روحِ عصر پہ ایک محاکمہ


muhammad abubakarتمدن کے آغاز سے ہی مجموعی انسانی سرگرمیوں کے تاریخی ظہور کو معتبر سمجھے جانے کا رویہ پختہ ہونا شروع ہوا۔ انسانوں کی اجتماعی حیات ایک پیچیدہ تر معاملہ ہے وہ یوں کہ ہشت پہلو باہم دگر ہیں اور ایک کو دوسرے سے جدا رکھتے ہوئے بھی ان کا باہمی تعامل پیشِ نظر رکھنا ہوتا ہے۔ اجتماعی انسانی سرگرمی جہاں تاریخ میں وقوع پذیر ہوئی ہے وہیں شانِ تکوین کی بھی حامل ہے کہ خود تاریخ انسانی سرگرمیوں کے حاصل کے سوا کچھ نہیں یا یوں کہ خود تاریخ کا نظریہ ہی  انسانی سرگرمی کی پیداوار ہے۔ تاہم اس سرگرمی کا وہ وہ حصہ ہی توجہ کا باعث ہو سکتا ہے جو تاریخی ( زمانی ) ظہور رکھتا ہو۔ اس بات کا ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ شخصیات و نظریات، رسوم و رواج وغیرہ کا حتمی تجزیہ ان کی تاریخی فعالیت کے حساب سے ہی کیا جا سکے گا اور ٹھوس اجتماعی زندگی کے تاریخی اسٹیج پر یہ تمام ایکٹر دراصل حقیقی کردار ہیں جو اس اسٹیج سے نیچے اترنے کے بعد محض ”بدروحیں” بن جاتے ہیں۔ (بدروح کی تفصیل آگے آنے کو ہے )۔ مذہبی و ماوارائی انداز فکر کا ایک پہلو یہ بھی ہے وہ بعض نظریات اور ہستیوں کو ان کے تاریخی ظہور اور اس کے تعینات سے ہٹا کر ایک مطلق صورت میں دیکھتا ہے اور نتیجتہ ان تصورات کے لئے فرار کا ایک چور راستہ پیدا ہوجاتا ہے اور جب جب تاریخی طور پر ان کا ناکام ہونا ظاہر ہوتا ہے یہ نظریات اسی چور راستے سے نکل کر مطلقیت کی رسی تھامے آسمان پر جھولا ڈال لیتے ہیں۔ اس چور راستے کو بند کرنا انسان کو ان بدروحوں سے آزادی دینا ہے۔

جدید فوضویت ((nihilism کے باوا آدم میکس سٹرنر نے ایسے تمام تصورات کو بدروحیں قرار دیا ہے جو انسان کو اپنا یرغمال بنا کر بری طرح تصرف میں لاتے ہیں۔ اس کے پیش نظر جدیدیت کے تمام تصورات بشمول لوتھر کے خدا اور فوئرباخ کے انسان، جرمن وطنیت پسندی اور مارکسی اشتمالیت  تھے جنہوں نے انسانوں سے ان تصورات کا خالق ہونے کا رتبہ چھین کر انہیں اپنا مطیع و معمول بنا لیا تھا۔ سٹرنر نے اپنے تجزیے میں تاریخِ آدمیت کا دور آخر ایک نفی پسند معاشرہ بتایا ہے جو افراد کے ایسے گروہوں کا مجوعہ ہے جنہوں نے اپنے آزاد ارادے کے تحت خود اپنی گروہ بندی کی ہے۔ سڑنر کا یہ تجزیہ اس کی کتاب (The Ego and Its Own) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سٹرنر کے دلائل جدید تاریخ فکر میں داخلیت اور سلبی فردیت کے حق میں شاید سب سے مضبوط دلائل ہیں۔ ایک وسیع اطلاق کی صورت میں یہ دلائل جدید عمرانی معاہدوں کا انکار کر کے ریاست اور سماج کے ابطال کے قریب آ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کارل مارکس نے جرمن آئیڈیالوجی میں سٹرنر کی کتاب کی نقد میں ایک پورا باب باندھا ہے جو ضخامت میں خود کتاب سے سوا ہے۔

آغازِ تحریر میں اجتماعی انسانی سرگرمیوں بشمول مذہب و ملت، سماج و تمدن کے تاریخی ظہور اور اس کے تعینات کو ہی ان نظریات کے حتمی تجزیے اور حکم لگانے کے لئے معتبر ذریعہ مانا گیا تھا۔ سٹرنر کے خیالات سے ربط دینے کے بعد اس کے منطقی حاصلات میں یہ نتیجہ بھی شامل ہے کہ کسی نظریے یا نظام کے لئے تاریخ سے فرار کا کوئی راستہ نہیں اور انسان اپنی زندگی کے مسلسل پھیلتے سفر میں اپنی آزادی کا حق استعمال کرتے ہوئے کسی نظریے کا قیدی نہیں۔ تمدن نے جو انداز فکر ہمیں سکھایا ہے اس میں خود تمدن پر تنقید کا حوصلہ بھی ہونا چائیے اور یہ حوصلہ تمدن کے امکان کی نفی کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ چنانچہ وہ افعال و افکار جنہوں نے ہماری اجتماعی زندگی کی بنیاد فراہم کر رکھی تھی اگر بودے نکلتے ہیں تو انہیں اکھاڑ کر ملبے میں بدلنے اور پھر اس ملبے سے نئی بنیاد اٹھا دینے کے سوا کوئی رویہ نہیں ہونا چائیے۔

ہمارا سماج ابھی فرد کی آزادی کے اس مرحلے کا شعور تک بھی نہیں رکھتا جہاں کوئی نظریہ اس پر حاوی نہ ہو۔ یہ سماج دراصل نظریات کا گورکھ دھندہ ہے جہاں سب کچھ اس قدر خلط ملط ہے کہ سمجھ نہیں آتا کون کہاں کس کے ساتھ ہے؟ یہ وقت ہمارے سماج میں فرد کی آزادی کے سوال کو اس نئے انداز سے پوچھے جانے کا ہے۔ تاہم اس سے پہلے یہ واضح کیا جانا اہم ہے کہ کسی نظریے کی حتمی موت کا اعلان کیوں اور کیسے کیا جائے ؟ اس سوال پر فوضویت کا جواب سیدھا اور دوٹوک نہیں ہے۔ چنانچہ سٹرنر کے خیال میں جب کوئی نظریہ تاریخی نمو میں اپنی ضد میں بدل جاتا ہے تو کہاجاسکتا ہے کہ اب اس کی فعال عمری کا خاتمہ ہوا۔ یونانی حسیت کا مثالیت میں بدلنا اور مثالیت سے مذہب اور مآلِ کار مذہب کا ارتداد میں بدل جانا سٹرنر کے نزدیک مرگ و حیاتِ افکار کا جدول ہے۔ ہم اس امر کو اپنے مقدمے سے جوڑ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ جو نظریہ بھی دم لینے کو مطلقیت کی چھتری تلے آجانا چاہتا ہے وہی اشتہاری نظریہ بعد میں بدروح میں بدل جاتا ہے۔ یاں جس کو اپنی فنا میں شبہ ہوگا وہی سب سے کم مایہ ٹھہرے گا۔ کسی نظریے کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی تاریخی پرکھ سے پہلو بچا کر خود کی سچائی میں آسمانی جواز پیدا کرے۔ یہ آسمانی جواز ماورائی فکر کا جوا ہے جو انسانوں کی لاعلمی کی قیمت پر ہی جیتا جا سکتا ہے۔ نطشے نے اسی نکتے پر ماورائیت کے ابطال میں یہ خیال پیش کیا کہ مثالیہ خود اپنی تنسیخ ہے کہ وہ خود کو ہمیشہ بالائے زمیں رکھتا ہے جب کہ سارا رن زمین پر سجا ہے۔

آج کا سوال فرد کی مرکزیت اور آزادی کا سوال ہے۔ یہ محسوس کرنے کے بعد کہ ہماری اجتماعی زندگی کی تمام بنیادیں بشمول مذہب و روایت ہمارے سر کا بار بن کر رہ گئی ہیں ہمیں اپنی گردن جھٹک دینے میں کیا مضائقہ ہونا چائیے۔

پاکستانی سماج اپنی حالیہ صورت تک پہنچنے میں جس تاریخی تسلسل سے گزرا ہے وہ کئی نظریات کی تاریخ ہے۔ دوقومی نظریے کی بنیاد پر چلنے والی تحریکِ پاکستان کی حسی فعال انگیزی ہو یا پاکستان بن چکنے کے بعد اس کے معنی و مقصد پر شعوری و غیر شعوری طور پر پیدا کیا گیا نظریاتی ابہام ہو ہم آج ایک منفی معاشرے تک آ پہنچے ہیں۔ وہ معاشرہ جو اپنی توثیق کے تمام حربوں میں ناکام ہو چکا ہے جہاں اجتماعی زندگی کو راہ نہیں ملتی اور فرد خودشعوری کی محض کوشش تک ہی پہنچا ہے۔ ہمارا یہ معاشرتی بحران زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں ہے۔ ہماری اخلاقیات کا جواز تلاش کیا جانا باقی ہے۔ صنعتی و دفتری زندگی میں کرپشن جیسے مسائل اور جمہوری اداروں میں جاگیردارانہ رویہ ہماری اجتماعی زندگی  کے کھوکھلے پن کی واضح مثالیں ہیں۔ معاشرت کی بنیاد جس معاہدے پر ہے وہ زندگی کی ہر ممکنہ اجتماعی شکل کو جواز دینے کا پابند ہے مگر ہمارے یہاں کے معاملات چاہے وہ سیاسی ہوں یا سماجی کی بے جوازی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا معاشرہ اپنے قیام کا جواز بتدریج کھوتا جا رہا ہے اور یہی صورت رہی تو ایک دن یہ معاشرہ پھٹ کر اپنی نفی میں تحلیل ہو جائے گا۔ ہمیں اس مقام پر رک کر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہم سب ایک اجتماعی سماجی و سیاسی اکائی کیوں ہیں اور اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہ اس اکائی کے ارکان اپنی انفرادی حیثیت میں اکائی کے اندر کس لحاظ سے اپنی آزادی زیادہ سے زیادہ برقرار رکھنے کے اہل ہیں؟ ان سوالات کے جواب ازبس ضروری ہیں کیونکہ ان پر ابہام ہمارے معاشرتی انہدام کو مزید تیز کردے گا۔ ہماری موجودہ نسل منفی معاشرے کی پہلی نسلوں میں سے ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس کے لئے پرانے مفہوم کارآمد نہیں رہے اور جس کا حقیقی طرزِ حیات ابھی پہچان میں نہیں آیا۔ ایسی نسلوں کا پیدا ہونا ہاتف کی صدا ہے کہ یا تو خود کو اس حد تک بدلنے پر تیار ہو جاؤ کہ اپنی ضد تک میں بدل سکو یا پھر بکھر جاؤ۔


Comments

FB Login Required - comments