ایک کشمیری خاتون کی زندگی: (1) تعارف


کتاب: ایک کشمیری خاتون کی زندگی : مزاحمت اور مصالحت کا جائزہ
مصنفہ: ڈاکٹر نائلہ علی خان (پی ایچ ڈی)
مترجم : ڈاکٹر لبنیٰ مرزا (ایم ڈی)
پبلشر: نیویارک پالگریو مکملن 2014

تعارف

میری نانی اکبر جہاں کی منفرد شخصیت کے بارے میں لکھنا میرے لئے آسان بات نہیں تھی۔ میرے بچپن کے زمانے میں وہ اپنے شوہر جو کہ ایک کشمیری قوم پرست اور جموں اور کشمیر کی ریاست کے پہلے مسلمان سربراہ تھے، کی سیاسی زندگی کا ایک نہایت اہم حصہ تھیں۔ اکبر جہاں ایک مشہور شخصیت اور ایک سیاسی اور سماجی کارکن تھیں جو اپنے شوہر کو ان کے مقاصد میں کامیاب کرنے اور کشمیر اور گجر کی خواتین کی تعلیم اور ترقی کے ذاتی خواب کو آگے بڑھانے کےغیر متزلزل ارادے رکھتی تھیں۔ اکبر جہاں ایک خاتون، ایک بیوی، ایک ماں، ایک سیاسی اور سماجی کارکن اور ایک کشمیری قوم پرست تھیں جن کی زندگی کے ذاتی، سیاسی اور دانشورانہ پہلوؤں کا تجزیہ کرنا میرے لئے نہایت سخت سفر ثابت ہوا ہے۔

جب میں نے اپنی نانی اکبر جہاں کی سرگزشت حیات رقم کرنا شروع کی، تو اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا شکل اختیار کرے گی۔ کیا مجھے ایک ترتیب وار زندگی کا احوال بیان کرنا چاہیے؟ یا ایک تخلیقی نان فکشن لکھنی چاہیے؟ کیا مجھے واقعات کو ڈرامائی انداز میں بیان کرنا چاہیے؟ مجھے اکبر جہاں کی ذاتی شناخت اور ان کی ذاتی اور عوامی شخصیات کے درمیان مکالمے کے بارے میں کس طرح سوچنا چاہیے؟ کیا میں ان کی سوانح حیات کشمیر کی تاریخ اور سیاست میں غوطہ کھائے بغیر لکھ سکتی تھی؟ کیا ان کی زندگی کے حالات لکھنے میں اس وقت کی تاریخ، سیاست، تعلقات، جوڑ گٹھ اور حالات کو نظر انداز کرسکتی ہوں جنہوں نے ان کی شخصیت کو جہت عطاکی؟ کیا مجھے ان کے شوہر شیخ محمد عبداللہ کے حالات کے نشیب و فراز یا ان کی قسمت کا حال، اکبر جہاں کی سرگزشت حیات سے انصاف کرنے کے لئے بیان کرنا پڑے گا؟ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ آج کےجدید زمانے تک میں خواتین کے اثر و رسوخ اور عوامی زندگی میں ان کی ساکھ کے بارے میں لکھنا ایک مشکل کام ہے۔

یہاں پر میں یہ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ ایک سوانح حیات کے لکھاری کے لئے لازمی ہے کہ اپنے موضوع کی اس کے زمانے کے پس منظر سے اس کے تعلق کی روداد بھی رقم کرے، جو کہ اس زمانے کی سیاست کی شاہد ہے۔ اس کتاب میں اپنی توجہ اکبر جہاں اور شیخ محمد عبداللہ کی زندگیوں پر مرکوز کر کے میں ان تاریخی واقعات کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہوں جن کا وہ ایک اہم ستون تھے۔ اس کے برعکس، اکبر جہاں کی زندگی کی کہانی تاریخ، سیاست اور بیسویں صدی میں کشمیر ی معاشرے کی عکاسی کرے گی۔ اس دعوے کے ساتھ میں یہ بھی کہتی چلوں کہ مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ کئی جگہوں پر تاریخ مبہم ہے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتی ہوں کہ اکبر جہاں کی زندگی کے بارے میں میری تحقیق کا نامکمل اور عارضی ہونا لازمی ہے۔ سب سے پہلے میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتی ہوں کہ میری تحقیق اور تحریر مردوں اور خواتین کے درمیان طاقت کے توازن کے گرد نہیں گھومتی ہے۔ یہاں میں یہ کہنے کی جرأت بھی کروں گی کہ میں نے جان بوجھ کر اکبر جہاں کے اندر جھانکنے کے بجائے، ان کی عوامی زندگی کی کہانی لکھی ہے جس کو چننے کا ہر لکھاری کو اختیار ہے۔

اکبر جہاں کے ساتھ میرے رشتے کو مد نظر رکھتے ہوئے ، میں نے اس بات کی کوشش ہی نہیں کی کہ کوئی نقلی کردار تشکیل دوں۔ میرے خیال میں نفسیاتی خرابیاں، جذباتی واقعات یا خیالی باتیں اگر فکشن لکھنے والوں تک ہی چھوڑ دی جائیں تو بہتر ہے۔ یہ داستان کسی جرنسلٹ کی لکھی ہوئی سانح حیات بھی نہیں ہے۔ اسکینڈل کھڑے کرنے میں بھی مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہاں میں یہ اعتراف کرتی چلوں کہ میں نے اپنے لہجے میں فکشن کے کچھ طریقے اپنے موضوع کو ہمدردی اور تعظیم دینے کے لئےاستعمال کئیے ہیں۔ حالانکہ اس داستان پر میری اکبر جہاں کے لئے میری تعظیم کا سایہ ہے، یہ ایک متقی یاداشت نہیں کہی جاسکتی۔ اس سوانح حیات کو مختلف چیپٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے جو مختلف لمبائی کے ہیں۔ یہ ایک ناول سے کچھ کم شرائط کا حامل ہے اور اس میں ذاتیات اور سیاسیات کے میل پر زور ڈال کر اس کو اجاگر کیا گیا ہے۔ میں ہر باب کا آغاز اس کتاب کے تعارف میں اٹھائے گئے سوالات یا نظر یات سے کرتی ہوں۔ اکبر جہاں کی زندگی کو ایک ترتیب وار طریقے سے بیان کرنے کے بجائے میں نے ان کی زندگی کے کچھ اہم سنگ میل ان کی زندگی کی کہانی بیان کرنے کے لئے استعمال کئیے ہیں، جن میں سے کچھ کی میں خود شاہد ہوں اور کچھ کی میری والدہ، ان کے بہن بھائی اور دیگر ساتھی گواہ ہیں۔ ان میں سے کچھ واقعات تفصیل سے پہلے بھی لکھے جا چکے ہیں۔

اپنے کئی رفقائے کار کے ساتھ طویل بحث اور مکالمے کے بعد، میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے موضوع اکبر جہاں کی بہترین نمائندگی کرنے کے لئے مجھے صرف سنی سنائی کہانیوں پر ہی انحصار نہیں کرنا ہوگا بلکہ تفصیلی مکالمے اور اہم تاریخی اور سیاسی پہلو ؤں کو مدنظر بھی رکھنا ہوگا جن میں ان کو فیصلے کرنے کی طاقت تھی۔ ایک سوانح حیات لکھنے میں معلومات کا چناؤ شامل ہے۔ تو اس لئے میں نے اپنے خاندان کے افراد سے ان کی زندگی میں ہونے والے سیاسی معملات اور ان کے ان کی زندگیوں پر اثرات کے بارے میں گفت و شنید شروع کی۔ ان کی یاداشت سے بظاہر غیر ذاتیاتی سیاست اور تاریخی واقعات استعارے کی سطح سے بلند ہوجاتے ہیں۔ میں نے ان سے تاریخ کے بارے میں سوالات پوچھے جس سے میری معلومات میں اضافہ ہو اور مجھے اپنی تحقیق میں مدد ملی۔ کسی بھی شخص کی تاریخ کے بارے میں سمجھ بوجھ میں لوگوں سے ان کی زندگی میں پیش آئے تاریخی واقعات، سیاسی حالات اور ان کے ذاتی تجربات کے بارے میں گفت و شنید سے مضبوطی آتی ہے۔ میں نے اپنی یادیں بھی ان تاریخی اور سیاسی حالات کو بیان کرنے میں شامل کی ہیں جن میں اکبر جہاں اور شیخ صاحب ستونی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ سوانح حیات اکبر جہاں کو چھڑانے کے لئے نہیں ہے بلکہ بے معنی میں معنی اور غیر موجودگی میں وجود تلاش کرنے کے بارے میں ہے۔ مجھے ان کی نڈر شخصیت ، ان کی پیش گوئی نہ کی جاسکنے والی معمول سے ہٹ کر زندگی اور بکھر جانے کی دھمکیوں کے درمیان ان کا وجود ایک نہایت حیران کن تصور معلوم ہوتے ہیں۔

میں نے اپنی تعلیم سے یہ سیکھا ہے کہ کوئی بھی فیصلے بلا قدر نہیں ہوتے۔ تاریخی اور سیاسی فیصلوں کے بارے میں انسانوں کے ان کی جگہ اور وقت کے لحاظ سے تعصب کو مد حال نہ رکھنے سے ان واقعات کی توڑ مروڑ ہوجانا ناگزیر ہے۔ میں صرف بہ ماضی انداز سے ایک زندگی کی کہانی ہی نہیں لکھ رہی ہوں بلکہ میرا مقصد ایک نظریاتی پہلو کے استعمال کے ساتھ اپنے نقطہء نظر کو سمجھنا بھی ہے جو میرے سیاسی نظریات، تعلیم، مذہبی عقائد، تاریخ، قومیت، کلاس اور جنس سے منسلک ہے۔ آخر کار ”ہر سوانح حیات ایک لحاظ سے خودنوشت سوانح حیات ہے۔ “(لی 8)۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں نے کچھ جگہوں پر تاریخی اور سیاسی واقعات میں اپنی ذاتی یادیں شامل کی ہیں جن سے یہ کتاب ایک خود نوشت سوانح حیات بن جاتی ہے۔

نوآبادیاتی نظام کے بعد کی تاریخ میں میری تعلیم نے مجھے یہ سوال اٹھانے پر ابھارا کہ انسانوں کے خیالات مکمل طور پر حقیقت پر مبنی نہیں ہوسکتے، خاص طور پر تاریخ کے رقم کرنے میں، کیونکہ انسان مکمل طور پر کبھی بھی اپنے احساسات کو ان خیالات سے الگ نہیں کرسکتے۔ میں نے اپنے موضوع اکبر جہاں سے اپنے تعلق کو اتنا زیادہ پیش نہیں کیا جیسے کہ کوئی اور سوانح نگار کرتا، لیکن اس تحقیق میں ہمارا تعلق واضح ہے۔ ادبی سوانح نگار ہرمائنی لی کا مشاہدہ ہے کہ ایک سوانح نگاری کی قدر، خاص طور پر ماڈرن زمانے میں کافی بڑھ جاتی ہے اگر اسے کسی ایسے شخص نے لکھا ہو جو اپنے موضوع کو قریبی طور سے جانتا ہو۔ قارئین اپنے ذہن میں یہ بات رکھتے ہوئے میری کاوش سے انصاف کرسکیں گے کہ ” ایسی سوانح حیات جس کو مکمل طور پر غیر جانبدار کہا جاسکے دنیا میں نہیں پائی جاسکتی۔ ”

اپنے موضوع اکبر جہاں کا چناؤ میں نے ایک خا ص وجہ سے کیا جو کہ میری اہم سیاسی شخصیات کی زندگی کے معائنے کے ذرئعیے کشمیر کی تاریخ اورسیاست کے مطالعے کی کبھی نہ بجھنے والی پیاس ہے۔ یہ کام جاری وساری ہے اور تکمیل سے دور ہے۔ اس کے علاوہ میں سمجھتی ہوں کہ توڑ مروڑ کر پیش کی ہوئی اس سیاسی اور سماجی تاریخ کا احوال جس نے اکبر جہاں کی زندگی کو شبیہ دی، کو جتنا ہوسکے درستگی دی جائے۔ میرا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ آج کی سیاسیات کے عدسے اور نقطہء نظر سے کشمیر کی تاریخ کی تفہیم کی جائے۔ میں کشمیر کی تاریخ کے مقبول اور جمہوری سیاست کے ادوار کو ایک مخصوص پس منظر میں لکھ رہی ہوں۔ کشمیر کی ریاست کی تاریخ اور سیاست کے آج کے دور میں جب کہ اکبر جہاں اور شیخ صاحب کی زندگی کے ریکارڈ کے بڑے حصے مٹ چکے ہیں، میں ذہنی طور پر اپنے موضوع کو دوبارہ سے جوڑنے پر مرکوز ہوں۔ جیسا کہ میں نے اور جگہوں پر بھی بیان کیا ہے، اکبر جہاں اور شیخ محمد عبداللہ کو عقیدت مندانہ نظر سے دیکھ کر ان کی مالا بھی جپی گئی ہے اور ان کو اتنا ہی گرایا بھی گیا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے اپنے موضوع کی عوامی زندگی کے بارے میں صفائی سے لکھنے، نہ کہ ان کے بت بنانے یا ان بتوں کو ڈھانے کی کوشش کی ہے۔

ایسے بھی موقع تھے جن میں اکبر جہاں نے نہ سر کی جاسکنے والی مصیبتوں کا سامنا کیا اور ہمت توڑ ڈالنے والی جنگیں لڑیں۔ حالانکہ یہ سوانح نگاری میرے اپنے احساسات کو بیان کرنے کے لئے نہیں ہے لیکن یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مجھے جذباتی طور پر ان وقتوں کے بارے میں لکھنا نہایت مشکل معلوم ہوا جن میں اکبر جہاں نے کڑے حالات میں شیخ عبداللہ کا سیاسی لبادہ اوڑھا۔ ان لوگوں کی یادیں بانٹنے سے جو ان کو قریبی طور پر جانتے تھے اکبر جہاں کی تاریخی شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔

اس سوانح نگاری میں میری کوشش رہی ہے کہ اکبر جہاں کی زندگی کے واقعات کو ایک تنگ احاطے میں محدود کرنے سے گریز کیا جائے۔ ان کی زندگی اور کام کا مطالعہ کرنے میں مجھے اس لئے نہایت دلچسپی ہے کیونکہ میرےخیال میں ان کی کہانی سنانا اور 1947 سے پہلے اور بعد کے جموں و کشمیر کی اور کشمیر کی آزادی کی مہم کے بارے میں مغالطہ آمیز تاریخ کو چیلینج کرنا ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ جموں و کشمیر کے ایک مخصوص دور کی تاریخ پر روشنی ڈالنے سے میرا مقصد اس کو ایک علاقائی مسئلہ بنا دینا نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ تاریخی یاداشت کو ایک نئی شکل دی جائے تاکہ 1948 کے اہم موڑ اور اس کی تحریک پر اس کے رہنماؤں کی انسانی اور مجموعی کاوش کو شامل کیا جاسکے۔

اور یہ بھی کہ ایک خاتون ہونے کے باوجود میں ان کو صرف اس لئے اہم نہیں سمجھتی ہوں کہ وہ ایک مشہور آدمی کی زندگی کا حصہ تھیں۔ اکبر جہاں کی شخصیت کو پاکیزہ ثابت کرنے والوں اور اس کاوش کے رد عمل جو کہ تذلیل کے دائرے میں چلا جاتا ہے کے علاوہ کشمیری سماج کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو ان کی زندگی کی کہانی کو پھر سے اجاگر کرنے کی کوشش میں ہے۔ میں قارئین کے سامنے ایک ایسی خاتون کی زندگی پیش کررہی ہوں جو آہنی جبڑوں اور مضبوط قوت ارادی کی حامل، سیاسی ماہر، سماجی کارکن، ایک ماں اور ایک نانی تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کی غلطیوں پر ان کو معاف کیا۔ وہ رشتہ داری اور سماجی تعلقات نبھانے پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کو اپنی تہذیب پر ناز تھا اور وہ اس کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنا چاہتی تھیں۔ وہ ایک روشن خیال خاتون تھیں جن کی زندگی نے دقانوسی معاشرے میں نسوانیت کے منجمد خاکے کی مختلف وضاحت پیش کی۔ وہ اپنے سماج میں خواتین کی زندگی میں آزادی اور تبدیلی لانے کی خواہش رکھتی تھیں اور اس کو اپنی اہم معاشرتی ذمہ داری تصور کرتی تھیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 19 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan