دو سو اسی کلومیٹر


عمران خان کی ’’وزارت ِ عظمیٰ‘‘ پر میاں نواز شریف نے ایک بار پھرقبضہ کرلیا ہے کیونکہ وزیراعظم ہائوس میں خاقان عباسی کی صورت میں بھی وہی بیٹھے ہیں، پارلیمنٹ میں بھی اپنی پارٹی کی صورت میں وہی موجود ہیں، بس ایک جگہ ایسی تھی جس پر مستقل عمران خان کا قبضہ تھا اور وہ سڑکیں تھیں۔ اب یہ سڑکیں بھی میاں صاحب کے تصرف میں آگئی ہیں۔ میں جب یہ کالم لکھ رہا ہوں اس وقت پنجاب ہائوس اسلام آباد سے میاں صاحب کا قافلہ جی ٹی روڈ کے راستے لاہور کے لئے روانہ ہوچکا ہوگا جو رستے میں آنے والے شہروں میں سے ہوتا ہوا داتا کی نگری پر آ کر ختم ہوگا۔ سیاسی کٹھ پتلیوں کو اگر پہلے علم نہیں تھا تو اب علم ہو جائے گا کہ اگر عدالتیں کسی کو نااہل بھی قرار دے ڈالیں، ضروری نہیں کہ عوام بھی اس فیصلے سے اتفاق کریں اور اس عدم اتفاق کا ثبوت ان لاکھوں کارکنوں کی اس صورت میں دیں گے جو اپنے رہنما کے استقبال کے لئے 280کلومیٹر طویل شاہراہ کے دونوں طرف کھڑے ہوں گے…..!
میاں صاحب کے بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور جانے کے فیصلے کے بعد سے کٹھ پتلیوں کی حالت دیدنی ہے۔ ان کے چہروں سے یتیمی برس رہی ہے۔ انہیں کوئی بتانے والا نہیں کہ سیاست دان کے چہرے کو ان کے جذبات کا عکاس نہیں ہونا چاہئے چنانچہ ان میں سے اگر واقعی کوئی سیاستدان ہوتا تو ٹی وی پر بھی مسکراتا ہوا چہرہ نظر آتا خواہ کلیجے پر چھریاں ہی کیوں نہ چل رہی ہوتیں مگر ان کی سیاست تو نابینائوں کی وہ سفید چھڑی ہے جو انہیں راستہ سجھاتی ہے مگر لگتا ہے اس دفعہ سفید چھڑی پوری دلجمعی کے ساتھ ان کا ساتھ نہیں دے رہی۔ جو سیاسی جماعت وزارت ِ عظمیٰ کے لئے شیخ رشید عرف شیدا ٹلی کو نامزد کرے اور اپنےاس سابق چپراسی کو اس کی اوقات یاد دلانےکے لئے اسے خود بھی ووٹ نہ دے اور بنی گالہ میں بیٹھ کر اسے ملنے والے ووٹوں سے خوشی کشید کرے اور دل ہی دل میں کہے کہ اب بتائو بچو! میرے ساتھ قدم ملانے سے پہلے میرے بارے میں جو بڑھ بڑھ کر نازیبا باتیں کرتے تھے۔ اس کا جواب مل گیا نا! بائی دی وے شیخ رشید صاحب مجھ سے بہت ناراض ہیں انہیں میرا یہ ہلکا پھلکا جملہ بہت ہی برا لگا ہے کہ سیاستدانوں میں شیدا ٹلی کا وہی مقام ہے جو بیماریوں میں بواسیر کا ہے۔ اللہ جانے اس جملے میں برا ماننے والی کون سی ایسی بات تھی کہ وہ اس دن سے ٹی وی پروگراموں میں میرا نام لے لے کر مجھے کوسنے دیتے ہیں۔ حالانکہ بواسیر کوئی معمولی چیز نہیں اس کی کئی Definitions ہیں۔ یہ بادی بھی ہوتی ہے، خونی بھی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بواسیر منہ کی بھی ہوتی ہے اور شیخ صاحب کو یہ ’’مقام خاص‘‘ حاصل ہے۔
یہ رتبۂ بلند ہے جس کو مل گیا!
میاںنوازشریف کے جی ٹی روڈ کے راستے لاہور جانے کے حوالے سے بہت دلچسپ ریمارکس بھی سننے کو ملے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ یار لوگ چار سال سے مطالبہ کررہے تھے کہ میاں گھر جائو، اب وہ گھر جارہے ہیں توکہتے ہیں جی ٹی روڈ سے کیوں جارہےہو؟ موٹروے سے جائو۔ آپ یقین کریں اگر میاں صاحب موٹر وے سے بھی لاہور جانے کا پروگرام بناتے تو انہوں نے کہنا تھا کہ آپ کو اپنی قومی ایئرلائن پی آئی اے کے ذریعے سفر کرنے میں کیا جھجک ہے جو موٹروے سے جا کر قومی ایئرلائن کو ایک ٹکٹ کی رقم سے محروم کر رہے ہیں۔ ان کی خواہش تو یہ تھی کہ سپریم کورٹ نے انہیں نااہل قرار دیا ہے تو فیصلے کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے اسی وقت وزیراعظم ہائوس تو خالی کردیا ہے، اب وہ اسلام آباد میں ایک گھر خریدیں یا کرائے پر حاصل کریں اور باقی عمر اس گھرمیں یاد اللہ میں گزار دیں ۔ مگر؎
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
جب میاں صاحب کو مختلف طریقوں سے Humiliate کیا جارہا تھا اور وہ جمہوری تسلسل کو برقرار رکھنے کی خاطر یہ سب کچھ برداشت کر رہے تھے تو میاںصاحب کے مزاج سے تھوڑی بہت واقفیت کے حوالے سے میں نے ایک کالم ’’نوازشریف کو دیوار سے نہ لگائیں‘‘ کے عنوان سے لکھا تھا کہ میں جانتا تھا میاں صاحب ایک حد سے زیادہ مصالحت نہیں کرسکتے….. سو ایسا ہی ہوا اب وہ جان ہتھیلی پررکھ کر میدان میں اتر آئے ہیں اور وہ باتیں کہہ رہے ہیں جو سب پڑھے لکھے لوگوںکے دلوں پر زخموں کی صورت لگتی ہیں۔ عوام بھی یہ جانتے ہیں مگرلفظوں میں اظہار پر انہیں قدرت نہیں….. وہ میاں نواز شریف اور دوسرے اہل دانش کے خدشوں کی تصدیق اور بہت سے سوالوں کا جواب آج اپنے رہنما کا استقبال لاکھوں کی صورت میں 280کلومیٹر کے راستوں پر پھولوں کی پتیوں کی بارش سے کریں گے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔