

اونٹنی کے دودھ کی کھیر اور جنگلی کبوتر کے گوشت کا شوربہ کچھ تکالیف کے علاج کے واسطے تجویز کئے گئے۔ ایک تعویز ہرن کی جھلی پر بنایا جائے تو سود مند ٹھیرے، شیر کی کھال بھی کچھ نقش بنانے کے لیے بہ کار ہوئی اور بس ایک اور بھلا سا شعر یاد آ گیا؛

02درد سر کے واسطے صندل لگانا ہے مفید
پر اسے گھس کر لگانا درد سر یہ بھی تو ہے

دعا مانگنے کے مخصوص اوقات پر مبنی جدول کے مطابق آج بروز سنیچر فقیر کوئی دعا نہیں مانگ سکتا، دعا جمعرات کو صبح چھ سے سات یا ایک سے دو بعد دوپہر مانگی جانی چاہئیے تھی، چوں کہ وقت نکل گیا اب بیٹھے ڈھول بجائیے۔ چاہے کیسی ہی موت کیوں نہ پڑ جائے، دعا کا وقت نکل گیا صاحب!

پاکستان کے وہ حالات جو ہم لوگ الحمدللہ تھڑوں پر بیٹھ کر بتا سکتے ہیں، یار لوگ ان پیش گوئیوں میں بھی مشتری اور زحل کو زحمت دیتے ہیں؛

طالع جوزا پانچ درجے افق پر، حاکم طالع دسویں گھر، نحس حالت میں، ملکی وقار اور صدر پاکستان کے وقار میں (مزید؟) کمی کا امکان۔

ساتویں گھر زحل کی قوس میں موجودگی مریخ کے ساتھ، وزیر اعظم پر عالمی دباو¿ بڑھے گا۔

مشتری کی نحس حالت میں چوتھے گھر موجودگی، عوام الناس پر ٹیکس میں اضافہ ہو گا۔

غور کیجیے گا، “قومی ٹیمیں اس سال اچھے کھیل کا مظاہرہ کریں گی۔”

بھارت اور امریکہ کے برے دن انہی مشتری، عطارد اور زحل وغیرہ کی وجہ سے بس آئے ہی سمجھیے کہ ان بے چاروں کے باب میں ہماری جنتری کچھ بھی سعد کہنے سے گریزاں ہے۔

اب عالمی پیش گوئیوں میں مصنف جذباتی ہو کر کالم کلامی پر اتر آئے ہیں، فقط ایک سطر ملاحظہ کیجیے؛ کون کہتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے، یہاں حاکمیت قائم ہے، میں مثال دیتا ہوں۔۔۔۔۔ وعلی ھذالقیاس

ایک ٹکڑا حاملہ خواتین کو تنبیہ کا ہے، متن کچھ یوں ہے؛

گرہن کے اوقات میں گھر کے اندر چت لیٹی رہیں، چھری اور قینچی کا استعمال نہ کریں، پیٹ پر کسی قسم کا دباو نہ ڈالیں۔

??????????

اور اس کے بعد ایک نوٹ ہے کہ “تمام گرہن چاہے دنیا کے کسی خطے میں ہوں، اثرات رکھتے ہیں۔” گویا مطلوب و مقصود یہ ہے کہ حاملہ نو مہینے چت لیٹی کرہ ارض کی گرہن شماری کرتی رہے اور دنیاوی امور سے باز آئے۔

ایک تعویز کی کرامات ملاحظہ کیجیے؛

یہ عمل مجھے میرے روحانی محقق سے ملا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ فلاں سن میں ان کی ملاقات بابا جی سے ہوئی۔ اس ملاقات میں ایک لاجواب مشاہدہ کیا گیا، علامہ صاحب نے تعویز تیار کیا اور اسے ایک بکری کے گلے میں ڈال دیا گیا، بکری کو ذرا فاصلے پر باندھ دیا، ایک ماہر نشانے باز کو بلایا گیا اور اسے کہا کہ اس پر فیر کرو۔ نشانے باز نے فیر کیا مگر نشانہ خطا گیا۔ دوسری مرتبہ پھر فیر کیا مگر پھر خطا، الغرض کوئی سات مرتبہ یہ عمل دہرایا گیا مگر بکری پر کچھ اثر نہ ہوا۔ پوچھا تو معلوم ہوا کہ بابا نے تعویز میں چند کلمات ایک ترتیب سے لکھے اور بکری کو پہنا دیا تعویز، تو بکری محفوظ رہی۔

یہاں پانچ سوال اٹھتے ہیں؛

بندوق میں کارتوس چھروں والا کیوں نہیں تھا؟

نشانے باز کی مہارت کا کوئی سابقہ ایسا تجربہ؟

بکری کتنی دور بندھی تھی؟

نشانے باز کی مہمان نوازی کس مشروب سے کی گئی؟

بندوق کی نال اور شست واقعی سیدھ میں تھے؟

باقی رہے تعویز تو خدا معاف کرے ہمیں بھی ان پر اتنا ہی یقین ہے جتنا کسی راسخ العقیدہ شخص کو ہو سکتا ہے۔

دواو¿ں کے اشتہار میں چند نام موجود تھے، اختراع اور جدت ختم ہو گئی بہ خدا، بندہ پڑھے اور بس جا کر خرید لے کہ آپ اپنی قوت و اثر پذیری کے منہ بولتے اشتہار ہیں۔ “رفیقِ سپرم”، “اکسیرِ سرعت”، “رفیقِ وارث (انشاللہ بیٹا ہو گا)”

کہیے کچھ بچا؟

جی ہاں اب بھی بہت کچھ ہے۔ لیکن، چوں کہ شہر عشق ہے تو مزاریں ہی مزاریں ہوں گی، اور کیا ہونا ہے۔ ہمارے تو مزاج اور مقدر دونوں یک رنگ ہوئے جاتے ہیں۔

(چند حروف من و تو کی تصویری اشکال بھی شامل مضمون ہیں، دیکھیے اور سر دھنیے)


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 149 posts and counting.See all posts by husnain