بچوں کے جنسی استحصال میں ثقافت اور نسل پر بات ہونی چاہیے


کم سِن لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے پھانسنے کے مقدمے میں سزا یافتہ یہ مجرم عراقی، بنگلہ دیشی، پاکستانی، انڈین، ایرانی اور ترک نژاد ہیں، اور زیادہ تر برطانیہ کی پیدائش ہیں۔ برطانوی پارلیمان کی ایک رکن کا کہنا ہے کہ نسل پرست کہلانے کا خوف بچوں کے جنسی استحصال کی تحقیقات کرنے والے حکام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ رادرہم کی ایم پی سارہ چیمپیئن نے یہ بات نیوکاسل میں 17 مجرموں پر لڑکیوں کو جنسی فعل پر مجبور کرنے کا الزام ثابت ہونے کے بعد کہی۔ ان مجرموں میں سے زیادہ تر برطانیہ ہی میں پیدا ہوئے ہیں تاہم وہ عراقی، بنگلہ دیشی، پاکستانی، انڈین، ایرانی اور ترک نژاد ہیں۔

مِس چیمپیئن کے بقول کسی ’تقافت میں موجود مسائل‘ کے بارے میں استفسار کرنا ’بچوں کا تحفظ‘ ہے۔ نارتھ امبریا میں پولیس حکام کہتے ہیں کہ معاشرے کو اس گفتگو سے اجتناب نہیں کرنا چاہیے۔ مِس سارہ چیمپیئن کہتی ہیں کہ نسل کے بارے میں سوال پوچھا نسل پرستی نہیں ہے۔

مِس چیمپیئن کا تعلق حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی سے ہے اور وہ خواتین اور مساوات کی شیڈو مِنسٹر ہیں۔ بی بی سی ریڈیو فور سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچوں کے گروہی جنسی استحصال میں ملوث زیادہ تر مجرم پاکستانی نژاد ہوتے ہیں کیونکہ اس طرح کے واقعات میں بار بار ان کا نام آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘حکومت یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کر رہی کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔ کیا ان مسائل کی وجہ ثقافت ہے؟ کیا کسی مخصوص برادری کے اندر کسی قسم کا پیغام دیا جاتا ہے۔ مِس چیمپیئن نے خدشہ ظاہر کیا کہ دائیں بازو والے ان پر کچھ نہ کرنے کے لیے تنقید کریں گے۔ جبکہ بائیں بازوں والے انہیں نسل پرست گردانیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سوال نسل پرستی کا نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ کا ہے۔ ان کے بقول سنہ 1997 سے 2013 تک کم سے کم 1400 بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔

رمضان فاؤنڈیش کے محمد شفیق کہتے ہیں کہ اس موضوع پر سیاق و سباق میں رہ کر بحث کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ مجرم ایک مخصوص ذہنیت کے حامل ہیں۔ وہ سفید فام لڑکیوں کو کسی قابل ہی نہیں سمجھتے۔ ‘ان کے دل میں ان لڑکیوں کے لیے کوئی احترام نہیں ہوتا اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ جیسے چاہیں انہیں استعمال کریں۔ تاہم ان کے بقول اس ملک میں بچوں کے جنسی استحصال میں زیادہ تر سفید فام مرد ملوث ہوتے ہیں۔

نارتھ امبریا پولیس کے چیف کانسٹیبل سٹِیو ایشمین کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت مجرموں سے ان کے مذہب کے بارے میں نہیں پوچھا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ان سب کا ثقافتی پس منظر مختلف ہے اس لیے وہ کسی پر انگلی اٹھا کر نہیں کہہ سکتے تھے کہ ان کے افعال کی ذمہ دار ان کی ثقافت ہے۔ تاہم ان کے بقول عورتوں، خاص طور پر سفید فام عورتوں کے بارے میں بعض برادریوں کے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، البتہ یہ پولیس کا کام نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 579 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp