جی ٹی روڈ کا قافلہ اور عمران خان کی پریشانی


عمران خان نے ایک بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خبروں کے مطابق نواز شریف بدھ کو لاہور روانہ ہوں گے اور راستہ میں اپنے حامیوں کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے لاہور پہنچیں گے جہاں ان کے شاندار استقبال کی تیاری کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں قانونی جنگ ہارنے کے بعد اب مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف عوامی رابطہ مہم پر زور دینا چاہتے ہیں تاکہ خود کو مظلوم ثابت کر کے 2018 کے انتخابات میں کامیابی کےلئے کام کیا جا سکے۔ اس لحاظ سے سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلہ نے اگرچہ انہیں وزارت عظمیٰ سے محروم کر دیا ہے لیکن یہ محرومی ایک نئی اور بڑی کامیابی کی نوید بھی بن سکتی ہے۔ نواز شریف ایک طرف نااہل ہونے کے باوجود امور مملکت کے نگران رہیں گے اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت ان کی مرضی اور منشا سے ہی معاملات طے کرے گی تو دوسری طرف عہدے سے علیحدہ ہونے کے بعد نواز شریف زیادہ کھل کر بات کر سکیں گے اور اس طرح اپنی کامیابی کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہی عمران خان کی پریشانی ہے۔ اسی لئے پاناما کیس کی سماعت کے دوران وہ نہ صرف نواز شریف کے نااہل ہونے کی بات کرتے تھے بلکہ اس خواہش کا اظہار بھی برملا کرتے رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہاؤس سے سیدھے اڈیالہ جیل جائیں گے۔ سپریم کورٹ عمران خان کی صرف ایک ہی خواہش پوری کر سکی۔ اب نواز شریف کی سیاسی جدوجہد میں عمران خان کو جمہوریت کے علاوہ سپریم کورٹ اور ملک کا عدالتی نظام بھی خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

عوام سے رابطہ کرنا اور ان کے سامنے اپنا موقف رکھنا ہر سیاسی لیڈر اور جماعت کا بنیادی حق ہے۔ یہ حق عمران خان گزشتہ تین چار برس سے پوری شدت سے استعمال کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے کوئی قابل عمل منشور سامنے لانے، قومی اسمبلی میں قابل قدر نمائندگی حاصل کرنے کے بعد وہاں پر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے یا خیبر پختونخوا میں معاملات درست کرنے پر سو فیصد توجہ دینے اور نیا سیاسی رویہ متعارف کروانے کی بجائے احتجاج کی سیاست اور اینٹی نواز شریف مہم کو منظم کرنے کےلئے کام کیا ہے۔ انتخابات سے صرف سال بھر پہلے وہ اس مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں لیکن اب انہیں اندیشہ ہے کہ نواز شریف کا متبادل بیانیہ اور جارحانہ رویہ ان کی چار سال کی کوششوں پر پانی پھیر دے گا اور وہ 2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں چاروں شانے چت کرنے کا جو خواب دیکھ رہے تھے، وہ شاید پورا نہ ہو سکے۔ عمران خان کا یہ اندیشہ تو درست ہے لیکن ان کا یہ موقف غلط ہے کہ نواز شریف سیاسی اجتماعات کے ذریعے ملک میں جمہوریت اور عدالتی نظام کو تباہ کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل ہونے کے بعد ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو چکا ہے اور اب وہ کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ تحریک انصاف کے لیڈر کی یہ بات خود ان کے اپنے طرز عمل اور موقف سے برعکس ہے۔ 2013 کے انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات سے لے کر پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد بدعنوانی کا سہارا لے کر انہوں نے حکومت وقت کے خلاف مسلسل عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اس مدت میں متعدد مراحل پر ان کے سیاسی مخالفین اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی ان سے یہی کہتی رہی ہے کہ احتجاج کی سیاست سے جمہوریت کمزور  ہوگی اور غیر منتخب قوتوں کو اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔ تب عمران خان کا موقف ہوتا تھا کہ احتجاج کرنا اور الزام لگانا اپوزیشن کا کام اور جمہوریت کا حسن ہے۔ اب نواز شریف اسی جمہوری حق کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس پر پریشانی نہیں ہونا چاہئے۔

تحریک انصاف کے احتجاج، پرجوش جلسوِں، دھرنے اور اسلام آباد پر دھاوا بولنے کے منصوبوں سے اگر جمہوریت کمزور نہیں ہوئی تو نواز شریف کے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے اور راستے میں چند ہزار افراد پر مشتمل افراد کے اجتماعات سے خطاب کرنے سے بھی جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کو علم ہونا چاہئے کہ نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) اسٹریٹ پاور اور احتجاجی جلسوں کے حجم کے اعتبار سے تحریک انصاف کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لاہور یا پنجاب کے کسی بھی شہر میں تحریک انصاف اب بھی مسلم لیگ (ن) سے زیادہ بڑا اور پرہنگام جلسہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کے کسی حد تک کبیدہ خاطر ’’سیاسی کزن‘‘ طاہر القادری بھی اس موقع پر ہاتھ بٹانے کے لئے پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔ وہ اگرچہ اب عمران خان سے اتنا زیادہ خوش نہیں ہیں لیکن نواز شریف دشمنی میں وہ تحریک انصاف کے قائد جتنے ہی پرجوش ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان اپنے سیاسی کارتوس دھاندلی اور بدعنوانی تحریک میں استعمال کر چکے ہیں جبکہ طاہر القادری کے پاس ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کا ہتھیار ابھی موجود ہے، جسے انہوں نے پوری طرح استعمال نہیں کیا ہے۔ کیونکہ انہیں ان شہیدوں کے ورثا کو حق دلوانے سے پہلے کینیڈا اور یورپ میں بعض ضروری کام نمٹانا تھے۔ اب وہ یورپ میں ’’جہاد مکاؤ‘‘ تحریک کے ذریعے یورپی لیڈروں پر اپنی دھاک بٹھانے کے آخری مرحلہ میں ہیں اور پاکستان پہنچ کر ایک بار پھر ماڈل ٹاؤن سانحہ کو زندہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

عمران خان کی مشکل البتہ یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے کی قیادت میں کام نہیں کر سکتے۔ گزشتہ چند برس کے دوران انہوں نے اس سیاسی رویہ کا بھی مظاہرہ کیا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے علاوہ کسی دوسرے لیڈر اور سیاسی جماعت کی مقبولیت اور عوامی تائید کو بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اسی لئے وہ ایک ہی سانس میں نواز شریف کو چور اور آصف زرداری کو ڈاکو قرار دے کر سب سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس رویہ کے ساتھ انہوں نے گزشتہ تین برس کے دوران سیاسی توجہ تو حاصل کی ہے، خبروں میں بھی رہے ہیں، حامیوں کی آنکھ کا تارا بھی بنے ہیں، تبدیلی کا استعارہ بھی کہلائے ہیں لیکن ووٹ بینک میں اضافہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس لئے فطری طور پر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مدمقابل میدان سے ہٹا دیئے جائیں تاکہ ووٹروں کے پاس عمران خان کے علاوہ کوئی متبادل نہ ہو۔ نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد انہیں اس بارے میں جو ہلکی سی امید پیدا ہوئی تھی، بوجوہ اب پریشانی میں تبدیل ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) عمران خان اور متعدد مبصرین کے اندازوں کے برعکس کامیابی سے نیا وزیراعظم لانے اور کابینہ بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ نواز شریف نااہل ہونے کے باوجود باحوصلہ ہیں اور سیاسی مہم کےلئے آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ عائشہ گلالئی کے الزامات کی روشنی میں عمران خان کو خود سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔ پیپلز پارٹی خود کو مجتمع کرنے اور آئندہ انتخابات میں پنجاب میں زیادہ نمائندگی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ عمران خان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف جس پرجوش طریقے سے گفتگو کرتے رہے ہیں، اس کی روشنی میں یہ خواب بھی منتشر ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کی قوت توڑنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں وزیراعظم ہاؤس تک عمران خان کے سفر میں ایک سے زیادہ رکاوٹیں حائل ہیں۔ اس بات کا بھی امکان نہیں ہے کہ جو خفیہ قوتیں اور بادشاہ گر نواز شریف کو قبول کرنے کےلئے تیار نہیں تھے، وہ عمران خان جیسے سچائی اور راستی کے خود ساختہ اور منہ پھٹ علمبردار کو ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی عہدہ پر قبول کر لیں گے۔

یہ منظر نامہ عمران خان کےلئے مزید سیاسی مشکلات کی نشاندہی کر رہا ہے۔ ان کا یہ اندیشہ تو بے بنیاد ہے کہ نواز شریف ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹنا چاہتے ہیں کیونکہ موجودہ حالات میں جمہوری انتخاب میں ایک بار پھر شاندار کامیابی ہی ان کےلئے سرخرو ہونے کی واحد امید ہے۔ مرکز اور پنجاب میں ان کی حکومت ہے۔ وہ ان حکومتوں کو کمزور اور انتشار کے ذریعے سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔ جہاں تک عدلیہ کا تعلق ہے تو ایک تو سپریم کورٹ اپنی حفاظت کرنے کا خود ہی اہتمام کر سکتی ہے۔ اسے عمران خان یا دیگر سیاسی لیڈروں کے بیانات یا احتجاجی جلسوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر سپریم کورٹ اپنی طاقت، صلاحیت اور عزم کا اظہار کر چکی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ 28 جولائی کے فیصلہ کو جس کمزور قانونی بنیاد پر استوار کیا گیا ہے، اس نے سپریم کورٹ کی قوت فیصلہ، صلاحیت، قانون پسندی اور آئین کی درست تفہیم کے حوالے سے متعدد سوالوں کو جنم دیا ہے۔ لیکن ان سوالوں نے جن کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے، انہیں دور کرنے کےلئے عدالت عظمیٰ ہی کو اقدام کرنے ہوں گے۔ عمران خان کی فکر مندی سے یہ معاملات طے نہیں ہو سکتے۔ ملک میں جمہوری نظام کا تسلسل نواز شریف کے علاوہ سپریم کورٹ کے بھی مفاد میں ہے۔ تب ہی وہ ملک کے رہنما کو نااہل قرار دے کر اپنی اتھارٹی کا اظہار کر سکتی ہے۔ کسی فوجی آمر کے خلاف تو ایسا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

سیاسی پیچیدگیوں اور مشکلات کے باوجود اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ عمران خان ایک مقبول لیڈر ہیں اور ملک کا ایک قابل قدر طبقہ اس سے سیاسی تبدیلی لانے کی توقع بھی رکھتا ہے۔ تاہم تحریک انصاف اور عمران خان کو یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ ان کے علاوہ دوسری پارٹیوں اور لیڈروں کو پسند کرنے والے لوگ بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ جمہوریت میں کامیابی حاصل کرنے ہی صرف ووٹ لینا کافی نہیں ہوتا بلکہ ملک یا حلقہ کے تمام ووٹروں کے حق رائے کو تسلیم کر کے ان سب کے لئے کام کرنے کے عزم کا اظہار بھی اہم ہوتا ہے۔ اسی لئے جمہوری انتخاب کے بعد خواہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا خود پسند لیڈر ہی سامنے کیوں نہ آئے، اسے یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ سب لوگوں کا رہنما ہے اور سب کے فائدے کے لئے کام کرے گا۔ اسی طرح پارلیمانی نظام حکومت میں مقبول ترین جماعت کو بھی دوسری سیاسی پارٹیوں کے ووٹ بینک کا احترام کرنا پڑتا ہے۔ عمران خان نے اپنی سیاسی مہم جوئی میں اس بنیادی نکتہ کو فراموش کیا ہے کہ ووٹر ہی دوسری پارٹیوں کو بھی نمائندگی کا حق دیتے ہیں۔ ملک کی سب سیاسی پارٹیوں کو ایک دوسرے کی اہمیت اور ووٹروں میں مقبولیت کو تسلیم کرتے ہوئے بہتر سیاسی ماحول اور تعاون کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم عمران خان کو یہ سبق سیکھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اگر وہ یہ مان لیں گے کہ تحریک انصاف کی طرح اس ملک کے شہری ہی مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی یا دوسری جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں اور ان کا احترام تحریک انصاف کے رائے دہندگان کی طرح ہی واجب ہے تو وہ اس پریشانی سے نجات حاصل کر لیں گے کہ نواز شریف نے اگر جی ٹی روڈ سے سفر کیا تو ملک میں جمہوریت تباہ ہو جائے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 624 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali