سیاست کو گندگی سے بچائیں



سیاست دانوں کے لیے سیاست ایک کام ہے ایک دھندہ ہے۔ مگر آج کل کی سیاست گندی ہو چکی ہے، بلکہ یوں کہوں گا تو ٹھیک ہو گا کہ حد سے زیادہ گندی ہو چکی ہے۔ اس کا آغاز جب بھی ہوا مگر آج کل یہ تمام حدود و قیود نہ ماننے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ ابھی چند دن پہلے پاکستان تحریک انصاف کی عائشہ گلالئی نے عمران خان صاحب پر الزام لگا دیا کہ ان کے پاس پاکستان کی کسی بھی خاتون، چاہے وہ لڑکی ہو یا پھر عورت، کی عزت محفوظ نہیں۔ اس بات کے ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کا بیان تو بعد میں آیا چند نجی ٹی وی چینلز میں سے کچھ عمران خان کی عزت بچانے میں لگ گئے اور چند عائشہ گلالئی کا ساتھ دینے میں اور خان صاحب کی عزت اتارنے میں لگ گئے۔ اور عوام یہ سب ایسے چسکے لے لے کر دیکھنے اور سننے لگے جیسے بچے پہلی مرتبہ بندر، بکری اور ریچھ کا تماشا دیکھتے ہیں۔

ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اس طرح کی باتیں اور خبریں جو پہلے کسی خاص طبقہ کے لیے تفریح کا باعث ہوا کرتی تھیں اور جن کی وجہ سے کچھ خاص قسم کے سنیما گھر آباد رہتے تھے آج تمام قوم ہی اس طرح کا طبقہ بن چکی ہے۔ آج ہم سب اتنی ذہنی گراوٹ کا شکار ہو چکے ہیں کہ ہمارے لیے کچھ بھی غیر اہم نہیں۔ ہم عزتیں اچھالے جانے کو تفریح خیال کرتے ہیں اور اس طرح کی خبریں پڑھ اور دیکھ کر ہمارے ذہن کو سکون ملتا ہے۔ ہم بحیثیت قوم ذہنی طور پر بیمار ہو چکے ہیں اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔

اب عائشہ گلالئی کی جانب چلتے ہیں انھیں چار سال بعد 2013 والے پیغامات یاد آئے۔ انھیں اب خیال آیا کہ عزت کیا ہوتی ہے۔ جب انھوں نے اپنے باپ اور بھائی کو بتایا تو انھوں نے کیوں کوئی قدم نہ اٹھایا۔ اس وقت پختون روایات کہاں گئیں؟ اور اب بھی جب آپ نے پارٹی چھوڑی تو آپ میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ آپ نیشنل اسمبلی کی نشست بھی چھوڑیں۔ وہ آپ کہہ رہی ہیں کہ عوام کی امانت ہے۔ محترمہ یہ خصوصی نشست ہے جو پارٹی نے آپ کو دی ہے۔ آپ جنرل الیکشن لڑ کر مقابلہ کر کے جیت کر نہیں آئیں۔

ساتھ ہی ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی خواتین نے جو باتیں کرنا شروع کیں سوشل میڈیا پر جس طرح کی زبان جنونیوں نے استعمال کی، وہ کرنے والی بات تھی؟ اور خان صاحب کو بھی دیر بعد یاد آیا اور انھوں نے سوشل میڈیا پر بیٹھے اپنے جنونیوں کو روکا کہ عائشہ گلالئی کی بہن کے بارے میں ایسی زبان استعمال نہ کریں، مگر ”بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے“ ۔خان صاحب کو واضح طور پر ”عائشہ گلالئی“ اور ان کی بہن کے حوالے سے پیغام جاری کرنا چاہیے تھا کہ دونوں کے حوالے سے تحریک انصاف کوئی ممبر بات نہیں کرے گا۔ اور یہ بات آغاز ہی میں کہہ دینی چاہیے تھی۔ اَب تحریک انصاف والے ”عائشہ گلالئی“ کے مقابلے میں عائشہ احد لے کو آئے ہیں، اور اب پھر خان صاحب خاموش ہیں، خان صاحب خاموشی رضامندی ہوتی ہے۔

دوسرے یہ کہ کیا پارٹی کو بھی چار سال بعد عائشہ کے والد کی کرپشن جو کہ ان کے نام پر کی گئی نظر آئی ہے۔ آج پتہ چلا کہ پیسے لیے جاتے ہیں۔ آج وہ کونسلر سامنے آ رہا ہے کہ میرے سے لاکھوں روپے لیے گئے۔ یہ کیا مذاق ہے؟ اور پرویز خٹک صاحب کس بات کے وزیرِاعلیٰ ہیں جو اس سے بے خبر رہے، کیا وہ وزیرِاعلیٰ رہنے کے اہل ہیں، دونوں ہی غلط ہیں۔ ہماری لیڈر شپ کا بھی عجیب حال ہے اپنی پارٹی میں ہونے والی ناراضگیاں خود نہیں سنبھال سکتے۔ یا چاہتے نہیں۔ کچھ دوست کہیں گے کہ سب سے پہلے تو عائشہ گلالئی نے بات کی، پریس کانفرنس کی۔ تو جناب لیڈر اور کہتے کسے ہیں۔ لیڈر کے لیے تمام کارکن کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر کو چاہیے تھا کہ وہ عائشہ گلالئی کو بلاتے، ان کی طرف وفد بھیجتے، انھیں سمجھاتے ان سے بات کرتے اور اس بات کو حل کرتے، نہ کہ فواد چوہدری کو میڈیا پر عائشہ گلالئی کی عزت کو تار تار کرنے کے لیے بھیج دیتے۔

ایک انٹرویو میں ڈاکٹر معید پیرزادہ نے سوال کیا کہ آپ کی پارٹی میں نظام درست نہیں کہ لیڈر شپ سامنے آئے۔ فلٹر ہو کر لوگ اوپری درجوں تک پہنچیں تو عمران خان صاحب کا جواب تھا کہ نہیں معید صاحب، آپ دیکھیں کہ فواد کو آئے کتنی دیر ہوئی ہے سال تودیکھیں وہ کہاں پہنچ گیا ہے۔ لیڈر شپ موقع دیتی ہے۔ اب جس میں دم ہوتا ہے وہ آگے نکل جاتا ہے۔ اوپر آ جاتا ہے۔

خان صاحب عزتوں کی میتوں پر پاوں رکھ کر اوپر جانا یہ آپ تو برداشت کر سکتے ہیں کوئی اور شاید نہ کر ے اور آپ آج فواد کے طرز عمل کو بہت سراہ رہے ہیں تو پھر طلال چوہدری کا وزیر مملکت بننا بھی کچھ غلط نہیں۔ دانیال چوہدری صاحب کا وزیر بننا بھی غلط نہیں۔ وہ سب بھی تو یہی کرتے رہے ہیں ۔ اگر نہیں یقین تو ایک نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں فواد صاحب کی گفتگو سن لیں۔اگر خان صاحب اس کو آپ صلاحیت کہتے ہیں تو معاف کیجیے گا یہ بات آپ کی صلاحیتوں کو شک کے دائرے میں لاتی ہے۔ اور آپ کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔

میری سب لیڈران سے گزارش ہے کہ خدا کے واسطے اپنی پارٹی کے اندرونی مسائل اور گند کو سرِعام نہ دھوئیں۔ ہماری جماعتوں میں بات کرنے کا کلچر کیوں نہیں پیدا ہوتا اور کیوں پروان نہیں چڑھتا۔ ہم اپنے ناراض کارکنان کی ناراضگی کو اپنی انا کا مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں۔ یہی حال مسلم لیگ ن کا ہے ۔ یہی ماجرہ پیپلز پارٹی میں ہے۔ فردوش عاشق اعوان صاحبہ اس حوالے سے خوش نصیب ہیں کہ جب وہ پاکستان تحریک انصاف میں جانے لگیں تو زرداری صاحب نے ان سے ملاقات کی ان کو منانے کی کوشش کی۔ کیا ہم ستر کی دہائی والی سیاست، اسی کی دہائی والی سیاست نہیں کر سکتے جب زیادہ سے زیادہ کسی کے برے القابات رکھ دینا مذاق ہوا کرتا تھا۔ جب کسی کی عزت کو اتارنا غلط خیال کیا جاتا تھا۔ ہماری سیاست میں اس لاٹ میں سے کیا کوئی بچا بھی ہے؟

شاید اگر ہم تلاش کریں تو صرف نواز شریف۔ نواز شریف صاحب کے ساتھ ہر قسم کا اختلاف ہو سکتا ہے ۔ وہ نااہل بھی ہو چکے ہیں مگر انھوں نے اپنی زبان سے نازیبا الفاظ کسی کے لیے کبھی استعمال نہیں کیے۔ اگر انھیں کبھی کسی شخص پر غصہ ہو تو وہ اس کے نام سے صاحب کا لفظ ہٹا دیتے ہیں۔ میں نے خود ان کے تین سے چار انٹرویوز بحیثیت پروڈیوسر ریکارڈ کیے ہیں ان میں بھی انھوں نے ”مشرف صاحب“ کے الفاظ ادا کیے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو عمران خان صاحب کا جنھوں نے ”اوئے توئے“ کی سیاست کا آغاز کیا۔ جن کی پارٹی نے حق کی بات کا پردہ اوڑھ کر، عوامی جذبات کا لبادہ اوڑھ کر، عام آدمی کو یہ احساس دلانے کی خاطر کہ آپ کے حصے کا بدلہ ہم ان عوامی نمائندگان سے لے رہے ہیں۔

اور پھر یہ ہوا کہ عوامی طور پر گالی بھی جائز ہو گئی۔ بے حیائی بھی عیب نہ رہی۔ اور بے عزتیاں فخر بن گئیں۔ آج بھی جب بلاول تقریر کرتے ہیں تو جب وہ انکل عمران کہہ کر تنقید کرتے ہیں تو ہم بلاول کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب سلجھے ہوئے لہجے میں بلاول بات کرتے ہیں تو ہمیں ان کی مردانگی پر شک ہوتا ہے۔ وہی شیخ رشید جب نواز شریف صاحب کے ساتھ تھے تو انھوں نے بے نظیر کو کیا کیا نہیں کہا اسمبلی میں اور اسمبلی کے باہر۔ پھر یہی شیخ رشید بی بی کو شہید محترمہ کہنے پر مجبور ہو گئے۔ اب اپنی پارٹی بنانے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے غائبانہ ممبر شیخ رشید نے پہلے بلاول کو بلّو رانی کہا اور جب بلاول نے انڈیا کو آنکھیں دکھائیں تو انھی شیخ رشید صاحب نے بلاول کو ” میرا شہزادہ“ کہا۔

کیا ہم سب شیخ رشید ہیں یا ہم سب کو قائداعظم، محترمہ فاطمہ جناح، لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف بننا چاہیے۔ سیاست قائداعظم نے بھی کی اور آج کی سیاسی پود بھی کر رہی ہے۔ مگر اس وقت سیاست میں اتنا گند نہیں تھا، مگر آج کی سیاست دھندہ ہے ، اور یہ دھندہ گندا بھی ہے۔ خدارا اسے گندا ہونے سے بچائیں کیونکہ آپ کو تمام دنیا دیکھ رہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔