کیا سویلین بالادستی کی منزل قریب ہے؟


پاکستان دنیا کا وہ بدقسمت ملک ہے جہاں دو آمریتوں کے درمیانی عرصے کو جمہوریت کہا جاتا ہے۔ اس کلئے کو حقیقت مان لیا جائے تو موجودہ جمہوری دور اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے قریب ہے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے نا اہلی کے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے کی بجائے لانگ مارچ سے مزید خدشات جنم لے رہے ہیں۔

نواز شریف کے حمایتی اور مخالفین نے ابھی سے اس بات پر بحث شروع کر دی ہے کہ ان کی ریلی تاریخ ساز ہے یا ناکام ترین لیکن حقیقت یہ ہے کہ بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور کے سفر میں اپنی سیاسی قوت کا بھرپور مظاہرہ کرنے میں انہیں کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ ان کی جماعت پنجاب اور وفاق میں حکومت کر رہی ہے جبکہ ان کے اس سفر کے دوران راستے میں آنے والے قومی اسمبلی کے پندرہ میں سے چودہ حلقوں کے اراکین اسمبلی کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔

علاوہ ازیں اس وقت ان کی جماعت کو اپنی سیاسی بقاء کا چیلنج درپیش ہے اس لئے اراکین اسمبلی سے لے کر کارکنوں تک سب کی یہ خواہش ہو گی کہ زیادہ سے زیادہ شو آف پاور کیا جائے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا نواز شریف اس تاریخی موقعے کو صرف ذاتی سیاسی مفادات کے حصول اور اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی تک محدود رکھتے ہیں یا اسے سویلین بالادستی کی منزل حاصل کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  صحافت سے جڑی لڑکی کنواری کیوں رہ جاتی ہے؟

انہیں اس وقت یہ طعنے بھی دیے جا رہے ہیں کہ وہ نوے کی دہائی میں پیپلز پارٹی کی دو حکومتیں گرانے کے ساتھ ساتھ میثاق جمہوریت کے باوجود ’میمو گیٹ‘ کا کیس عدالت لے جانے اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے تھے۔ یہ آدھا سچ ہے کیونکہ بنظیر بھٹو نے بھی نوے کی دہائی میں نواز شریف کے خلاف وہی کچھ کیا تھا جس کا الزام آج ان پر لگایا جا رہا ہے جبکہ مشرف سے این آر او کر کے وہ میثاق جمہوریت کو پہلے ہی خیر آباد کہہ چکی تھیں۔

ان حالات میں ماضی کے گڑھے مردے اکھاڑنے کی بجائے مستقبل کے حوالے سے نیا بیانیہ متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتیں ناکام نظر آ رہی ہیں۔ وزیر اعظم کے عہدے سے نا اہلی کے بعد نواز شریف کی سرگرمیوں اور بیانات کا تجزیہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اقتدار پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا نام استعمال کر کے اپنے سیاسی حریفوں پر بھی دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔

گزشتہ رات راولپنڈی میں اپنے خطاب کے دوران بھی انہوں نے اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاید ان کا پلان یہ ہے کہ ایک طرف سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر اسمبلی میں نئی قانون سازی کی راہ ہموار کی جائے اور دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نرم موقف اختیار کر کے نیب کے کیسز اور آئندہ الیکشن میں پیش آنے والی متوقع مشکلات سے نجات حاصل کی جائے۔

اسی بارے میں: ۔  ریاستی بیانیہ واضح ہے: جس کی لاٹھی اس کی بھینس

ایسے میں تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ اس وقت حکومت بھی نواز شریف کی ہے اور اپوزیشن بھی وہ خود ہی بن گئے ہیں۔ اس لے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آئندہ سیاست انہی دائروں میں گھومتی رہے گی جو نوے کی دہائی سے ہماری قسمت بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ بات سچ ثابت ہوئی تو اس سے سویلین بالادستی کی وہ منزل کبھی حاصل نہیں کی جا سکے گی جو کسی بھی جمہوری معاشرے کی اولین ضرورت ہوتی ہے۔

نواز شریف کو چاہیے کہ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر اس موقعے کو جمہوریت کی بالادستی اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کریں کیونکہ تاریخ میں انسانوں سے زیادہ ان کے کارنامے یاد رکھے جاتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نعیم احمد کی دیگر تحریریں
نعیم احمد کی دیگر تحریریں

نعیم احمد

نعیم احمد ماس کمیونکیشن میں ایم ایس سی کر چکے ہیں۔ سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔

naeem-ahmad has 2 posts and counting.See all posts by naeem-ahmad