خراب حالات میں ملک بچانے کا واحد راستہ


وطن عزیز میں وزیر اعظم کو منصب سے ہٹانے کے مختلف پیٹرن رائج ہیں، تین تو صرف نواز شریف کے حوالے سے متعارف ہوگئے ہیں۔ ایک بار صدر نے ان کو عہدے سے ہٹایا ۔ دوسری دفعہ آرمی چیف نے۔ تیسری بارسپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا۔ باقی وزرائے اعظم کے منصب سے الگ ہونے کا قصہ پھر سہی، اس وقت آپ کو متحدہ پاکستان کے آخری وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی اقتدار سے رخصتی کی داستان سناتے ہیں۔ صدر پاکستان سکندر مرزا نے آئین کی تنسیخ کے بعد وزیر اعظم کو خط لکھا ، جس میں انھیں عہدے سے ہٹانے کی چتاونی تھی، اس تاریخی خط کو مرزا کا اے ڈی سی رات گیارہ بجے بنفس نفیس فیروز خان نون کو پہنچانے گیا تو وہ سو رہے تھے ، کام ضروری تھا سو ان کو ’غفلت‘ کی نیند سے جگایا۔ خط ڈلیور کرکے نامہ بر رفوچکر ہونے کو تھا، نون نے کہا ، ذرا رکئے ، ممکن ہے جواب کی ضرورت ہو تو اس نے یہ کہہ کر لاجواب کردیا ’’ سر جواب نہیں چاہیے۔ ‘‘

خط کی عبارت کا لفظ لفظ وزیراعظم کی توقیر اور آئین کی حرمت کو منہ چڑھا رہا ہے۔ یہ تاریخی خط ملاحظہ کرلیں، اس کے بعد بات کا سلسلہ بڑھاتے ہیں۔

ایوانِ صدر، کراچی

7 اکتوبر 1958ء

مائی ڈیئر سر فیروز!

میں بڑے غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس ملک میں استحکام اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی ذمہ داریاں میں خود نہ سنبھال لوں اور انتظامیہ کو اپنے ہاتھ میں نہ لے لوں۔ 3 مارچ 1956ء کا آئین نہ صرف یہ کہ ناقابل عمل ہے بلکہ پاکستان کی سالمیت اور اس کے استحکام کے لیے خطرناک بھی ہے۔ اگر ہم اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتے رہے تو بالآخر ہمیں پاکستان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

لہٰذا مملکت کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئین منسوخ کردوں، تمام اختیارات خود سنبھال لوں۔ اسمبلیوں، مرکزی پارلیمنٹ اور مرکزی اور صوبائی کابینہ کوتوڑ دوں۔ مجھے صرف اتنا افسوس ہے کہ یہ فیصلہ کن انقلابی اقدام مجھے آپ کی وزارت عظمیٰ کے زمانہ میں کرنا پڑا ہے۔ جس وقت آپ کو یہ خط ملے گا مارشل لاء نافذ ہو گیا ہو گا اور جنرل ایوب جنہیں میں نے مارشل لاء کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا ہے اپنے اختیارات سنبھال چکے ہوں گے۔

آپ کے لیے ذاتی طور پر میرے دل میں بڑا احترام ہے اور آپ کی ذاتی خوشی اور فلاح کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہوا میں بے تامل کروں گا۔

آپ کا مخلص

سکندر مرزا

پڑھ لیا آپ نے کہ خانوادہ جعفر از بنگال کے چشم وچراغ، آئین پر عمل میں ملک کا وجود خطرہ میں دیکھ رہے ہیں، موصوف کو کون سمجھاتا کہ آئین نہ ہونے اور اس پر عمل نہ ہونے سے ملک ٹوٹتے ہیں، جیسا کہ بعد میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں ہوا ۔ ملک فیروز خان نون نے اپنی خود نوشت ’’چشم دید ‘‘ میں وزیر اعظم کا عہدہ چھن جانے سے پہلے کے حالات کا جائزہ بھی پیش کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سکندر مرزا کو جمہوریت سے کد تھی، وہ وزیر اعظم کے اختیارات حاصل کرنا چاہتے تھے جس کی راہ میں آئین سب سے بڑی رکاوٹ تھی ۔ نون نے لکھا ہے کہ سکندر مرزا نے ایک دو دفعہ ان سے پوچھا ’’ کیا آپ کی رائے میں حکومت کا جمہوری طریقہ ہمارے ملک کے مزاج کے موافق ہے؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ مجھے مستعفی ہوجانا چاہیے لیکن جب انھوں نے محسوس کیا کہ میں انتخابات منعقد کرانے کے لیے اس عرصہ تک حکومت برقرار رکھنے پر تلا بیٹھا ہوں تومجھے بے دخل کرنے کا واحد طریقہ یہی رہ گیا تھا کہ آئین منسوخ کردیا جائے۔ ‘‘

سکندر مرزا کومعلوم تھا کہ آیندہ الیکشن میں ان کی ساختہ ری پبلیکن پارٹی جیت نہیں سکے گی اس لیے وہ اسے توڑ کر مسلم لیگی ارکان کی مدد سے نئی پارٹی بنانا چاہتے تھے، اس معاملہ پر ڈاکٹر خان کو ان سے اختلاف ہوا اور وہ انھیں چھوڑگئے جبکہ ری پبلکن پارٹی کو قائم کرنے میں ان کا اہم کردار تھا اور مرزا ان سے کہا کرتے تھے : ’’ آپ میرے باپ کی طرح ہیں ۔‘‘ مرزا صاحب آمر بننا چاہتے تھے، جس کی تمنا ان کے ہاں دورہ اسپین کے دوران جاگی ۔ فیروز خان نون نے بتایا ہے کہ عام انتخابات کے بارے میں جان بوجھ کر شکوک پیدا کئے گئے حالانکہ انھوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ مقررہ وقت پر ہوں گے مگر ایک مقتدر شخصیت نے یہ بات پھیلا دی تھی کہ انتخابات کسی صورت نہیں ہوں گے، اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ اس وزیر اعظم سے جس کی کوششوں سے گودار پاکستان کا حصہ بنا، منصب چھین لیا گیا۔

دلچسپ بات ہے کہ اس زمانے میں بھی آج کی طرح غیر جمہوری قوتوں کے آلہ کار صحافی کم نہ تھے اور سیاست دانوں کو مخصوص ایجنڈے کے تحت بدنام کیا جاتا تھا۔ نون کے بقول:

’’ بدقسمتی سے میرے دور میں مارشل لا کے نفاذ تک بالخصوص اخبارات نے اپنے رہنماؤں پر حملہ کرنے ، جماعتی اختلافات کو ہوا دینے اور ذاتی عداوتوں کا بیج بونے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ان کا رویہ اکثر وبیشتر غیر ذمہ دارانہ تھا ۔ اسی غیر ذمہ دارانہ رویہ نے اکتوبر1958سے پہلے غیر یقینی فضا پیدا کرنے میں مدد دی۔ عوامی نمائندوں پر حملے اور محض سنسنی پھیلانے یا ذاتی مفاد پورے کرنے کے لیے طرح طرح کی خبرسازی اور ان کی اشاعت روز کا معمول بن چکی تھی۔‘‘

سکندر مرزا کو انتخابات کسی طور وارا نہیں کھاتے تھے، وہ جانتے تھے کہ اس سے گیم ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ 1954میں مشرقی پاکستان میں ہونے والے صوبائی انتخابات کے نتائج ان کے ذہن میں ہوں گے جس میں جگتو فرنٹ نے 310میں سے 301نشستیں جیت کر مسلم لیگ کا صفایا کردیا تھا ۔سکندر مرزا کسی شخص کا نہیں ذہنیت کا نام ہے جسے انتخابات کے نام سے چڑ ہے کیونکہ یہ سازشوں کا توڑ ہوتے ہیں ۔بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں قیام پاکستان کے 23 برس بعد پہلے عام انتخابات ہوئے جبکہ اس وقت تک ہندوستان میں چاردفعہ عام انتخابات ہوچکے تھے اور پانچواں ہونے جا رہا تھا۔

انتخابات کو ٹالنے کے لیے کسی کے اشارے پر مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے شوشے چھوڑے جاتے رہے۔ نامور مسلم لیگی رہنما چودھری خلیق الزماں الیکشن کے بائیکاٹ کا نعرہ لگاتے رہے ۔ کبھی سرد موسم کا بہانہ تراشا جاتا ۔کراچی کے شہریوں کی طرف سے صدر کوسپاس نامہ بھی پیش کیا گیا جس میں پارلیمانی نظام حکومت کی جگہ کوئی اور نظام لانے پر اصرار تھا ۔ آج ساٹھ برس بعد بھی پارلیمانی نظام کے خلاف سازش جاری ہے اوراس کی جگہ کسی اور نظام کو لانے کی باتیں چلتی رہتی ہیں۔ انقلابی کونسل کے پوسٹر اور اشتہار دارالحکومت کی دیواروں پر چسپاں ہوئے ، بالکل اسی طرح جیسے اب بھی دیانت دار ٹیکنو کریٹس کی حکومت کی شدنی چھوڑی جاتی ہے۔ مخلوط اور جداگانہ طرز انتخاب کا قضیہ اٹھایا گیا۔ اصول نیابت پر ریفرنڈم کی تجویز پیش ہوئی ۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ الیکشن کمیشن کا کردار بھی مشکوک تھا جو اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مخلص ہے ۔سو باتوں کی ایک بات یہ کہ انتخابات نہ ہو سکے اور ملک مارشل لا کی گہری کھائی میں جا گرا ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔