یہ ذرا سی اک نگارش، نگار تک تو پہنچے


سیاسی فضا آج کل اتنی مکدر ہے کہ اس پر لکھنے سے تو ہم باز آئے۔ خطوط کا دور دورہ ہے تو سوچا کہ ایک عدد خط ہی لکھ دیا جائے۔ ہمیں بچپن سے ہی خط لکھنے کا شوق تھا، ایک دفعہ بچوں کے صفحہ پر ’آپ کے خطوط ‘ میں ہماراخط کیا شائع ہو گیا ہم تو سمجھنے لگے کہ کم از کم خط تو لکھ ہی لیتے ہیں مگر جب میٹرک میں غالب کے خطوط پڑھے تو معلوم ہوا کہ ہنوز دہلی دور است۔

حسیناؤں کو خط لکھنے کی نوبت ہی نہیں آئی، ایک کو لکھا تھا تو اس نے اپنے نکاح نامہ کے ساتھ آج تک سنبھال کے رکھا ہوا ہے، جی، ہمارے نکاح نامے کا ساتھ۔ غالب کا ’چند تصویر بتاں چندحسینوں کے خطوط، بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا‘ ہم پر لاگو نہیں ہوتا، اور ہوتا بھی کیسے سمارٹ فون جو ہے، تصویر بتاں اور حسینوں کے خطوط نہاں در نہاں خانوں میں چلے جاتے ہیں کہ حوالے کے لئے نکالنا بھی عذاب بن جاتا ہے۔

خیر، بات ہو رہی تھی خط لکھنے کی۔ سیاسی لیڈروں کو خط لکھنے کا فائدہ نہیں ہے کہ ہم عوام سے ان کو صرف ووٹ چاہیے ہوتا ہے مشورہ نہیں۔ جرنیلوں کو خط لکھنے کا یارا نہیں کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے تین عدد بچے ہیں، اور ملک سے باہر ہم رہتے نہیں کہ دور دور سے ہی بڑکیں مار لیں۔ پھر کیا عوام کو مخاطب کریں؟ وہی عوام جن کے لئے ان کا سیاسی لیڈر ہی صرف پوجا کے قابل ہے، اور ہر عائشہ گلالئی کے مقابلے میں عائشہ احد ہے، اور ہر طلال چوہدری کے مقابلے میں فواد چوہدری ہے؟ اسی مخمصے میں تھے تو سوچا کہ خط لکھنے کی بجائے خط لکھنے کی ترکیب بتائے دیتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں ہماری احسان مند رہیں۔

یہاں ایک بات ذہن نشین رہے کہ ہمارے (یہ شاہانہ ہم نہیں ہے بلکہ آپ بھی اس میں شامل ہیں) خطوط کا مبلغ علم محمد رفیع صاحب کے ’لکھے جو خط تجھے‘ اور لتا جی کے ’ہم نے صنم کو خط لکھا‘ تک محدود ہے۔ غالب کے خطوط چونکہ نصاب میں شامل تھے اس لئے ان سے تو اپنی کوئی خاص بنتی نہیں، مگر آزاد کی غبار خاطر اور سرسید کے مکاتیب سرسید بھی ہمارے سر کے پلوں کے میلوں اوپر سے گزر جاتے ہیں۔ لے دے کر اختر شیرانی اور سلمی کے خطوط ہی بچتے ہیں جن پر ہمارا مدار ہے۔ اب کچھ اصولوں پر نظر ہو جائے۔

پہلا سنہرا اصول یہ ہے کہ آپ کے پاس قرطاس وقلم، یا کمپیوٹر، یا سمارٹ فون ضرور ہونا چاہیے۔ ان کے بغیر آپ مسجد میں اعلان تو کر سکتے ہیں مگر خط نہیں لکھ سکتے۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ چاہے آپ کے ذہن میں خط کے مندرجات نہیں بھی ہیں، جب خط لکھنے کی ٹھان لی تو بس اب لکھ دیں جو بھی ذہن میں آتا ہے جیسے کہ موسم کا حال، اپنا وزن یا فشار خون وغیرہ

تیسرا اصول یہ ہے کہ ہر ممکن کوشش کریں کہ خط جن کے نام ہو ان کو ہی پہنچے ورنہ نقص امن کا اندیشہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے زمانے میں ہمیں لکھے گئے کچھ خط اماں نے ڈاکیے سے لئے ہی نہیں تھے حالانکہ ان خطوط پرہمارا نام غلط سپیلنگ سے درج تھا۔ آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ کس ماہ جبین کے تھے۔

چوتھا اصول یہ ہے کہ خط لکھنے کے لئے پرانے الفاظ و القابات استعمال کرنا ضروری نہیں رہا۔ جیسے کہ مزاج گرامی، بندہ حقیر پر تقصیر، خیریت مطلوب چاہنا وغیرہ ذالک۔ اب آپ اپنی مرضی سے جو دل کرے لکھ دیں، مقصد پیغام پہنچانا ہے اپنی اردو کا امتحان دینا نہیں ہے۔

پانچویں بات ذہن میں رکھنے کی یہ ہے کہ عمومی طور پر کہا جاتا کہ قاری کے لئے لکھا جائے اپنے لئے نہیں، مگر خط میں آپ اپنے لئے لکھیں کیونکہ اگر قاری کو آپ میں دلچسپی ہی نہیں ہے تو وہ آپ کو کیوں پڑھے گا۔ ہمارے نزدیک ’اسرار حیات‘ کی یہی تفسیر ہے کہ یہاں حیات سے مراد آپ کی اپنی ہی حیات ہے۔ لہذا، آپ جیسے بھی ہیں اپنے گرد دائرہ باندھ کر اس سے باہر نکلنا دائرہ اسلام سے باہر نکلنے کے مترادف جانیں۔

چھٹی بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ کوشش کریں خط ایسا لکھیں کہ صرف نام بدلنے کی ضرورت محسوس ہو، باقی خط کا مواد بہت سارے لوگوں کے لئے کافی ہونا چاہیے۔

ساتویں بات کے لئے یاد رکھیں کہ اب زمانہ ترقی کر گیا ہے، خط پہنچانے کے لئے محلے کے چھوٹے بچوں کو ڈھونڈنے کی بجائے ڈیجیٹل ذرائع کو اختیار کریں۔ اس سے تیسری پارٹی کی طرف سے راز افشاء ہونے کا ڈر کا بھی تدارک ہو جائے گا۔ آآخری اور اہم بات یہ ہے کہ خط بھیجنے سے پہلے ایک دفعہ خود پڑھ لیں کہ بھیجنے کے قابل ہے کہ نہیں۔ ہمارا ذاتی تجربہ ہے کہ پڑھنے کے بعد غالباً آپ خط نہیں بھیجیں گے۔ اس سے دہرا فائدہ ہے کہ ایک تو وصول کنندہ نے جو خط پھاڑ دینا تھا یا جلا دینا تھا یا ’ڈیلیٹ‘ کر دینا تھا وہ نہیں ہوگا، بلکہ بعد میں ہم آپ کے نام سے شائع کرا کر اردو ادب میں ایک شاہکار کا اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔

اب ہمارے خط کا انتظار کیجئے، یار زندہ صحبت باقی۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔