حسینائیں بیوٹی کریم کی بجائے بوٹ پالش استعمال کریں


اسلام آباد کی ایک مقامی صحافی کی خبر کے مطابق لال مسجد کیس میں شہرت دوام پانے والے وکیل طارق اسد صاحب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی ہے کہ بال صاف کرنے والی ”ویٹ کریم“ پر پابندی لگائی جائے کیونکہ اس سے خواتین جنسی طور پر پرکشش ہو جاتی ہیں۔ یہ پیٹیشن مارچ 2014 سے شنوائی کی منتظر ہے۔ اب 7 اگست 2017 کو وکیل صاحب نے یاد دہانی کرائی ہے۔

وکیل صاحب نے نہایت دردمندی سے اپیل کی ہے کہ ایک اسلامی ملک کے نیوز چینلز پر موسیقی، ڈانس، ترکی ڈرامے اور فلمیں، فیشن شو، فحش بھارتی فلموں کے اشتہار وغیرہ دکھانے سے منع کرنے کا حکم دیا جائے۔ لیکن ان کا خاص اعتراض ’ویٹ بالصفا کریم‘ کی مشہوری کے لئے بنائے گئے پروگرام ’مس ویٹ پاکستان‘ پر ہے۔

وکیل صاحب نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ ویٹ کریم نامی یہ پراڈکٹ خواتین کے بال صاف کر کے انہیں مردوں کے لئے جنسی طور پر مزید پرکشش بناتی ہے جو کہ انتہائی شرمناک امر ہے۔ وکیل صاحب کو یہ اندیشہ بھی ہے ہے ’مس ویٹ پاکستان‘ پروگرام اصل میں مس ورلڈ یا مس یونیورس وغیرہ کی طرف لے جانے کی شروعات ہے۔ انہوں نے اس پروگرام پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہماری رائے میں تو پروگرام کے علاوہ ’ویٹ کریم‘ اور دیگر بالصفا کیمیکلز پر بھی مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ لیکن ہم نے نوٹ کیا ہے کہ بالصفا کریموں کے علاوہ میک اپ وغیرہ کا سامان، کالے رنگ کو گورا اور گورے کو چن ورگا کرنے والی ”تبت سنو“، دیگر کولڈ اور بیوٹی کریمیں اور لوشن وغیرہ بھی خواتین کے حسن میں خاطر خواہ اضافہ کر دیتے ہیں۔ شیمپو کے اشتہاروں سے ہمیں یہ بھی علم ہوا ہے کہ وہ بالوں کا حسن بڑھا دیتے ہیں اور ایرانی کہاوت کے مطابق حسن کا پچاس فیصد بال ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  میاں نواز شریف ایردوان نہیں ہیں اور پاکستان ترکی نہیں ہے

یعنی خواتین کو جنسی طور پر مردوں کے لئے پرکشش بننے سے روکنا ہے تو شیمپو، بیوٹی سوپ، میک کے سامان، رنگ برنگی کریموں بشمول بالصفا کریموں وغیرہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ بلکہ ازروئے احتیاط ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ وغیرہ پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ کوئی خواتین سے بات کرنے کی جرات ہی نہ کرے اور بدبو کے بھبکے سے ہی دور بھاگ جائے۔

بعض ہٹ دھرم قسم کی خواتین بال صاف کرنے کے لئے فل باڈی ہاٹ ویکس وغیرہ کا طریقہ استعمال کر سکتی ہیں اور وکیل صاحب کو بھی اس کے استعمال سے پرکشش ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس لئے اس پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے۔

چند شریر قسم کی خواتین یہ بہانہ بنائیں گی کہ کریم نہ لگانے سے ان کی چمڑی خشک ہو کر پھٹ جاتی ہے اور اس میں زخم ہو جاتے ہیں۔ اس کا حل ہمارے پاس موجود ہے۔ بیوٹی کریم کے معاملے میں مسئلہ یہی ہے ناں کہ وہ حسن میں اضافہ کر دیتی ہے۔ لیکن یہ خواتین یہ چیز نظرانداز کر رہی ہیں کہ چمڑی کی حفاظت کے لئے سب سے بہتر کریم ’کیوی بوٹ پالش‘ کو سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف یہ کہ چمڑی کو مناسب مقدار میں روغنیات فراہم کر کے اسے چمکدار اور صحت مند بناتی ہے، بلکہ اسے کالا کر کے نظر بد سے بچانے کا سبب بھی بنتی ہے۔ کیا آپ نے آج تک یہ دیکھا ہے کہ کسی بدنیت سے بدنیت مرد نے بھی کالی بھینس پر بری نظر ڈالی ہو؟ صحت کی صحت اور پروٹیکشن کی پروٹیکشن۔

’ویٹ کریم‘ پر پابندی کے معاملے میں کچھ مرد و زن بال صاف کرنے کے شرعی عذر کے پیچھے پناہ لینے کی کوشش کریں گے۔ وہ اس کام کے لئے استرا، قینچی یا موچنا استعمال کر سکتے ہیں۔ ’ویٹ کریم‘ کے ساتھ ساتھ سیفٹی ریزر پر بھی مکمل پابندی لگانی چاہیے کیونکہ ہم نے کئی اشتہارات دیکھے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اسے بھی جسم سے بال ختم کر کے حسین ہونے کے لئے استعمال کر سکتی ہیں۔ استرے کا غلط استعمال تقریباً ناممکن ہے۔

اسی بارے میں: ۔  لہو کی پیاسی آوازیں۔۔۔۔ آعظم بو، آدم بو……

وکیل صاحب سے مکمل اتفاق کے باوجود ایک چیز ہمیں پریشان کر رہی ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ سکھ مذہب میں بال صاف کرنا حرام ہے۔ اس کے باوجود کئی ایسی دلربا سکھ دوشیزائیں نظر سے گزری ہیں جن کا حسن کسی ’ویٹ کریم‘ کا محتاج نہیں ہے۔ وکیل صاحب کو ایسی حسیناؤں کے بارے میں بھی پیٹیشن کرنی چاہیے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ لازم کر دیا جائے کہ ہر خاتون ’کیوی بوٹ پالش‘ چہرے پر ملے بغیر گھر سے باہر مت نکلے۔

گھر کے اندر بھی اسے جلد کی حفاظت کے لئے استعمال کیا جائے تو پاکستان میں آبادی میں بے تحاشا اضافے کا معاملہ بھی کنٹرول میں آ جائے گا بلکہ شوہر سے مسلسل محفوظ رہنے کے سبب الٹا آبادی میں کمی ہونے لگے گی۔ خواتین کی گھریلو زندگی بھی خوشگوار ہو جائے گی اور ان کے رعب داب میں خوب اضافہ ہو گا۔ خاص طور پر رات کو آنکھ کھلنے کے سبب شوہر کی نگاہ ان کے چہرے پر پڑ جائے تو وہ کئی دن اپنی بیگم سے سہما سہما ہی پھرا کرے گا۔ (ختم شد)

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 733 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar