مولویوں کا ڈالری جہاد


salim javedکس بے پرواہی سے ایک دوست نے جملہ اچھال دیا’ امریکی ڈالروں کی خاطر، مولویوں نے افغان جہاد کے نام پر ہمیں تباہ کردیا‘۔
دکھ سے میں نے سوچا کہ پاکستان کے دجالی میڈیا نے علماکے بارے میں کتنی غلط فہمیاں پھیلا رکھی ہیں۔ گویا اس دنیا میں صرف چی گویرا، ماو¿زے تنگ یا نیلسن مینڈیلا ہی اپنے ضمیرکے مطابق کوئی تحریک چلا سکتے ہیں اور دیسی لوگ، بالخصوص علما کا تو اپنا کوئی موقف ہو ہی نہیں سکتا؟ مزید حیرت یہ ہوئی کہ جہاد افغانستان تو ابھی کل کی بات ہے جس کے متعددکردار ابھی زندہ ہیں۔ تاریخِ اسلام کی ہنڈیا میں کذب وافترا کے مصالحے پہلے ہی کافی زیادہ تھے، مرے کومارے شاہ مدار، اب کل کے واقعات کو بھی افسانہ بنا دیا گیا- خاکسار نئی نسل کو اس بارے میں کچھ اصولی حقائق سے آشنا کرنا چاہتا ہے-
پہلی غلط فہمی تو یہ دورکرلیجئے کہ مولوی دوسروں کے ہاتھ کٹھ پتلی ہوتے ہیں۔ جعلی مال تو ہرپراڈکٹ میں ہوتا ہے مگر اوریجنل مولوی ہمیشہ اپنے ضمیر پر فیصلہ کرتا ہے۔ منشور کے فرق کی بنا پر، سیاسی پارٹیوں کی طرح، مولویوں میں بھی طبقات یا فرقے ہیں۔ پاکستان کے مولویوں کا ایک بڑا طبقہ بریلوی علما پر مشتمل ہے جنہوں نے اس جہاد میں اس بنا پر حصہ نہیں لیا کہ وہ اسے دوسرے مکتب فکر کی جنگ سمجھتے تھے (جیسا کہ نورانی میاں نے فرمایا تھا)- اگر مولوی اپنے فیصلے ڈالر دیکھ کر کرتے ہیں تو کیا بریلوی علماءکو ڈالر کاٹتے تھے؟ اسی طرح،روس کے خلاف، اہل تشیع نے بھی کریم خلیلی کی زیر قیادت مسلح جتھہ ترتیب دیا ہوا تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ خلیلی، امام خمینی کا متبع تھا جو امریکہ مخالف گردانے جاتے تھے تو ڈالر کہاں ہوئے؟ تیسرا طبقہ اہل حدیث مولوی ہیں جواس جہاد کے آخری دورمیں منظرعام پر آئے (علامہ احسان الٰہی ظہیرسے پہلے، اہل حدیث مولوی، سعودی وہابیوں کے ہم عقیدہ ہونے کے باوجوداس سعودی امداد سے محروم تھے جس سے جماعتِ اسلامی متمتع ہوتی تھی)۔ لشکِر طیبہ (جس کے امیرکی جان کی حفاظت کے لئے جنرل پرویزمشرف مضطرب ہوجاتا تھا) کا اس زمانے میں وجود نہیں تھا۔ کہنے کامطلب یہ کہ سکّہ بند چٹائی نشین علما (چاہے کسی فرقے سے ہوں) ان پر برائے فروخت کا الزام نری تہمت ہے۔ (یہ الگ بات ہے کہ کچھ ’اور‘ لوگ، جو فائلوں کا پیٹ بھرتے تھے، انہیں ڈالروں کا ہوکا رہا ہو)۔
افغان جہاد میں عملی حصہ لینے والے یا توعلمائے دیوبند تھے یا جماعتِ اسلامی- میں یہاں، افغان جہاد کے دورمیں صرف دیوبندی علما کے کردارپر روشنی ڈالوں گا، اس لئے کہ ہم جماعتِ اسلامی کو،بوجوہ،سکہّ بند علما سے الگ گروہ گردانتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ جہاد (یا قتال) مسلمانوں کا ایسے ہی مذہبی فریضہ ہے جیسے حج وغیرہ۔ یہ فریضہ فرد پر بھی ہے اورریاست پر بھی۔ مگر ریاست، بین الاقوامی برادری سے معاہدوں کی بھی شرعاً پابند ہے۔ 1979ءمیں روس کے افغانستان پر فوجی قبضہ کرنے کے کارن، صورت حال یوں تھی کہ ایک مسلمان ملک پر غیر مسلم ملک نے قبضہ کیا تھا۔ یہ ایک شرعی مسئلہ تھا۔ دوسری طرف افغانستان کے حکمران نے خود روس کودعوت دی تھی تویہ ایک قانونی مسئلہ بھی تھا-کسی مسلم ملک پر،ایک غیرمسلم ملک قبضہ کرے توہرمسلمان پرجہاد فرض ہو گا (چاہے اس قبضہ کی سازش میں متعلقہ مسلمان ملک کا حکمران خود بھی شامل ہو) مگرریاستِ پاکستان پربطورِریاست فرض نہیں ہوا تھا کہ مدنی ریاست ابو جندل کے زخموں کے باوجود قریش سے معاہدہ پرکاربند تھی (البتہ ابوجندل کے کسی انفردی اقدام کی ذمہ دار نہیں تھی)۔
مذکورہ صورت حال میں علمائے دیوبند نے افغان جہاد کا فتویٰ دے کر اپنا فرض منصبی ادا کیا تھا۔ یہاں علمائے دیوبند کی تنظیمی ہیئت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج کی متمدن دنیا کے روزمرہ امور پر علمائے دیوبند کی کیا رائے ہے؟ اس کے لئے ان کی ایک ہی نمائندہ سیاسی جماعت ہے جسے جمیعت علمائے اسلام کہا جاتا ہے۔ جہاد کے فریضے کے لئے بھی صرف اس جہادی گروہ کو آفیشل دیوبندی جماعت کہا جائے گا جوجمیعت علمائے اسلام کے فیصلوں کے تابع ہوگا۔
جہادِ افغانستان کے دوران،علمائے دیوبند کی نمایندہ تنظیم ’حرکت المجاہدین‘تھی اور اس کے جرنیل مولوی فضل الرحمان خلیل ابھی حیات ہیں۔ مولویوں پرڈالروں کی تہمت دھرنے والوں کوخبرہوکہ مذکورہ کمانڈر خیابان سرسید، راول پنڈی کے ایک اوسط سے گھر میں رہتا ہے۔ البتہ ان دنوں میں کچھ ’غیر مولوی جرنیل‘ بھی ہوا کرتے تھے،جن کے بچے، آج الیکشن الیکشن کھیلتے ہیں ۔ (ڈالر ضرور چلے ہوں گے مگر علمائے دیوبند میں نہیں)۔
اتنی سی بات لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی کہ اگرعلمائے دیوبند، امریکی ڈالروں پہ بِک جاتے ہیں توآج امریکہ طالبان کو مذاکرات میں لانے کے لئے کیوں منتیں ترلے کر رہا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ ڈالرخورپالیسی سازوں نے افغان سٹریٹجی کے بارے میں کتنا بڑا یوٹرن لیا، مگر کیا علمائے دیوبند نے کسی موڑ پرافغان جہاد کوغلط کہا؟ حالانکہ ان کو ’بوٹوں‘ سے دبانے کی کوشش کی گئی، کئی نمایاں علما کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی، مگر وہ اپنے موقف سے نہ ہٹے۔ یہ بھی ان کے آزاد موقف کی دلیل ہے کہ انہوں نے پاکستان میں خودکش حملوں کوحرام قراردینے کاازخود فتوی دیا جس کی پاداش میں مولانا حسن جان جیسے علما کو خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ بھی خیال رہے کہ لبرل صحافیوں کی اس چیخ وپکارکے باوجود کہ مولوی پاکستانی طالبان کی نام لے کرمذمت کیوں نہیں کرتے؟ علمائے دیوبند نے ’اسٹیبلشمنٹ‘ کے مہیا کردہ ناموں کی مذمت نہ کر کے اپنی روایتی حریت برقرار رکھی-
معلوم رہے کہ افغان جہاد امریکہ نے نہیں شروع کیا تھا البتہ ابتدائی ایام ہی میں ایسا موڑ آ گیا تھا جب پاک آرمی کو شاید ملک کی خاطر اور امریکہ کو اپنے مفادات کی خاطر اس جنگ میں ڈالر، اسلحہ و تکنیکی امداد دے کر کودنا پڑا۔ جی ہاں، اس موقع پر مجاہدین نے اس امداد کا خیرمقدم کیا اس لئے کہ دشمن کا دشمن دوست ہی ہوتا ہے۔ ( چین بھی توکافرملک ہے لیکن وہ اپنے مفاد کے تحت جب انڈیا کے مقابل ہماری امداد کرتا ہے تو ہماری’ ایمان۔ یقین اور اتحاد‘والی فوج، اس دوستی کو ہمالیہ سے بلند قراردیتی ہے)۔ بہرحال، اس امداد کے ضمن میں دیوبندی تنظیمیں صرف معسکر کی تکنیکی امداد تک محدود رہیں۔ امریکی صدر ریگن کے ساتھ وائٹ ہاو¿س میں مجاہدین لیڈروں کی ملاقات کی تصویریں موجود ہیں۔ ان میں کون سا پاکستانی دیوبندی عالم موجود ہے؟
بجا کہ ہر ادارے کی طرح علما میں کچھ انفردی مثالیں ہوں گی جو بک گئے یا جھک گئے یا اپنے فریضے سے غافل رہے مگرعلمائے دیوبند، بحیثیت ادارہ، کبھی نہیں جھکے یابکے۔ ہمارے بعض اداروں کے سرخیل، قہقہے لگاتے، دشمن کے سامنے ہتھیارپھینک آئے، مگر علمائے دیوبند کی پہلی صف میں سے کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ہے۔ امریکہ سے تعلق تو دورکی بات ہے کسی دیوبندی عالم پر اپنی ملکی ایجنسیوں سے تعلق کا بھی شبہ ہو جائے تو جمیعت علمائے اسلام اس سے کنارہ کرتی ہے۔ اس بناپر جیش محمد، لشکر جھنگوی یا لال مسجد پارٹی کو کبھی دیوبندی نمائندگی حاصل نہیں رہی۔
عرض یہ کرنا تھی کہ جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ علمائے دیوبند ڈالر کی چمک یا چھڑی کی لشک سے متاثرہوکرفتوے دیتے ہیں، انہیں دیوبندیت کی تاریخ یا مزاج کا پتہ ہی نہیں۔ واضح رہے کہ علمائے دیوبند کا سیاسی پلیٹ فارم، یعنی جمیعت علمائے اسلام کبھی سعودی یا امریکی خوشہ چین نہیں رہا۔ ان کے لیبیا سے تعلقات ضرورتھے مگر اس ایکتا کا نکتہ ’مذہب‘ نہیں تھا بلکہ’امریکہ دشمنی‘ تھا (اور وقت نے ثابت کیا کہ قذافی ہی اصل امریکہ دشمن لیڈرتھا)۔ امریکہ تو خیرکیاعلمائے دیوبند کو دبائے گا؟ اپنے’کرم فرماو¿ں‘ کو بھی اتنی جرات نہیں ہو سکی۔ نکتہ وروں کے لئے عرض ہے کہ علمائے دیو بند، کشمیری مزاحمت کوجنگِ آزادی کے طور پر سراہنے کے باوجود اسے شرعی جہاد کادرجہ نہیں دیتے اور بڑے ’زور آور لوگ‘، اپنی پوری کوشش کے باجود، کبھی ان سے یہ فتوی حاصل نہیں کرسکے-
مدعا یہ کہ کم ازکم دیوبندی مولویوں نے افغان جہاد خدا کے سواکسی کی خاطر نہیں کیا۔ رہا یہ سوال کہ ہم کو تباہ کس نے کیا؟ تو وہ بھی مولوی نہیں، کوئی ’اور‘ تھے۔ پہلے بھی ایسا وقت آیاتھا کہ مسلمان حکمرانوں کی بد اعمالیوں کے طفیل، مرہٹے آپ کونیست ونابود کرنے والے تھے تو مولوی شاہ ولی اللہ نے اپنے مریداحمد شاہ ابدالی کو بلا کر آپ کو بچایا اور جب آپ کا تخت بچ گیا تو وہ مولوی دوبارہ اپنے حجرے میں تفسیر لکھنے بیٹھ گیا جب کہ آپ کے درباری شاعر اپنے اشعار میں مولوی پر جگت بازی کر کے داد وصول کرتے رہے۔
’امت‘ کی محبت میں ہم آشفہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “مولویوں کا ڈالری جہاد

  • 14-01-2016 at 9:24 pm
    Permalink

    اپنے فرقے کو ہی ڈیفنڈ کیا ہے۔۔ باقی تو سب جیسے ڈالرز میں لتھڑے ہوئے تھے بس دیوبندی ہی پاک تھے اس سے

    • 14-01-2016 at 11:59 pm
      Permalink

      Your right to disgree is respected. your reply will be published if you write

  • 15-01-2016 at 3:50 am
    Permalink

    مولانا ، چلتے چلتے یہ بھی بتاتے جاتے کہ احمد شاہ ابدالی نے تخت بچانے کے نام پر پنجاب اور دلی میں کیا لوٹ مار مچائی تھی ، پنجابی کی یہ مثل کیوں بنی ، کھادا پیتا لاہے دا باقی احمد شاہے دا

  • 20-01-2016 at 4:01 pm
    Permalink

    مولانا، چلتے چلتے زرا پاکستان کے اندر دیوبندی جہاد چل رہا ہے اس کا بھی بتاتے چلو زرا۔۔۔ کافی گہرے روابط ہیں علمائے دیوبند کے انسان کے قصائیوں سے

  • 22-01-2016 at 7:52 pm
    Permalink

    One may disagree with the politics or interpretive approach of Deobands, but they adopt policies as per their conscience. They may have collaborated with American agencies, but they are not their agents. But Moulana Fazlur Rehman has added to the conscience-oriented politics of Deobandis a new policy of ruthless (Read Ethic-less)pursuit of political interest

Comments are closed.