کوڑھیوں پر خدا کی رحمت ہوئی


ہماری ایک روایتی بدترین بد دعا ہے، ”کوڑھی ہو کر مرے“۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ برصغیر، چین اور ایشیا کے بہت سے ممالک میں لوگ جذام (کوڑھ) سے بہت خوفزدہ تھے۔ اسے چھوت کی ایسی بیماری سمجھا جاتا تھا جو فوراً ایک شخص سے دوسرے کو لگتی ہے۔ یہ تصور تھا کہ اس سے اعضا گل کر جسم سے جھڑنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جیسے ہی کسی میں کوڑھ کی علامات ظاہر ہوتی تھیں تو اسے بستی سے نکال دیا جاتا تھا تاکہ دوسرے محفوظ رہیں۔ قدیم زمانے میں یہ بیماری ناقابل علاج تھی اور اس میں مبتلا شخص جسم گلنے سے سسک سسک کر ایک اذیت ناک موت کا شکار ہو جاتا تھا۔

ہمارا اس بیماری سے پہلا تعارف اس وقت ہوا تھا جب ہالی ووڈ کی مشہور فلم ”بن حر“ دیکھی تھی۔ مسیحی عقیدے کے مطابق بنائی گئی اس فلم میں ہیرو جوڈا بن حر جب سو مصائب اٹھا کر بڑا رومی افسر بن کر واپس فلسطین آتا تھا تو اپنی ماں اور نوجوان بہن کو تلاش کرتا تھا۔ اسے وہ شہر سے دور کوڑھیوں کی بستی میں ملتی تھیں اور وہ اسے خود سے دور دھکیلتی تھیں تاکہ وہ اس بیماری سے محفوظ رہے۔ کوئی اسے عیسیؑ نامی ایک ایسے مسیح کے بارے میں بتاتا ہے جو ہر بیمار کو تندرست کر دیتا ہے۔ جب وہ اس مسیح کو ڈھونڈنے نکلتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسیح کو مصلوب کر دیا گیا ہے۔ لیکن پھر فلم میں معجزہ دکھایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٔ کا صلیب سے بہتا ہوا خون بارش کے پانی سے مل کر کوڑھ زدہ لوگوں کو تندرست کر دیتا ہے۔

بہرحال ہم نے اس فلم کے ذریعے کوڑھ زدہ لوگوں کا حال جانا اور ان کی مصیبت پر غمزدہ ہوئے۔ جدید میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ جذام بہت زیادہ متعدی بیماری نہیں ہے۔ اگر مریض کے منہ اور ناک کی رطوبتوں سے بچا جائے تو محض مریض کو چھونے سے بیماری لگنے کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔ برصغیر میں بہرحال صدیوں پرانا خوف زندہ تھا جس نے جذام زدہ لوگوں کو زندہ درگور کیا ہوا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  ڈاکٹر رُتھ فاؤ 88 سال کی عمر میں چل بسیں

ایسے میں خدا نے ان دکھی انسانوں پر رحمت کی۔ جرمنی سے ایک فرشتہ ایک مسیحی راہبہ کی شکل میں نمودار ہوا۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ 1960 میں پاکستان آئیں، انہوں نے پچاس ہزار سے زیادہ خاندانوں کا علاج کیا اور 1996 میں پاکستان کو ایشیا کا ایسا پہلا ملک بنا دیا جہاں جذام پر قابو پا لیا گیا۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ سنہ 1929 میں جرمنی کے شہر لائپسگ میں پیدا ہوئیں۔ جنگ عظیم کے بعد جب روسیوں نے مشرقی جرمنی پر قبضہ کیا تو انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ مغربی جرمنی میں پناہ لی۔ 1950 کی دہائی میں انہوں نے طب کی تعلیم حاصل کی۔ لیکن وہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تھیں۔ شاید یہ جنگ عظیم کی مہیب تباہی تھی جس نے ان کی روح کو بے قرار کر رکھا تھا۔ انہوں نے راہبہ بننے کا فیصلہ کر لیا اور انسانیت کی خدمت پر کمربستہ ہوئیں۔ انہوں نے ”آرڈر آف دی ڈاٹرز آف دی ہارٹ آف میری“ نامی تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی۔

سنہ 1960 میں ان کی تنظیم نے ان کو بھارت میں مسیحی مشن پر بھیجا مگر ویزا کی پیچیدگی کی وجہ سے ان کو کراچی میں رکنا پڑ گیا۔ یہاں کی مقامی تنظیم نے ان کو جذام کے مریضوں کے بارے میں بتایا۔ یہاں سٹی ریلوے سٹیشن کے پیچھے جذام زدہ افراد کی ایک کالونی تھی۔ ان کی قابل رحم زندگی دیکھ کر ڈاکٹر روتھ فاؤ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئیں۔ انہوں نے اسی وقت مقامی تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ ان کو لگا کہ خدا نے انہیں ان کا مقصد حیات دے دیا ہے، جو ان مظلوموں کی خدمت ہے۔ اگلے برس سنہ 1961 میں وہ جذام کے علاج کی تربیت پانے کے لئے جنوبی بھارت کے شہر ویلور گئیں۔ سنہ 1965 میں انہوں نے ایک پاکستانی ماہر امراض جلد ڈاکٹر زرینہ فضل بھائی کے ساتھ مل کر طبی ورکروں کی ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا۔ ملک بھر میں وہ کام کرتی رہیں حتی کہ 1996 میں وطن عزیز کو جذام سے نجات دلانے میں کامیاب ہو گئیں۔

اسی بارے میں: ۔  گستاخ اور غدار قرار دینے والے اینکر۔۔۔

انسانیت کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو دنیا بھر میں درجنوں اعزازات سے نوازا گیا جن میں ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، ستارہ قائد اعظم اور آرڈر آف دی کراس (جرمنی) بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں دکھی انسانوں کی خدمت کرنے پر عوام کی جانب سے عبدالستار ایدھی کو بابائے انسانیت کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ کو ہم مادر انسانیت نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ ہم شکریہ ادا کرتے ہیں اس نوجوان لڑکی کا جس نے اپنی جوانی پاکستان کے ان ستم رسیدہ افراد پر قربان کی جنہیں سب نفرت و کراہت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ہم سلام کرتے ہیں اس نیک دل بڑھیا کا جس نے اپنی آخری سانس تک پاکستانیوں کی خدمت کی۔ ہم ممنون ہیں اس مسیحی راہبہ کے جس نے اپنا وطن ترک کر کے ہماری محبت میں پاکستان کو اپنا مستقل وطن اور انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد حیات بنایا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 732 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar