بھائی چھوٹی بہن کی فیس کیوں جمع نہیں کروا سکا؟


دو بچیوں کا باپ اور چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ضیاالدین ایڈووکیٹ گذشتہ سال آٹھ اگست کو عدالت گیا تھا جہاں سے اسے اپنی چھوٹی بہن کی سکول فیس جمع کرانے جانا تھا لیکن وہ سول ہسپتال چلے گئے جہاں دیگر ساتھیوں سمیت خودکش بم حملے کا نشانہ بن گئے۔

ضیا الدین ایڈووکیٹ کی والدہ شاکرا بی بی کا کہنا ہے کہ میرا تو ایک بیٹا تھا جس کے جانے کے بعد گھر میں کوئی آسرا نہیں بچا ہے۔

گذشتہ سال آٹھ اگست کو بلوچستان بار ایسو سی ایشن کے صدر انور بلال کاسی کو ٹارگٹ کر کے ہلاک کیا گیا، ان کی ہلاکت پر جب وکلا کی ایک بڑی تعداد سول ہپسپتال کوئٹہ پہنچی تو خودکش بم حملے کیا گیا جس میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جن میں 56 وکلا تھے۔

اس خود کش بم دھماکے میں زخمی ہونے والے ایڈووکیٹ راجیش کولی سمیت 20 وکلا تاحال زیر علاج ہیں۔ راجیش دھماکے کی جگہ سے صرف چند قدموں کے فاصلے پر تھے، وہ اس خود کش بم حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انھیں سی ایم ایچ منتقل کیا گیا لیکن وہاں بدقسمتی سے اتنی سہولیات دستیاب نہیں تھیں جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

راجیش کے پانچ آپریشن ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک وہ بیساکھی کی مدد سے چلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ‘دھماکے کی آواز اور اس کے بعد چیخ و پکار کی آوازیں اب بھی ان کے کانوں میں گونجتی ہیں اور وہ سو نہیں سکتے ہیں۔’

صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ملوث ماسٹر مائینڈ ہلاک ہو چکا ہے لیکن وکلا کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟ اس کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدر شاہ محمد جتوئی کا کہنا تھا کہ آج تک اس بات کی تحقیقات نہیں ہوسکی کہ آخر وکلا کو نشانہ کیوں بنایا گیا تھا، اصل کڑی کہاں جا کر ملتی ہے یہ کچھ سامنے نہیں لایا گیا۔

‘یہ انصاف کے نام پر بہت بڑا چیلنج ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ہم انصاف کے حصول کے لیے لوگوں کی مدد کرتے ہیں لیکن جب ہمیں انصاف نہیں ملے گا تو لوگوں میں یہ سو چ پیدا ہوگی کہ جب انصاف دلانے والوں کو انصاف نہیں ملتا تو وہ ہمیں کیا انصاف دلائیں گے؟

کوئٹہ میں اس دھماکے کے بعد کئی وکلا کے چیمبرز ویران ہوگئے۔ سپریم کورٹ میں پیش ہونے والے ایسے کئی وکلا تھے جن کے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں روزانہ آٹھ سے دس مقدمات کی سماعت ہوتی تھی۔

ان سینئیر وکلا کی ہلاکت کے دو ماہ تک عدالت کا کام شدید متاثر ہوا۔ ہلاک ہونے والے وکلا کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا گیا۔

بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدر شاہ محمد جتوئی کا کہنا ہے کہ زخمیوں کے مکمل علاج، ہلاک ہونے والے وکلا کے لواحقین کے لیے ملازمتوں اور بچوں کی تعلیم کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے پہلی ترجیح بیواؤں کو دی گئی، اس کے بعد بھائی یا دوسرے قریبی رشتے داروں کو ملازمت دی جائے گی، اس کے علاوہ سرکاری آسامیوں کی دستیابی بھی ضروری ہے لیکن حکومت اپنے وعدے پر قائم ہے۔ بلوچستان میں اہل دانش کی ہلاکتیں اور گمشدگیاں تو ایک دہائی سے جاری تھیں لیکن جو قانون اور آئین کی بالادستی کی بات کیا کرتے تھے اب تو وہ بھی محفوظ نہیں رہے۔

پہلے کوئٹہ پریس کلب کے باہر قدیر بلوچ کے احتجاجی کیمپ میں کچھ تصاویر تھیں لیکن اب کوئٹہ کے تقریباً ہر چوک پر ایک تصویر لگی ہے۔ یہ تصویر باز محمد کاکڑ کی ہے۔ بلوچستان بار کے صدر شاہ محمد جتوئی کا کہنا ہے کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا وہ پہلے بھی غیر محفوظ تھے اور اب بھی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 371 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp