گوبر کی خوشبو اور پوٹھوہاری موٹے


\"zafarبرادرم وقار احمد ملک نے لائل پوری موٹے کو معاف کرنے یا نہ کی صلاح مانگی ہے جب ان کی جیب میں ستر روپے تھے اور لائل پوری موٹے نے دھوکے سے کیک کھلا کر ان کے پیسے لوٹے تھے۔ بھائی وقار ملک! ابھی ٹھہرو، اس لائل پوری موٹے کو معاف نہ کرنا۔ میں ذرا پیسوں کی ایک داستان سنا لوں۔

کوئٹہ میں ہم نے کبھی پتلون نہیں پہنی تھی سوائے این سی سی کی وردی کے۔ اسلام آباد پہنچے تو یونیورسٹی والوں نے پتلون پہننے پر مجبور کر دیا۔ اصل میں ہوا یوں کہ ہم بہت اچھے مقرر تھے۔ یونیورسٹی والوں نے ہماری تقریر سنی تو مقابلے کے لئے منتخب کر لیا۔ مقابلے میں شرکت کے لئے پتلون، شرٹ اور ٹائی لازمی قرار پائے۔ ہم شرٹ، پتلون اور ٹائی لینے پہنچے تو جیب نے صرف پتلون اور ٹائی کی اجازت دی۔ ناچار اگلی صبح پتلون میں قمیض اڑس لی۔ یونیورسٹی پہنچ کر کیا سبکی ہوئی یہ الگ داستان ہے۔ اصل میں تو اس یونیورسٹی میں آمد بھی ایک تقریری مقابلے سے ہوئی۔ ہم نے اس یونیورسٹی میں ایک تقریری مقابلے میں شرکت کی تھی جو پتہ نہیں کیسے جیت گئے تھے۔ ہمارے ساتھ کوئٹہ سے ایک ڈی سی صاحب کے بیٹے بھی تھے۔ ڈی سی صاحب اور اس یونیورسٹی کے کرتا دھرتاﺅں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ہم کوئٹہ میں ضائع ہو جائیں گے۔ ہمیں ادھر ہی داخلہ لینا چاہیے۔ ابا حضور بڑی مشکل سے مانے۔ کوئٹہ سے ویگن میں بیٹھ کر ڈی جی خان پہنچا۔ وہاں سکائی ویز کوچ میں بیٹھ کر رات چار بجے پیر ودھائی اڈے پہنچا۔ اڈے پر بیس روپے میں ایک چارپائی نصیب ہوئی۔ صبح حمام میں نہا کریونیورسٹی پہنچے تو وہ پہچاننے سے انکاری ہو گئے۔ ریلوے اسٹیشن پنڈی کے قریب پچاس روپے روزانہ میں کمرہ لیا۔ گیارہ دن مسلسل پنڈی اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک پیدل آتا جاتا رہا۔ گیارھویں دن زبیدہ جلال ملیں۔ ساری رام کتھا سنا دی۔ وہ منسٹر ایجوکیشن تھیں۔ داخلہ ہو گیا۔ مگر اس بیچ جوتے کا تلوا گھس گیا۔ اسلام آباد میں وہ دن بھی آئے کہ میرا کل اثاثہ سینتیس روپے کے کچھ سکے تھے۔ اسلام آباد کے آئی ٹین ون سیکٹر کے پاس منڈی کے چھپر ہوٹل پر جب میرے یہ سینتیس روپے ختم ہوئے تو میں نے باقی سولہ دن نکالنے کے لیے ڈھابے کے مالک خان چاچا کو اپنا ٹیپ ریکارڈر گروی رکھوا دیا۔ رات کو جب کمرے کا دروازہ بجا تو خان چاچا نم آنکھوں ٹیپ ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔ بیٹا مجھ سے نماز نہیں پڑھی گئی۔ تو اپنا ٹیپ لے لے۔ \"dhaba\"تیرے پیسے آ جائیں تو دے دینا۔ خان چچا کے وہ آنسو اب بھی کبھی کبھی اپنے دامن میں گرتے محسوس ہوتے ہیں۔

دل مضطرب ہے کہ نارسائی کی کچھ داستانیں مزید سناﺅں مگر اپنی ذات کی برہنگی کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ برہنہ ہو کر انسان بہت کم ظرف لگتا ہے۔ اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ اب خان چاچا نے ٹیپ ریکارڈر بھی واپس کر دیا تھا۔ پیسوں کا کچھ نہ کچھ بندوبست تو کرنا تھا۔ یاد آیا میرے ایک ماموں جب اسلام آباد آئے تھے تو بتا گئے تھے کہ اگر کبھی اشد ضرورت کے وقت پیسوں کی ضرورت پڑی تو فروٹ منڈی میں ان کے ایک حاجی صاحب دوست ہیں۔ پیسے ان سے لے لوں۔ پیسے ایک بار پھر ختم ہو گئے۔ صبح یونیورسٹی جانے کی بجائے فروٹ منڈی حاجی صاحب کی خدمت میں پہنچا۔ حاجی صاحب بہت بڑے ڈیلر تھے۔ پیسوں کے بنڈل میز پر دھرے تھے۔ کسی کو چار بنڈل پکڑاتے کسی سے آٹھ بنڈل پکڑ لیتے۔ تین گھنٹے میں نو کپ قہوہ پینے بعد حاجی صاحب سے اجازت لی کیونکہ نہ حاجی صاحب نے آنے کا مقصد پوچھا نہ مجھے بتانے کی ہمت ہوئی۔ دن بھر کی آوارہ گردی کے بعد جب شام کو اپنے کمرے پہنچا تو تالے میں ایک رقعہ ٹھونسا ملا۔ لکھا تھا۔ آپ کے خالو آئے ہیں۔ پنڈی صدر میں فلاں ہوٹل میں قیام پذیر ہیں۔ آپ کو ملنے کی تاکید کی ہے۔ جیب میں اٹھارہ روپے بچے تھے۔ آئی ٹین سے پیرودھائی کا ایک ڈیڑھ کلومیٹر کا سفر پیدل طے کیا اور وہاں سے ویگن پکڑ لی۔ ہوٹل پہنچا۔ خالو سے ملاقات ہو گئی۔ آتے سمے انہوں نے ایک ہزار روپے کا نوٹ جیب سے نکال کر میری طرف بڑھایا۔ میں نے روایتی انکار کیا۔ وہ بضد ہوئے کہ ”شٹوڈنٹ“ ہو میاں رکھ لو ضرورت پڑے گی۔ نوٹ جیب میں ڈالتے ہی میں حساب کتاب میں مصروف ہو گیا کہ یونیورسٹی کے کینٹین میں کتنا ادھار ہے؟ خان چاچا کا کتنا ادھار ہے؟ مہینے کی کونسی تاریخ ہے اور کتنے اضافی بچیں گے۔ میرے حساب سے مہینہ نکل سکتا تھا بلکہ شاید کوئی سو ڈیڑھ سو روپے اضافی تھے۔ ابھی میں سیڑھیوں میں تھا کہ پیچھے سے ہوٹل کا ویٹر بھاگتا ہوا آیا کہ خالو بلا رہے ہیں۔ واپس پلٹا تو خالو نے ایک تھیلا تھمایا جس میں کوئٹہ سے لائے گئے بادام اور پستہ کے ایک ایک کلو کے دو تھیلے تھے۔ انہوں نے جیب سے دو سو \"pishin\"روپے مزید نکال کر تھما دیئے کہ تم نے کھانا نہیں کھایا تو یہ تمھارا کھانا ہوا۔ اب جب ہوٹل سے نکلا تو اضافی رقم ساڑھے تین سو روپے تھی۔

اپنے دو ہی شوق تھے۔ کتابیں خریدنا اور فلمیں دیکھنا۔ ان پیسوں سے کتابیں لینی ہیں یا فلمیں دیکھنی ہیں؟ ذہن میں یہی ریل چل رہی تھی۔ عقلی طور تو ووٹ فلم بینی کی طرف تھا کہ سی ڈی کا کرایہ پندرہ روپے تھا جبکہ کتاب کم ازکم بھی سو ڈیڑھ سو روپے کی ایک تھی۔ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ قبائلی پس منظر اور ٹھیٹ مذہبی معاشرے میں رہتے ہوئے فلم بینی کے بارے میں بہرحال تھوڑے سے گناہ کا تصور ابھی باقی تھا۔ تھوڑا سا گناہ میرا اپنا اجتہاد تھا کیونکہ میں اب یونیورسٹی کا طالب علم تھا اور پتلون پہننے کو گناہ خیال نہیں کرتا تھا۔ طے یہ پایا کہ آدھے پیسوں کی کتابیں اور آدھے پیسوں کی فلمیں لیکن وائے قسمت۔ جونہی اگلا موڑ مڑا، سامنے ’سی روز سینما‘ تھا۔ نو بجے کا شو شروع ہونے میں دس منٹ باقی تھے۔ ٹکٹ کی قیمت سو روپے تھی۔ پوری ایمانداری سے فلم بینی کے پیسوں سے فلم دیکھنے کا ارداہ کیا۔ فلم تو ذوق و شوق سے دیکھی مگر واپسی پر ویگن نہ ملی۔ مجبوراً رکشہ کرنا پڑا جس نے پیرودھائی تک چالیس روپے لئے۔ اب گویا صرف کتاب کے پیسے بچ گئے تھے اور یہ طے تھا کہ کتاب ہی لیں گے۔ پیر ودھائی سے آئی ٹین ون کی طرف پیدل نکل پڑا۔ راستے میں آئی ٹین ون اور فروٹ منڈی کے بیچ کے جنگل کے پاس دو پوٹھوہاری موٹے سامنے چار بھینسوں کو دھکیلتے آ رہے تھے۔ ایک انجانا سا خوف دل میں آیا کہ راستہ بدل دوں لیکن جوانی نے انکار کر دیا۔ قریب پہنچے تو ایک موٹا بولا۔ بھائی یہ فیض آباد کس طرف ہے؟ میں نے رک کر ان کو فیض آباد کا راستہ سمجھانے کی کوشش کی تو اتنے میں ایک موٹے نے نیفے سے قصائی کا ایک بڑا سا چھرا نکالا اور میرے سامنے کھڑے ہو کر کہا۔ چل بٹوہ نکال! کیوں نکالوں؟ بس اتنا ہی کہا تھا کہ پیچھے سے دوسرے نے ایک کاری وار کیا۔ ڈندا بالکل کمر بیچوں بیچ پڑا۔ سانس چند لمحوں کے لئے بند محسوس ہوا۔ دوسرے وار کی نوبت نہ آئی۔ انہوں نے جیب سے پیسے نکالے۔ ہاتھ سے تھیلا چھینا۔ ایک چھرا تھامے کھڑا رہا اور دوسرے نے بھینسوں کو آگے دھکیلا۔ جب وہ خاصی دور گیا تو یہ دوسرا موٹا بھی مجھے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ میں کراہتا کڑھتا اپنے کمرے پہنچا۔ تھوڑا سا سانس بحال ہوا تو پیٹھ پر کچھ گیلا گیلا سا محسوس کیا۔ میں سمجھا شاید خون ہو گا۔ ہاتھ لگا کر دیکھا تو گیلا گوبر تھا۔ مجھے بے اختیار ہنسی آئی۔ اب قہقہے لگا کر تو نہیں ہنسا مگر ہنسا ضرور تھا۔ کوئی فلمی سین نہیں تھا کہ میرے حواس کھو گئے تھے یا میری یادداشت چلی گئی تھی۔ دراصل مجھے رونا چاہیے تھا۔ مسافرت کے دن تھے۔ جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی۔ صبح سے پیسوں کے پیچھے خوار تھا۔ گھر سے پیسے آنے میں ابھی دس دن مزید باقی تھے۔ قدرت مہربان ہوئی۔ پیسے ملے، پستہ بادام ملا، فلم دیکھی۔ خوشی خوشی لوٹ رہا تھا کہ پیسے بھی گئے، تھیلا بھی گیا، مار بھی پڑی اور اوپر سے کپڑوں پر گوبر بھی لگ گیا مگر میں ہنس رہا تھا۔

\"Quaid-e-Azam-University\"میں بہت چھوٹا رہا ہوں گا جب ماں جی گائیوں کا دودھ دوہنے جایا کرتی تھیں۔ دسمبر کے چھوٹے دنوں میں بہت جلد اندھیرا چھا جاتا تھا۔ بجلی تو ہوتی نہیں تھی اور مجھے اکیلے کمرے میں ڈر لگتا تھا۔ میں اکثر ماں جی کے پیچھے اصطبل جایا کرتا تھا۔ ماں جی کہتی کتنی بار کہا ہے کہ سردی میں نہ نکلا کر۔ دیکھو پھر ناک بہہ رہی ہے۔ ماں جی کے ہاتھ میں کبھی گوبر والا جھاڑو ہوا کرتا اور کبھی دودھ والی بالٹی۔ ماں جھاڑو یا بالٹی رکھ کر اپنے پلو سے میرا ناک پونچھتی تو مجھے ان کی چادر سے گوبر کی بو آتی۔ بہاریں  ضرور آئی ہوں گی پر یاد نہیں ہیں، ہاں مگر کئی دسمبر گزرنے کے بعد گوبر کی بدبو خوشبو میں بدل گئی تھی۔ پوٹھوہاری موٹے کے ڈنڈے نے مدتوں بعد مجھے اس خوشبو کی یاد دلائی تھی۔ میں تھوڑی دیر گوبر کی خوشبو پر ہنسا تھا یا شاید مسکرایا تھا۔ گوبر کے انہی خوشبودار کپڑوں سمیت جب میں لیٹا تو مجھے ماں جی کی چادر یاد آگئی۔ ہنسی کب آنسوﺅں میں تحلیل ہو گئی یاد نہ رہا۔

بھائی وقار ملک! میں نے ان پوٹھوہاری موٹوں کو معاف کر دیا کیونکہ انہوں نے مجھے میری ماں کی خوشبودار چادر یاد دلائی تھی مگر میں آج بھی کچھ موٹوں کے نرغے میں ہوں۔ جوانی آج بھی کیوں کا سوال لئے کھڑی ہے۔ کچھ صاحب ہیں۔ کچھ مصاحب ہیں۔ بزعم خود وطن پرست، خوشبوﺅں سے معطر تقوی دار و شب زندہ دار، خدا کی خلوتوں کے دعویدار۔ جھگڑا کوئی نہیں ہے۔ بس راستہ روکے کھڑے ہیں کہ مجھے سوچنا انہی کی طرح ہے، بولنا انہی کی زبان سے ہے۔ دیکھنا انہیں کی آنکھوں سے ہے۔ پوجنا انہیں کے طریقوں سے ہے۔ ہم ٹھہرے ازل کے باغی۔ بھائی وقار ملک! کیا کہتے ہیں آپ؟ یہ موٹے ہمیں انسان سمجھ کر کبھی معاف کرنے کو تیار ہوں گے؟ اچھا چلیں یہ خود انسان بن جائیں بھلے ہمیں شودر سمجھ لیں۔ کم ازکم سانس لینا دشوار تو نہیں ہو گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 141 posts and counting.See all posts by zafarullah

11 thoughts on “گوبر کی خوشبو اور پوٹھوہاری موٹے

  • 06-03-2016 at 5:18 am
    Permalink

    بلوچستان میں ایک قصبہ ہے نال۔ وہاں سے غوث بخش بزنجو آئے تھے۔ بزنجو صاحب کو درویش نے ہمیشہ استاد اور رہنما جانا۔ بلوچستان ہی میں ایک جگہ ہے پشین۔ وہاں سے ظفراللہ خان آئے ہیں۔ ظفراللہ اپنے قلم سے سنگلاخ پہاڑوں پر پھول پتیاں تراشتا ہے۔ اور ان پھولوں سے خوشبو بھی آتی ہے۔ یوں میں بلوچستان سے درجنوں انسان صورت جواہرات کے نام گنوا سکتا ہوں لیکن اس دھرتی کی عظمت پہچاننے کے لئے دو نام ہی کافی ہیں۔

  • 06-03-2016 at 8:45 am
    Permalink

    ظفر اللہ خان، رلا دیا بابا، اس سے بہتر یاد نگاری کیا ہو سکتی ہے۔ میرے گھر کے ساتھ زمن چاچا نے بھینسیں پالی ہوئی تھیں۔ ان کا حال بھی کبھی لکھوں گا۔ بھینسوں کا نہیں، زمن چاچا کا ؛)

  • 06-03-2016 at 9:27 am
    Permalink

    کمال کرتے ہو ید بیضا،بھت عمدہ.

  • 06-03-2016 at 9:31 am
    Permalink

    دیپالپور کے مظافاتی علاقے کے جس گھر میں میرا قیام ہے فرش پر گوبر ملی مٹی کا لیپ کیا گیا ہے کمرے کی فضا میں بسی گوبر کی باس میں یہ تحریر کیفیات کا عملی احساس دلا رہی ہے
    جیو میرے بھائی

  • 06-03-2016 at 10:15 am
    Permalink

    ہم نہ ہنسے نہ روئے مست ہو کے پڑھتے رہے ، اکیلے میں تو کبھی نہیں مانوں گا لیکن لوگوں کے سامنے کہنا ہی پڑے گا کہ ابے کتنا اچھا لکھتے ہو یار ، پتہ نہیں یہ سچی بات کا دم تھا یا دل کو قلم بنانے کا یہ تحریر مدتوں تازہ رہے گی

  • 06-03-2016 at 10:27 am
    Permalink

    دلچسپ قصہ ہے ۔ ایسے واقعات سب کے ساتھ پیش آتے لیکن اتنے دلچسپ انداز میں کم ہی کوئی لکھ پایا ہے ۔ اور جیسا میرے ساتھ جارحانہ رویہ رکھا تھا اس کے پیش نظر دل کو سکون بھی ملا ، یوں لگا کہ گوبر بھرا یہ ڈنڈا میں نے ہی آپ کی کمر پر ٹکایا ہو ۔ حساب دوستاں گلہ ندارد ۔ ۔ ۔ ویسے اس ڈنڈے نے آپ کو پکا اسلام آبادی بننے سے بھی روک دیا ۔ یاد دلا دیا کہ کہاں سے ہو اور یہاں آنے کا مقصد کیا ہے ۔ تو کبھی کبھی ایسے ڈنڈے اچھے ھوتے ہیں

  • 06-03-2016 at 10:55 am
    Permalink

    تیل کی بو، گوبر کی بو، بو کچے بند گھروندے کی

  • 06-03-2016 at 2:45 pm
    Permalink

    Excellent this is story of every 3rd young man of thirld world districts

  • 06-03-2016 at 3:51 pm
    Permalink

    Very nice

  • 07-03-2016 at 3:24 pm
    Permalink

    زبردست
    آپ کے کیوں کا جواب ملے یہ دعا کرتا ہوں

Comments are closed.