اپنی غلطی کا اعتراف


برادر عزیز حامد میر نے آج مورخہ (7 اگست 2017ء ) روزنامہ جنگ میں ایک مضبوط اور مربوط کالم لکھا ہے جس میں ان دانشوروں اور کالم نگاروں سے اپنی غلطی کے اعتراف کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے 2014 میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے کی حمایت کی تھی۔ مجھے دانشور ہونے کا وہم قطعی نہیں۔ خود کو قلم گھسیٹ کالم نویس سمجھتا اور کہتا ہوں۔ مقام مسرت ہے کہ بھائی حامد میر نے جس اخلاقی جرات کا مطالبہ کیا ہے وہ مجھ میں موجود ہے۔ میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں۔

میں نے اپریل 2014 میں یکے بعد دیگرے روز نامہ جنگ میں دو کالم لکھ کر پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھجوانے کی حمایت کی تھی۔ برادرم سلیم صافی کے ایک کالم پر وضاحت کرتے ہوئے درویش نے اپنا موقف دہرایا تھا کہ معاملہ ایک شخص کو سزا دینے کا نہیں، جمہوری ثقافت کی پرورش کا ہے۔ اس میں دو نکات قابل غور ہیں۔ ایک تو عامل صحافی اور کالم نویس کی کارگاہ کا فرق سمجھنا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان میں جمہوریت کی لڑائی دراصل آزادی کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ گھمبیر مباحث سے قبل کچھ مشاہدات عرض ہیں۔

یونیورسٹی تعلیم کے دوران درویش فلسفہ مادیت اور تاریخی جدلیات سے ہوتا ہوا کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گیا۔ ضیا آمریت آخری سانسیں لے رہی تھی، محمد خان جونیجو کی گول میز کانفرنس میں شرکت کر کے محترمہ بے نظیر بھٹو نے سیاسی تالاب میں جوہری ارتعاش پیدا کر دیا تھا۔ پارٹی نے اس کندہ ناتراش سیاسی کارکن کو پیغام رسانی کا فرض سونپا۔ خدا معلوم ان کاغذوں میں واقعتاً کچھ کام کی باتیں لکھی جاتی تھیں یا اساتذہ اپنے بھگت کا امتحان لیتے تھے۔ مئی 1990 میں عبدالولی خان کی قیادت میں اے این پی نے آئی جے آئی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ ہم مشت خاک تھے مگر آندھی کے ساتھ تھے۔ پنجاب میں اے این پی کی سیاسی حیثیت معلوم۔ اس ننھے جزیرے کے ایک کونے میں کہیں کمیونسٹ بھی رکھے تھے۔ چٹھی آوندی اے ماہئیے دی، وچ میرا وی ناں بولے۔ (پردیس سے محبوب کا خط گھر آتا ہے۔ دیگر اہل خانہ کے بیچ میں کہیں میرا نام بھی لکھا ہے)۔

جہاں دیدہ ولی خان کمیونسٹ کارکنوں کی توانائی اور بے بضاعتی کو سمجھتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح انہوں نے بھی کوٹ کی ایک جیب میں سرخے رکھ چھوڑے تھے۔ تب آئی جے آئی سیاسی بساط پر ہئیت مقتدرہ کا کلیدی مہرہ تھی۔ نواز شریف کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ ولی خان کے فیصلے سے ہم سب پر مردنی چھا گئی۔ درویش گرتا پڑتا امتیاز عالم کے دولت خانے پر پہنچا۔ فوم کے ایک ننگے بچے گدے پر ہمارے استاد امتیاز عالم دل شکستگی کے عالم میں اوندھے منہ دراز تھے۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد فرمایا۔ ننگڑا نمانی دا، جیویں کیویں پالنا۔ مفہوم یہ کہ سیاسی نصب العین تو بیوہ ماں کا بچہ ہوتا ہے۔ درد مندوں کو جیسے تیسے پالنا ہی پڑے گا۔ واضح رہے کہ ابھی سوویت یونین نہیں ٹوٹا تھا، ہمارے دل ٹوٹے تھے۔ استاذی امتیاز عالم کا یہ فرمودہ سینے سے لگائے ان کے گھر اور سیاست سے باہر نکل آیا۔ یہ پہلی اور آخری سیاسی وابستگی تھی۔ اسے توشہ آخرت سمجھتا ہوں۔

اسی بارے میں: ۔  تمہارے منہ میں خاک

2014 کا موسم بہار تھا۔ برادرم حامد میر ماشااللہ حسب معمول دھڑلے سے صحافت کر رہے تھے۔ صبح ان کا کالم نظر افروز ہوتا تھا۔ شام ڈھلے ان کی دبنگ آواز ٹیلیویژن پر ضیافت لیے اترتی تھی۔ ہم ہمیشہ کی طرح ان سے سیکھتے تھے۔ ایک شام برادرم گل نوخیز مسلم لیگ نواز کے ایک رہنما کے ہمراہ تشریف لائے۔ پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے یا آرٹیکل چھ کے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بحث زوروں پر تھی۔ تکلف میں بات شروع ہوئی۔ عرض کی کہ پرویز مشرف کو سزا دینے سے ملک میں جمہوری اور غیر جمہوری ذہن کے درمیان خلیج دور نہیں ہو گی، اس لیے یہ مشق لاحاصل ہے۔ مسلم لیگ کے محترم رہنما نے اختلاف کیا۔

وہ جولائی 1969 میں چیکو سلواکیہ کے کسی اخبار نویس کی طرح پرجوش تھے۔ ان کی آواز میں ایک جنگلی ہرن کی سی لپک اور آنکھوں میں چیتے کی چمک تھی۔ کچھ عرض و معروض کے بعد درویش نے تکلف اٹھا دیا اور محترم رہنما کے گھٹنے پر ٹھیٹھ لاہوری کی طرح ہاتھ مار کے کہا، خان صاحب، پرویز مشرف کو سزا نہیں دی جا سکتی، جی کا زیاں ہو جائے گا۔ کچھ ہفتے بعد برادرم حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ صحافت کے ضمیر سے چھ گولیاں گزر گئیں۔ اخبار کے صفحات گواہ ہیں کہ پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے کے حامیوں نے حامد میر کی دلیل پر حملہ آور ہونے والی غلیل کی مخالفت بھی اسی دم خم سے کی۔

عامل صحافی کا فرض منصبی خبر دریافت کرنا ہے۔ وہ صبح شام درجنوں باخبر افراد اور فیصلہ سازوں سے ملتا ہے۔ ان افراد کا اپنا بھی ایک ایجنڈا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ارادے بیان کرتے ہیں۔ صحافی اپنے تجربے کی روشنی میں پرکھتا ہے کہ خبر دینے والا کس قدر قابل اعتماد ہے۔ اس کے عزائم اور زمینی طاقت میں کیا تناسب ہے۔ نیز یہ کہ خبر دینے والا واحد کھلاڑی تو نہیں۔ حریف بھی موجود ہیں، ان کا اپنا لائحہ عمل ہے۔ سیاست نتائج کی پیش بینی میں اندازے کی غلطی سے عبارت ہوتی ہے۔ ورنہ کوئی انتخابی امیدوار کبھی الیکشن نہ ہارتا۔ کسی جرنیل کو کبھی شکست کی دستاویز پر دستخط نہ کرنا پڑتے۔ ارادے کے نقطے پر کھڑے ہو کر نتائج کو بھانپنا ہی سیاست کا سود و زیاں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کچھ گوادر کے لوگوں کے بارے میں

کالم نویس باخبر ذرائع پر انحصار نہیں کرتا، وہ مائیکرو اکنامکس کا نہیں، میکرو ڈائنامکس کا طالب علم ہوتا ہے۔ کالم نویس ہر روز درجنوں خبروں کو اپنے مشاہدے کی بھٹی میں رکھ دیتا ہے۔ اس بھٹی میں درجہ حرارت کالم نویس کی ذاتی ترجیحات سے متعین ہوتا ہے۔ کالم نویس کو ذاتی رائے کی اجازت ہے۔ عامل صحافی خبر کے حقائق کا پابند ہے۔ غلطی دونوں سے ہو سکتی ہے۔ کالم نویس کا قاری اس کا محتسب ہے۔ کالم پڑھنے والے کے دماغ میں ایک نادیدہ پٹی مسلسل چل رہی ہوتی ہے جس پر درج ہوتا ہے کہ کالم نویس نے ایک برس، پانچ برس اور دس برس پہلے کس موقع پر کیا موقف اختیار کیا۔ کہاں پیش آمدہ واقعات نے اس موقف کی تصدیق کی، کہاں کالم نویس نے ٹھوکر کھائی۔ کالم نویس کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں ہونا چاہئیے۔ چارہ جُو ہے، کاتب تقدیر تو نہیں ہے۔

ملک آزاد ہوا تو فیض صاحب نے ”صبح آزادی“ کے نام سے ایک نظم لکھی۔ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔ اس پر اہل حکم نے غداری کا فتوی ارزاں کیا۔ 16 اکتوبر 1951 کو یہ نظم ایک بھیانک تعبیر سے ہمکنار ہوئی وزیر اعظم لیاقت علی خان کو گولی مار کے سیاسی قوتوں کو بے دست و پا کر دیا گیا۔ اس ٹھوکر سے ہمیں پتہ چلا کہ بقول غالب، ’کون بھڑوا آزاد ہوا ہے، پہلے گورے کی قید میں تھا، اب کالے کی قید میں ہوں‘۔ اس کے بعد ہم پر جو گزری، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ ہم وحشت زدہ ماں کی طرح اپنے بچے کو سینے سے لگائے کبھی پیڑ کی آڑ لیتے ہیں، کبھی چٹان کی اوٹ میں جا بیٹھتے ہیں، ہم سے بار بار غلطی ہوتی ہے۔ سبب یہ کہ جمہوریت ہماری آزادی کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ جمہوریت بیوہ ماں کا بچہ سہی، لیکن ہمارا اثاثہ ہے۔ ہمیں بھٹو صاحب کی آغوش میں پناہ ملے یا نواز شریف کے دامن میں، ولی خان کا سایہ ملے یا عمران خان کی انگلی تھامنا پڑے۔ پینسٹھ برس سے جدوجہد جاری ہے۔ ہم سے ایک کے بعد ایک مورچہ چھن جاتا ہے، ہم سے پے در پے غلطیاں ہوتی ہیں۔ ہم لڑائی پہ لڑائی ہارتے ہیں۔ ہمارے کتبے پر لکھا جائے کہ ہم نے شکست تسلیم نہیں کی۔


اسی بارے میں
کیا ڈکٹیٹر کو سزا ملے گی؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “اپنی غلطی کا اعتراف

Comments are closed.