قصہ وسی بابا کے چیف ایڈیٹر بننے کا


لوگ پوچھ رہے ہیں کہ وسی بابا کے چیف ایڈیٹر بننے کا کیا قصہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس پوری کہانی کو جو اب تک خواص کے حلقے تک محدود تھی، عوام کے سامنے لے آیا جائے۔

پانچ چھے برس پہلے برادرم عامر خاکوانی کی فیس بک وال خوب تھی۔ وہ اپنی فیس بک وال پر خوب سرگرم بھی تھے اور اسے مہذب رکھتے تھے۔ جبکہ دوسری جانب جاوید چوہدری صاحب جیسے مرنجاں مرنج صحافی کے پیج کا یہ حال تھا کہ اس پر اسی فیصد کمنٹس میں ان کو گالیاں بکی جاتی تھیں۔ انیس فیصد میں ان کے اہل خانہ کو یاد کیا جاتا تھا۔ اور کوئی ایک فیصد لوگ ایسے تھے جو مہذب بات کرنے کے قائل تھے۔ ان دنوں خاکوانی صاحب دائیں بازو کی طرف بہت زیادہ جھکاؤ نہیں رکھتے تھے اور امت مسلمہ کے قلمی جہاد کا بوجھ تن تنہا اپنے کاندھوں پر نہیں اٹھائے ہوئے تھے۔ اس وقت ان پر اور ان کی وال پر جماعت اسلامی کا رنگ نہیں چڑھا تھا اور وہاں معتدل لوگ زیادہ تعداد میں دکھائی دیا کرتے تھے۔ ان کے کالم بھی اس زمانے میں نظریاتی کی بجائے علمی ہوا کرتے تھے۔ وہاں طرح طرح کی مخلوق سے تعلق پیدا ہوا۔

ان میں اعجاز اعوان خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن سے ایک ”علمی بحث“ ہوئی اور خوب گھلنے کے بعد ایسا تعلق بنا جس کے بعد ہم دونوں مل کر دوسروں سے ”علمی بحثیں“ کرنے لگے جسے بدخواہ ٹرولنگ کا نام دیتے ہیں۔ الحمد للہ دونوں کو اس فن کا امام مانا گیا۔ وہاں چند پڑھے لکھے لوگ بھی تھے اور ایک شرمیلے سے حضرت بھی دکھائی دینے لگے جو خود کو وسی بابا کہتے تھے۔ ان دنوں فیس بک پر گروپس کا رواج تھا اور یہ گروپ نہایت ایکٹو تھے۔ وسی بابا نے ایک گروپ بنایا ہوا تھا اور لاکھ انکار کرنے پر بھی ہمیں اس کا ایڈمن بنا دیا۔ گروپ میں تو خیر کسی نے دلچسپی نہ لی مگر تعلق قائم ہو گیا۔ وہیں اپنے گروپوں میں سے چند بے تکلف دوستوں کا حلقہ قائم ہوا جو تندہی سے ایک دوسرے کی تربیت کرنے لگا۔ تربیت کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ ایک کلوز گروپ میں کسی ایک شخص کو پکڑ کر اسے خوب دھویا جاتا اور چیک کیا جاتا کہ وہ ”شارٹ“ ہوتا ہے یا نہیں۔ باقی کچھ غیر متعلقہ سی باتیں ہوا کرتیں جو پبلک میں کرنے پر کئی مقدمے بن جاتے۔

وسی بابا سے تعلق کو اب کوئی چھے برس ہو گئے ہیں۔ نہایت ہی بیبے بندے ہیں جس میں ان کو دوستوں کی جانب سے دی جانے والی اس تربیت کا بہت حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی ابتدائی تربیت قبائلی ماحول میں ہوئی ہے جہاں لڑائی جھگڑا شروع کرنے سے حتی الامکان گریز کیا جاتا ہے کہ شروع ہو جائے تو قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔ قریبی دوست ان کے بارہا کیے گئے دعوے کو بارہا ٹیسٹ کرتے رہتے ہیں۔ سال میں کوئی ایک بار ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو باکسر مشق کے لئے پنچنگ بیگ کے ساتھ کرتے ہیں۔ بابا صاحب کا بلڈ پریشر ان چھے برسوں میں صرف ایک مرتبہ ہائی کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے ورنہ وہ شارٹ نہیں ہوتے۔ راقم الحروف کی ان پیہم کوششوں کے سبب اب وہ اپنی فٹنس کا خوب خیال رکھنے لگے ہیں۔

اب پچھلے دنوں ہم فارغ بیٹھے تھے کہ خیال آیا کہ ہمارے مضامین مسترد کیوں ہو رہے ہیں۔ ”ہم سب“ کا ایک طریقہ کار ہے۔ کسی مضمون پر شبہ ہو رہا ہو کہ نامناسب یا متنازعہ ہے تو اسے ادارتی بورڈ کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ظالم قسم کا بورڈ ہے جس میں وجاہت مسعود صاحب اور راقم الحروف کے مضامین بھی مسترد کر دیے جاتے ہیں۔ اب ہمیں خیال آیا کہ اس بورڈ کا کوئی سردار بھی ہونا چاہیے جس پر الزام دھرا جا سکے۔ تو ظاہر ہے، کہ الزام چسپاں کرنے کے لئے سب سے مناسب شخصیت وسی بابا ہی کی بنتی ہے۔

نتیجہ یہ کہ پچھلے دنوں افواہ پھیل گئی کہ وسی بابا ”ہم سب“ کے چیف ایڈیٹر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں مبارکبادیں وصول ہونے لگیں۔ ہماری یہ مہم اتنی کامیاب تھی کہ ایک مرتبہ تو ادارتی بورڈ کی جانب سے یہ تجویز بھی آ گئی کہ وسی بابا کو واقعی ”ہم سب“ کا چیف ایڈیٹر مقرر کر دیا جائے لیکن انہوں نے شرما کر انکار کر دیا۔ کہنے لگ کہ ٹھیک ہے کہ چیف ایڈیٹر کا عہدہ اب عام ہوا ہے اور ہر شخص ہی خود کو چیف سمجھتا ہے مگر ایسا اندھیر بھی نہ مچاؤ۔ اب ہمارا مقصد تو صرف یہ تھا کہ وسی بابا کی عزت میں خوب اضافہ ہو، اور ہم نے دیکھا بھی کہ لوگ ان کی خوب عزت افزائی کر رہے ہیں، مگر وہ طبیعت کے نہایت شرمیلے ہیں۔ کہنے لگے کہ یہ مناسب نہیں ہے، میں اپنی گمنامی میں خوش ہوں اور مقام و مرتبے سے طبیعت نفور ہے۔

اس پر ہمیں خود ہی ان کی طرف سے تردیدی افواہ جاری کرنا پڑ گئی کہ نعیم الحق صاحب کی طرح وسی بابا کا اکاؤنٹ بھی ہیک ہو گیا تھا اور وہ چیف ایڈیٹر بننے کی بجائے صرف اور صرف ڈیری رپورٹنگ میں اپنا نام پیدا کرنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن ہمارے دل میں یہ خیال موجود تھا کہ وسی بابا کو چیف ایڈیٹر ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں بھی ان کا شکریہ ادا کیا جا سکے۔ جس طرح لیڈی ڈیانا آج تک پرنسس آف دی ہارٹس، یعنی دلوں کی شہزادی ہیں، اسی طرح اب ہم نے وسی بابا کو آنریری ایڈیٹر انچیف آف دی ہارٹس کا رتبہ دے کر ان کی عزت میں اضافہ کر دیا ہے۔

اب جسے ”ہم سب“ کی تعریف کرنی ہو، وہ ہمیں خراج تحسین پیش کرنے میں ہرگز نہ ہچکچائے۔ جس نے ”ہم سب“ کو دھونا ہو، اس کو ”ہم سب“ کے اس آنریری مبینہ ایڈیٹر انچیف آف دی ہارٹس سے رابطہ کرنا چاہیے جو ہر اہم موقعے پر قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ آپ سب بھی چیف ایڈیٹر آف دی ہارٹس کو صرف ہارٹس کا ہی چیف ایڈیٹر ہی سمجھیں۔ ہم بھی حسب روایت ان سے مستقبل میں سمجھتے رہیں گے اور انہیں چیف ایڈیٹر کے لطیفے سناتے رہیں گے۔ (یہ قصہ اب پرانا ہو گیا۔ آج سولہ ستمبر ہے۔ اس تاریخی دن کی مناسبت سے احباب نے فیصلہ کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں وسی بابا کو ایڈیٹر انچیف کی بجائے کرنل انچیف آف دی لشکر بے اماں قرار دے دیا جائے۔ ہم اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوئے۔ اب دنیا ڈو مور کرے۔)

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 691 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar