راجہ صاحب کی غیرت جاگ گئی


ملتان میں عدالت کے باہر بھائی نے بہن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔شہید محبت کا جرم اپنی مرضی سے شادی کرنا تھا۔ راجن پور کی کلثوم کے  سترہ سالہ بھائی نے پستول سے وہ بھیجا ہی اڑا دیا جس سے محبت کا اکھوا پھوٹا تھا۔ محبت مار دی اور غیرت کی تاریخ میں ایک ہندسہ بڑھا دیا۔ عورت فاؤنڈیشن والوں نے بتایا ہے کہ سال 2016ء کے دوران ملک بھر میں عورتوں پر تشدد کے 7852  واقعات رپورٹ کیے گئے۔ عورت فاؤنڈیشن نے عورتوں پر تشدد کی اپنی ہی ایک تعریف گھڑ رکھی ہے۔ 1988 میں چند ماہ اس تنظیم کے دفتر میں کام کیا، اس کا نمک کھایا۔ احسان کا تشکر واجب ہے لیکن انصاف کی بات کرنی چاہئیے۔ علما نے بار بار واضح کیا ہے کہ عورتوں سے ایسی مارپیٹ کرنا جس سے جسم پر نشان نہ پڑے، تشدد نہیں کہلاتا۔ چنانچہ ایسا سلوک تو قطعاً تشدد نہیں کہلائے گا جس سے انسان کے سینے میں کھیوڑے کی کان نمودار ہو جائے۔ دل پر سیاہ دھبے اور روح پر نیلے نشان ابھر آئیں۔ یہ جھگڑا نشان ہی سے شروع ہوتا ہے۔ تفصیل اس کی بالغ پڑھنے والے اپنے ہم عمر عقل والوں سے پوچھ لیں۔ قصہ یہ ہے کہ ملتان کی عدالت کے دروازے پر جو تشدد کیا گیا ہے اس کے دھبے عدالت کی دہلیز پر نمودار ہو گئے ہیں۔ ایک دھبہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کی میز پر لگا ہے، ایک دھبہ متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر کی صوت میں نمودار ہوا ہے۔ آپ ان دھبوں سے بالکل نہ گھبرائیں۔ تشویش کی اصل بات تو گذشتہ برس سامنے آئی تھی۔ ایک تعلیمی درسگاہ کے طلبا و طالبات نے دھبوں کے بارے میں ایک کمپین چلائی تھی جس پر باذوق حلقے بہت جزبز ہوئے تھے۔ تعلیمی ادارے کا نام گالی دشنام کے طور پر متعارف ہوا۔ طالب علموں کی جان عذاب میں آئی اور اگر کسی کم بخت نے ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے یا سمجھانے کی کوشش کی تو اسے بے نقط سنائی گئیں۔ بے نقط کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس پر نہ کوئی نقطہ ہوتا ہے اور نہ کوئی نشان۔ دھواں بھی نہیں اٹھتا، تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔۔۔۔

ابا مرحوم کے ہر قول اور فعل میں ایک گرہ ہوتی تھی۔ اس کی نشاندہی کی جاتی تو ابا سگریٹ کا دھواں منہ کی بجائے ناک سے نکالتے تھے۔ اماں بھی سر جھکائے پتیلی میں کفگیر چلاتی رہتی تھیں۔ کچھ دن گزرنے کے بعد کوئی مصیبت ٹوٹتی تو سب کو معلوم ہو جاتا کہ ابا کی گرہ میں دو نمبری تھی اور یہ کہ ابا کی گرہ کٹ گئی ہے۔ دل کا داغ اجاگر ہو کر پوری بستی کو شرما رہا ہے۔

دیکھیے، معاشرے میں ذہانت کے درجے پائے جاتے ہیں۔ غلط کام کرنے والا اپنی ذہانت کا اسیر ہوتا ہے۔ کم عقل انسان منصوبہ بندی کرتا ہے کہ اس نے اپنے ہدف تک پہنچنے کا ایسا کم خرچ بالانشین نسخہ دریافت کیا ہے جو اس سے پہلے کسی کو نہیں سوجھا تھا۔ وہ اپنے ہی گھٹنے پر ہاتھ مار مار کے اپنی ذہانت کو داد دیتا ہے اور داؤ کھیلتا ہے۔ پھر انکشاف ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت کی تنگنائے سے باہر ایک بہت بڑی دنیا موجود ہے جس نے بہت پہلے یہ شارٹ کٹ آزما کے اسے مسترد کر رکھا ہے۔ اندھیری گلی میں پاؤں رکھنے والا سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا۔ انسانی تجربے کا خفیہ کیمرہ ہر نقل و حرکت کو دستاویز کرتا ہے اور معاملہ طشت از بام ہو کر رہتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں جرم کا تاوان ادا کرتا ہے یا نہیں۔ گورے کہتے ہیں کسی کو کھانا مفت نہیں ملے گا۔ انسانوں کی تاریخ کہتی ہے کہ جرم کیا جائے گا تو اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔ یہ قیمت ایک فرد ادا کرے گا یا ایک پورا گروہ یا ایک پوری نسل۔ انسانوں نے جرم اور امتناع کا تعین کرنے میں ہزاروں برس صرف کیے ہیں۔ بہت سے افعال ماضی میں جائز تھے، آج ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ گزرے ہوئے کل میں بہت سے ممنوعہ منطقے تھے، آج کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتا۔ یہ ذہانت اور حماقت کا تصادم ہے۔ ذہانت مسلسل حماقت کے تعاقب میں ہے۔ ایک روایت میں پوشیدہ حماقت کے نتائج معلوم ہوتے ہیں تو اسے جرم کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ ایک فعل کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تو کسی کا نقصان ہی نہیں ہوتا، الٹا ایک بے معنی معاملے میں توانائی ضائع کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ متعلقہ معاملے کو جرم کی فہرست سے خارج کر دیا جاتا ہے۔

قبلہ گاہی ابا مرحوم کے مشیر خاص لال خان تھے۔ پچاس کے پیٹے میں تھے، دوہرا تن و توش، چہرے پر کھچڑی داڑھی بہار دیتی تھی۔ ابا کے ہر منصوبے کی پریس کانفرنس لال خان ہی کیا کرتے تھے۔ ہنر ان کا یہ تھا کہ وہ پنجابی جملے کے بیچ میں انگریزی کا کوئی گرہ دار لفظ برت جاتے تھے۔ مثلا ایک دفعہ دادا ابا نے پوچھا کہ لائل پور میں حاجی بشیر کے ساتھ کیا معاملات طے پائے ہیں؟ چارپائیوں، موڑھوں اور ٹوٹی ہوئی کرسیوں پر، جس کو جہاں تھاہ ملی، غور سے گفتگو سن رہا تھا۔ لال خان نے کمال اداکاری سے اپنا ہاتھ کمر پر اس طرح رکھا کہ دایاں بازو چائے دانی کا دستہ بن گیا اور فرمایا، “یہ تو ڈاکومنٹ آنے پر معلوم ہو گا”۔ مجلس برخواست ہوئی تو گرونانک پورہ میں ڈاکومنٹ کا لفظ گونج رہا تھا۔ مثلاً ڈاکومنٹ آنا ہے۔ ڈاکومنٹ آئے گا، ڈاکومنٹ کب آئے گا۔ ایک خیال یہ تھا کہ لال خان نے اپنا ایک دوست بلایا ہے جو ڈاکو ہے، یہ ڈاکومنٹ چند ہفتے بعد عدالت کے ایک سمن کی صورت میں ظاہر ہوا، مئی کا مہینہ تھا اور 1973 کا سال۔ ہرکارے سے سمن وصول کیا گیا۔ سارا گھر سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ بچے سہم گئے، اماں نے سوتی چادر اچھی طرح سے اپنے گرد لپیٹ لی۔ اچانک دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ بڑے بھائی نے دروازے کی طرف دیکھ کر کہا۔ لال خان آیا ہے۔ دادا ابا نے حقے کی نے منہ سے الگ کرتے ہوئے کہا، اب کوئی نیا چاند چڑھائے گا۔ اس کے بعد لال خان کا نام چاند خان رکھ دیا گیا۔

ایک روز صبح سویرے اطلاع ملی کہ لال خان کا بیٹا ناصر بندوق صاف کر رہا تھا کہ اچانک گولی چل گئی جو اس کی بہن کو جا کے لگی، بہن مر گئی ہے۔ ایف ایس سی کا طالب علم ناصر تھانے میں ہے۔ ابا مرحوم حکیم نظام دین کے مطب میں لال خان کے ساتھ سر جوڑے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ اماں تو برقع اٹھا کر لال خان کے گھر چلی گئیں۔ ہم بچے سرگوشیوں میں اس حادثے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ساتویں جماعت کے طالب علم نصیر نے کہا کہ اس میں کیا مسئلہ ہے۔ ناصر کو کہنا چاہئیے کہ میں نے غیرت میں قتل کیا ہے۔ درویش کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ یہ لفظ ایک آدھ بار سن رکھا تھا لیکن یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ بہن کے قتل میں غیرت کہاں سے چلی آئی۔ اگلے روز اماں پھوپھی جان سے سرگوشی کر رہی تھیں۔ صرف اتنا سنائی دیا کہ “بہنوئی کو تو کچھ نہیں کہا”۔

یہ سب سمجھنے کے لیے راجہ صاحب سے ملنا پڑا۔ راجہ صاحب کوٹلی سے آئے تھے، گورا چٹا رنگ، گھنی مونچھیں، لہجے میں وہ گھلاوٹ جو ابلے ہوئے چاولوں کے ساتھ خوش ذائقہ لال لوبیے کا سالن کھانے سے پیدا ہوتی ہے۔ کمرہ جماعت میں اساتذہ کے ساتھ ادبی تبادلہ خیال راجہ صاحب ہی کرتے تھے، حرفوں سے بنے تھے۔ ہم عمروں میں دوستیاں حماقت اور ذہانت کے رشتوں میں بندھی ہوتی ہیں۔ ہم نے سمجھ لیا کہ راجہ بہت کام کا آدمی ہے۔ راجہ کے پاس ایک گھنٹہ بیٹھنے سے دو کتابوں کے برابر علم حاصل ہوتا ہے۔ راجہ صاحب سے استفادے کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل نمبر چودہ کے چکر لگائے جاتے تھے۔

ارے مے گسارو سویرے سویرے

خرابات کے گرد پھیرے پہ پھیرے

ایک دن راجہ صاحب نے بتایا کہ ان کی چھوٹی بہن کی شادی ہے، وہ ایک ہفتے کے لیے کوٹلی جا رہے ہیں۔ مگر تیسرے روز راجہ صاحب ہوسٹل کے احاطے میں اخبار پر رکھ کے اچار پراٹھا کھا رہے تھے۔ “راجہ صاحب آپ تو کوٹلی گئے تھے؟” بے نیازی سے جواب ملا۔ “گیا تھا، واپس آ گیا ہوں”۔ کیا ہوا؟ معلوم ہوا کہ راجہ صاحب گھر پہنچے۔ وہاں شادی کی خوشیاں اتری تھیں۔ ڈھولک پٹ رہی تھی، راجہ صاحب کے والد گرامی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر تھے۔ وہ انہیں محبت سے والد صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ والد صاحب نے شادی کے دعوت نامے راجہ صاحب کو تھما کر کہا کہ عزیز و اقارب کے گھروں پر دے آئیے۔ راجہ صاحب کی مونچھوں میں مسکراہٹ کوندی اور کہا، “والد صاحب جاتا ہوں۔ ایک بات پوچھ لوں؟” اور بات کیا پوچھی “والد صاحب یہ جو ہونے جا رہا ہے، یہ اگر بہن اپنی مرضی سے کرتی تو ہمیں کیا تکلیف تھی؟ ہو گا تو اب بھی وہی۔ اب ہم ڈھول بجا رہے ہیں اور ایک ایک کا دروازہ بجا کر اطلاع دے رہے ہیں۔” اس پر حضرت عالم نے جوتا اٹھا لیا اور راجہ صاحب کی دھلائی کر دی۔ راجہ صاحب نے پراٹھے کا آخری لقمہ اٹھتے ہوئے کہا۔ “اتنے بڑے ہجوم میں پٹائی سے میری غیرت جاگ گئی۔ میں نے دعوت نامے ابا کے تکیے پر رکھ دئیے اور سوا تین روپے کا ٹکٹ لے کے لاہور چلا آیا۔ سوال کا جواب جوتے میں دیتے ہیں، کوئی غیرت ان میں باقی نہیں۔”


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔