پورا پاکستان باہر نکل آیا ہے: دانیال عزیز


سابق وزیراعظم نواز شریف کے اسلام آباد سے لاہور روانگی کے لیے سفر کا آغاز ہو گیا ہے اور ان کا قافلہ اسلام آباد کی سڑکوں پر رواں ہے۔

میاں نوازشریف کی روانگی سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیراعظم سے پنجاب ہاؤس میں ملاقات کی جس کے بعد وزیراعظم نے میاں نواز شریف کو گلے لگا کر پنجاب ہاؤس سے رخصت کیا۔ اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کے اراکین سمیت گورنر کے پی کے اقبال ظفر جھگڑا اور گورنر گلگت بلتستان بھی روانگی کے وقت موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور چوہدری نثار میاں نوازشریف کو رخصت کرنے پنجاب ہاؤس نہیں آئے تاہم روانگی سے قبل نوازشریف کی لاہور میں ان کے اہلخانہ سے ٹیلی فونک گفتگو کرائی گئی جب کہ اس موقع پر سابق سینیٹر چوہدری جعفر اقبال نے خصوصی دعا بھی کرائی۔

صدر ممنون حسین نے میاں نوازشریف کو ٹیلی فون کرکے لاہور روانگی پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی اپنے والد کو فون کیا اور خیریت دریافت کی، مریم نواز نے بھی اپنے والد کے سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

میاں نوازشریف کی پنجاب ہاؤس سے روانگی کا وقت صبح 10 بجے مقرر کیا گیا تھا تاہم پارٹی رہنماؤں سے ملاقات اور مشاورت کے باعث روانگی میں کچھ دیر تاخیر ہوئی اور سابق وزیراعظم ساڑھے گیارہ بجے پنجاب ہاؤس سے روانہ ہوئے۔ اس موقع پر کالے بکروں کا صدقہ بھی دیا گیا۔

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر پرویز میاں نوازشریف کے ساتھ گاڑی میں موجود ہیں۔ سابق وزیراعظم کے قافلے میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی جاوید مرتضیٰ عباسی، سینیٹر آصف کرمانی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیر مملکت طلال چوہدری بھی شریک ہیں۔ نوازشریف کو ججز کالونی کی طرف سے لے جایا گیا اس موقع پر مری روڈ پر تمام پٹرول پمپس بند کرا دیے گئے اور مری روڈ سےملحقہ سڑکیں بھی مکمل طور پر بند ہیں۔

سابق وزیراعظم کے قافلے کے ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے تک موبائل فون جیمرز لگائے گئے ہیں جس کے باعث اس علاقے میں موبائل فون کام نہیں کر رہے۔ کارکنان کی بڑی تعداد پارٹی پرچم اٹھائے میاں نوازشریف کے قافلے کے ساتھ ساتھ ہے۔

میاں نوازشریف کا ڈی چوک پر کارکنان سے خطاب متوقع تھا تاہم وہ خطاب کیے بغیر ہی ڈی چوک سے خیبرپلازہ اور پھر جناح ایونیو پہنچے۔ پنجاب حکومت نے میاں نوازشریف کی ریلی کی فضائی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ فضائی نگرانی آئی جی پنجاب خود کریں گے۔

ادھر محکمہ صحت پنجاب نے جی ٹی روڈ پر واقع 13 اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، تمام میڈیکل اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں ڈیوٹیز پر طلب کر لیا گیا۔ محکمہ صحت کے مطابق راہولی، سرائےعالمگیر، کامونکی اور لاہور میں ایک ایک موبائل ہیلتھ یونٹ موجود ہوگا اور 2 موبائل ہیلتھ یونٹس روات میں موجود ہوں گے جب کہ موبائل ہیلتھ یونٹس کے سامنے اور پیچھے واٹر پروف کیمرے نصب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہےکہ موبائل ہیلتھ یونٹس ریلی سے500 میٹر کےفاصلے پر رہیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی ریلی کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی میاں نوازشریف کے قافلے کے ساتھ ہے، گاڑی میں اسپیکرز اور ساؤنڈ سسٹم لگایا گیا ہے جب کہ اس کے اوپر سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کے پوسٹرز آویزاں ہیں۔ یہ خصوصی وین سابق وزیراعظم نواز شریف کے قافلے کے ساتھ لاہور جائی گی، اس کے علاوہ اسپیکرز اور ساؤنڈ سسٹم کے ساتھ 8 خصوصی گاڑیاں تیار کی گئی ہیں۔

تمام شہروں میں نوازشریف کی ریلی کااستقبال ایم این ایز اور ایم پی ایز کریں گے۔ ریلی کے راستوں پر جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں کارکنان کے لیے پانی اور کھانے کا بھی انتظام ہو گا۔ ریلی کامونکی، مریدکے اور شاہدرہ سے ہوتی ہوئی لاہور میں داخل ہو گی، سوہاوہ، دینہ، جہلم، سرائےعالمگیر، کھاریاں اور لالہ موسیٰ سے گزرے گی۔ میاں نوازشریف لاہور پہنچ کر داتا دربار پر حاضری بھی دیں گے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو بلٹ پروف گاڑی میں لاہور لایا جا رہا ہے اور سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد انہیں گاڑی سے باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔ صوبائی محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ ریلی کے راستے میں بازار بند رکھے جائیں گے اور پولیس کے مسلح اہلکار اور نشانہ باز چھتوں پر تعینات ہوں گے۔ راولپنڈی میں پولیس نے ریلی کے راستے میں آنےوالے مکانات اور دکانوں کے مالکان سے حلف نامے وصول کیے ہیں جس کے مطابق ان سے حلف لیا گیا ہے کہ ’’اپنے مکان یا دکان کو خلاف قانون استعمال نہیں کروں گا، اپنے مکان یا دکان کی چھت سے کسی کو شرارت نہیں کرنےدوں گا جب کہ ریلی روٹ پر مشتبہ افراد کی نشاندہی کروں گا‘‘۔

ذرائع کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے جی ٹی روڈ پر واقع تحریک انصاف کے دفاتر کو بند رکھا جائے گا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے ریلی کے راستے میں گڑ بڑ نہ کرنے کی یقین دہانی لی جائے گی جب کہ مسلم لیگ (ن) کی ریلی کو جلد منزل پر پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے قافلے کو اسلام آباد سے 72 گھنٹے میں لاہور پہنچایا جائے گا۔ مسلم لیگ کے رہنما دانیال عزیز نے اسلام آباد میں کہا ہے کہ پورا پاکستان نواز شریف کا استقبال کرنے باہر نکل آیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔