آزادی کا سنہرا خواب اور تلخ حقیقت


میں جب چھوٹی تھی تو میری نانی مجھے امرتسر کی بہت کہانیاں سنایا کرتی تھی۔ وہ کہتی کہ میرے نانا کا بہت کاروبار تھا امرتسر میں۔ ہم بہت خوش تھے وہاں۔ میں اکثر نانی سے پوچھا کرتی کہ کیا آپ نے کبھی ہولی اور دیوالی دیکھی؟ نانا جانے دیتے تھے آپ کو ہندؤوں کے تہوار پہ؟ وہ کہتی پتر تیرے نانا کی مٹھائیوں کی دوکان تھی تو ان تہواروں پر ہم ان کو مٹھائیاں بھیجتے تھے۔ ہم ایک کنبے کی طرح رہتے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے تہوار مناتے تھے۔ سچ پوچھو تو کوئی فرق نہیں محسوس ہوتا تھا۔ جب ہمیں یہ پتہ چلا کہ مسلمانوں کا الگ ملک بن رہا ہے تو ہم خوش ہوئے۔ ہمیں اپنے گھر اور دوکانیں چھوڑنے کا بہت دکھ تھا۔ پھر تیرے نانا نے کہا کی پاکستان میں سب کچھ اس سے کہیں زیادہ اچھا ہے۔ اور ہم نے ہجرت کرنے کا سوچا اس امید پر کہ نئے ملک میں سب بہت اچھا ہو گا۔

اسی امید پر لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ماؤں نے اپنے بچے دریاؤں کی نذر کیے۔ اپنا گھر بار، زمینیں، جائیدادیں سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا پاکستان کے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اتنے سال گزر گئے اور آج کا پاکستان اس پاکستان سے بالکل ہی مختلف ہے جس کا خواب دکھا کر ہمیں ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ اس وقت لڑائی ایک ایسے ملک کی تھی جہاں مسلمان اکژیت ہو اور آج لڑائی اس ملک کو لوٹ کر کھانے کی ہے۔ اور یہ صرف حکمران ہی نہیں کر رہے۔ ہر فرد اس لڑائی میں شامل ہے۔ تم یہ پھل والے کو دیکھ لو۔ ذرا سا دھیان ادھر کیا نہیں کہ ایک دو گندے پھل ڈال دے گا۔ وہ زمانہ بہت سستا تھا اور لوگ بدنیت بھی نہیں تھے۔ اب دیکھو ہر طرف کرپشن، بدنیتی اور لوٹ مار کا راج ہے۔ پتر ہم وہیں اچھے تھے ایسے پاکستان سے۔ ایک دوسرے کا لحاظ تھا۔ لوگ آسانیاں پیدا کرتے تھے ایک دوسرے کے لیے۔ ہاں کبھی کبھار ہوتے تھے دھنگے ہندو مسلم کو لے کر لیکن ان فسادات کی اکلوتی وجہ صرف انتہا پسند رہنما تھے۔ ہماری آپسی کوئی چپقلش نہیں ہوتی تھی۔ فسادات تو یہاں بھی ہو رہے مذہب کے نام پر تو کیا فرق رہ گیا؟

اسی بارے میں: ۔  نوجوانوں کو دہشت گرد بننے سے کیسے روکا جائے؟

لیکن نانی وہاں پر تو مسلمان غلام تھے نا ہندؤوں کے؟ اگر پاکستان نہیں بنتا تو ہم بھی غلام ہوتے۔ نانی میں نہیں کر سکتی تھی غلامی۔ تو پتر ابھی ہم آزاد ہیں؟ تو تو مجھ سے زیادہ پڑھی لکھی ہے؟ تم سمجھتی ہو کہ ہم آزاد ہیں؟ اچھا مجھے بتاؤ تم آزادی کس کو کہتی ہو؟

نانی میرے خیال میں آزادی کا مطلب ہے خودمختاری۔ ہم اس شخص کو آزاد کہہ سکتے ہیں جس کو حق رائے دہی کی آزادی ہو، اظہار رائے کی آزادی ہو، مذہبی رسومات ادا کرنے کی آزادی ہو۔ پتر ہم آج بھی غلام ہیں اور ہمیں پتہ ہی نہیں کہ ”آزاد“ ہونا کیا ہوتا ہے؟ آزاد وہ شخص اور قوم ہوتی ہے جس کا سر صرف اللہ کے احکامات کے سامنے جھکتا ہو اور جو صرف اسی سے خوف کھاتی ہو۔ وہ انسانوں کے آگے نہ جھکتا ہو اور نہ ہی اسے کسی انسان سے خطرہ ہو۔ تم بتاؤ کیا تم حق رائے دہی کی صحیح معنوں میں آزادی ہے؟ کیا تم اتنی آزاد ہو کہ کسی حق بات پر کھل کے اظہار رائے کر سکو۔ پہلے ہم ہندؤوں کے غلام تھے لیکن آج ہم کس کے غلام ہیں؟ نانی یہ تو آپ نے ٹھیک کہا یہاں سچ بات کا مطلب ہے اپنی جان گنوانا۔ اور الیکشن کے دوران بھی جائز و ناجائز ذرائع استعمال ہوتے ہیں اقتدار میں آنے کے لیے۔

نانی کی باتیں اور آنکھیں مجھے ہمیشہ پریشان کر دیتی تھیں۔ ان کی نظروں میں عجیب سی خلش نظر آتی تھی مجھے کی جیسے ان کا کوئی خواب ٹوٹ گیا ہو۔ ہم نے تو بس کہانیاں سنی ہیں آزادی کے لیے لوگوں کی قربانیوں کی لیکن ہم وہ درد کبھی بھی محسوس نہیں کر سکتے جو ہمارے آبا و اجداد نے اس وقت محسوس کیا۔ لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ان کا وہ خواب بھی ٹوٹ گیا جس کے لیے انہوں نے سب کچھ تیاگ کے ہجرت کی۔

اسی بارے میں: ۔  قصہ میر تقی میر کے پاگل پن کا۔۔۔

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔