پیپلز پارٹی جی ٹی روڈ پر نواز شریف کے مقابل کھڑی ہے


نواز شریف سپریم کورٹ سے نا اہل قرار ہونے کے بعد کنٹینر پر سوار ہو کر عازم لاہور ہوئے ہیں۔ جمہوریت پسند لبرل طبقات ان کے طرز حکومت کے بادشاہی انداز، عوام کی فلاح پر توجہ مرکوز نہ کرنے اور پارلیمان کو نظرانداز کرنے پر ان سے ناخوش ہیں مگر وہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ غیر جمہوری طاقتوں اور جمہوریت کی جنگ ہے اور اس میں ان کو تمام تر اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے طوعاً و کرہاً نواز شریف کی جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ ان کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات ہیں۔

تحریک انصاف کی پوزیشن تو واضح ہے۔ انہوں نے میاں نواز شریف صاحب کو مسلسل چار برس کی جد و جہد کے بعد ہٹانے میں زبردست کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ان کو یہ یقین ہے کہ کرپشن کے یہ داغ مسلم لیگ ن کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی پوزیشن بھی واضح ہے۔ ان کی پنجاب اور مرکز میں حکومت قائم ہے۔ ان کو سیاسی شہادت نصیب ہو گئی ہے۔ اس بنیاد پر شریف خاندان پس پردہ رہتے ہوئے بھی حکومت کرے گا اور عوام کے پاس خود کو مظلوم بناتے ہوئے جائے گا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ مظلومیت ان کے چار برس کی خامیوں کا کفارہ ہو سکتی ہے اور اس کو شاندار طریقے سے اگلا الیکشن جتوا سکتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کہاں کھڑی ہے؟

کل پیپلز پارٹی کے پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ صاحب سے ایک نشست ہوئی۔ اس میں حاصل کلام ان کی زبان سے نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کا یہ جملہ تھا کہ ”میں نے ساری زندگی پالیٹکس کی ہے۔ بڑے جوڑ توڑ دیکھے ہیں۔ پہلی دفعہ زندگی میں کسی تاجر سے واسطہ پڑا تھا۔ پتہ چل گیا کہ تاجر اور سیاستدان میں فرق کیا ہوتا ہے“۔ نواز شریف صاحب کی کسی بدعہدی کے بعد نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم نے ہی جملہ کہا تھا۔ اس وقت یہی پیپلز پارٹی کے دل کی آواز لگتا ہے۔

میثاق جمہوریت کے وقت یہ لگتا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اپنے اپنے سبق سیکھ چکی ہیں مگر جنرل مشرف کے بعد کی تاریخ نے بتایا کہ ایسا نہیں تھا۔ ایک جانب این آر او ہوا، تو دوسری جانب میمو گیٹ پر پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کو گرانے کی خاطر میاں نواز شریف صاحب کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں کھڑے دکھائی دیے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ یوسف رضا گیلانی صاحب کو چار سال، دو مہینے اور اٹھارہ دن حکومت کرنا نصیب ہوا مگر میاں نواز شریف صاحب کی چار سال ایک ماہ اور تیئس دن کی مدت اس سے کم رہی۔

گزشتہ کچھ عرصے سے جناب آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور پیپلز پارٹی کے کارکنان ریاستی عتاب کا شکار رہے ہیں جس سے میاں نواز شریف صاحب نظریں چراتے رہے ہیں۔ ہمارے لئے حیرت کی بات یہ تھی کہ جناب آصف زرداری صاحب نے میاں صاحب کو مسلسل عوامی طور پر مخاطب کر کے میثاق جمہوریت اور اپنے حقوق کیوں یاد نہیں دلائے۔

کل کائرہ صاحب سے گفتگو میں یہ گتھی بھی سلجھ گئی۔ ہم معصوموں کو انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے ہٹانے کی کشمکش کے بارے میں بتایا۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد آصف زرداری اپنے قدم جمانے کے بعد جنرل مشرف کو صدارت سے ہٹانا چاہتے تھے مگر میاں صاحب نے انہیں جلدی کرنے پر مجبور کر دیا۔ خیر بات آگے چلی۔ جنرل مشرف نے فوری طور پر جوابی کارروائیاں شروع کیں۔ جب آصف زرداری صاحب نے جنرل مشرف کو ہٹانے کے لئے قدم اٹھا لیا تو میاں صاحب پیچھے سے غائب تھے بلکہ الٹا اپنی کچھ شرائط لے کر آ گئے کہ آپ جنرل مشرف کو ہٹانا چاہتے ہیں تو ہمارے یہ مطالبات تسلیم کریں۔ بلیک میل ہونے کے بعد آصف زرداری صاحب نے آنکھیں بند کر کے یہ تمام مطالبات تسلیم کر لئے کیونکہ ان کو یہ دکھائی دے رہا تھا کہ دوسری صورت میں ان کی پارٹی باقی نہ رہتی۔ ان مطالبات میں سے ایک چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا مطالبہ بھی تھا۔ جنرل مشرف نے سب سے پہلے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے رابطہ کیا اور پیپلز پارٹی کی حکومت پر ” 258 ٹو بی“ لگانے کے لئے ان کی مدد چاہی۔ جسٹس ڈوگر نے انکار کر دیا اور اس کی قیمت بھی چکائی۔

وہی پرانی بات ایک مرتبہ پھر پتہ چلی کہ فرشتہ سمجھے جانے والے شیطان بھی ہو سکتے ہیں اور سب سے زیادہ برا سمجھے جانے والوں کی نیکیاں بھی کسی شمار میں نہیں آتی ہیں۔ ہر شخص مکمل سیاہ یا سفید نہیں ہوا کرتا ہے۔ ہر انسان خیر و شر کا مجموعہ ہوا کرتا ہے۔

آصف زرداری کی بہت بڑی کمزوری ان کے دوست ہیں۔ کسی کو دوست سمجھ لیں تو اس پر اندھا بھروسہ بھی کرتے ہیں اور مشکل وقت میں اس کے ساتھ بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ میثاق جمہوریت کے بعد بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تو میاں نواز شریف صاحب کے رد عمل کو دیکھتے ہوئے آصف زرداری صاحب نے ان کو ایک سیاست دان کی بجائے اپنا دوست سمجھا تھا۔ ان کا یہ اندھا اعتماد ان کو لے ڈوبا۔

اب پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کو یہی یقین ہے کہ میاں نواز شریف صاحب ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک تاجر ہیں۔ ان سے سیاستدان کے طور پر بات نہیں کی جا سکتی ہے۔ ان پر بھروسہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی وجہ سے آج نو اگست 2017 کی پریس کانفرنس میں بھی قمر زمان کائرہ صاحب کا کھلا موقف یہ تھا کہ میاں نواز شریف صاحب کرپٹ ہیں اور اس ریلی کے ذریعے وہ اپنی کرپشن کو تحفظ دینا چاہتے ہیں اور یہ جمہوریت کی نہیں بلکہ کرپشن کی جنگ ہے۔ کائرہ صاحب بین السطور میں یہ کہہ گئے ہیں کہ اگر یوسف رضا گیلانی صاحب کو ہٹائے جانے سے جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچا تھا اور راجہ پرویز اشرف صاحب نے اسمبلی کی بقیہ مدت پوری کی تھی، تو میاں صاحب کو ہٹانے سے بھی آسمان نہیں ٹوٹے گا، مسلم لیگ ن کا جمہوری وزیراعظم اپنی اسمبلی کی مدت پوری کرے گا۔

اس صورت میں اب پیپلز پارٹی واضح طور پر جی ٹی روڈ میں مسلم لیگ ن کی ریلی کے آگے روک بنا کر کھڑی دکھائی دیتی ہے اور اس کی مخالفت پر کمربستہ ہے۔ اس ریلی کے دوران اس کی آواز بلند ہوتی رہے گی۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 763 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar