عائشہ گلالئی، میں بھی ایک عورت ہوں


ہمیں آج تک نہ تو مسلم لیگ ن نے کچھ دیا ہے۔ اور نہ ہی ابھی تک پی ٹی آئی نے۔ ہاں! ایک امید ضرور ہے اور سنا یہ بھی ہے کہ KPK میں حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ آج کل عائشہ گلالائی کو ڈسکس کیا جا رہا ہے۔ ن لیگ کی اپنی منطق ہے اور پی ٹی آئی کی اپنی۔ ن لیگ کا خیال ہے کہ عمران خان کے عامیانہ اور جارہانہ طرز تخاطب سے ملک میں بد تمیزی اور گالی گلوچ کو فروغ مل رہا ہے۔ دوسرا عمران خان کی یہ خواہش کہ پاکستان میں ترقی مغربی ممالک کی طرح ہو تو در پردہ کوشش یہ کر رہے ہیں کہ پاکستا ن میں مغربی کلچر کو لایا جائے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ گلالئی کے الزامات سراسر بہتان ہیں۔ آپ کی سیاسی AFFILIATIONکسی بھی پارٹی سے ہوسکتی ہے اور آپ کسی کو سپورٹ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ لیکن کم از کم نظر آنے والے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا یا صرف سمجھنا ایک باشعور قوم کی نشانی ہے۔ کاشف عباسی کے شو میں جو گفتگو ہوئی وہ ملا حظہ فرمائیں اور خود فیصلہ کریں۔

اینکر :آپ کو SMSکب ملا۔

جواب:اکتوبر 2013میں۔

اینکر:آپ نے کسی کو بتایا پارٹی میں۔

جواب :میں نے اپنے والد کو بتایا انہوں نے کہا ابھی تم اس کو دیکھو لیکن میں شاکڈ تھی عمران کی اس حرکت پر یہ سلسلہ کچھ عرصہ چلتا رہا۔

اینکر:آخری SMSکب آیا۔

جواب:یاد نہیں۔

اینکر:آپ کو پہلا SMSیاد ہے آخری کیوں نہیں۔

جواب:ام۔ ام۔ آخری پچھلے سال جولائی میں آیا تھا۔

اینکر:آپ نے اخلاقی جواز پر پارٹی چھوڑی پھر آپ اپنی NAکی سیٹ کیوں نہیں چھوڑ رہیں۔

جواب:میں کیوں چھوڑوں میں سیاست میں لوگوں کی خدمت کے لیے آئی ہوں۔

اینکر:لیکن آپ کو سیٹ تو پی ٹی آئی نے دی یہ ایک RESERVE SEAT ہے۔ جو کہ پارٹی کی صوابدید پر ہوتی ہے۔

جواب:یہ میرا حق ہے میں کیو ں چھوڑوں۔

اینکر :لیکن یہ سیٹ آپ جیتی نہیں بلکہ RESERVE QUOTAپر دی گئی ہے۔

جواب:سیاست میرا PASSIONہے میں اسمبلی کے فورم کو USEکر کے بہتر کا م کرسکتی ہوں۔

اینکر:میں نے سنا ہے کہ عمران خان نے آپ کو ڈانٹا تھا کہ آپ اسمبلی میں نہیں آتیں۔

جواب:میں سیاست سے تنگ آچکی تھی اس لیے میں نے PHDمیں داخلہ لے لیا۔ میں ساری توجہ تعلیم کی طرف ہے۔ اور پارٹی کو سات، آٹھ ماہ سے چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

اینکر:آپ کی باتوں میں تضاد ہے۔ کیا کسی اور عورت نے بھی ایسی شکایت کی۔

جواب:بہت عورتیں تنگ ہیں ان کو بھی اسی طرح کے SMSکیے جاتے ہیں۔

اینکر: آپ کو کس نے بتایا۔

جواب:(ہنس پڑتی ہیں)

اینکر:پھر آپ کو کیسے پتہ ہے۔

جواب:میں عورتوں کو خبردار کرنا چاہتی ہوں کہ ان کی پی ٹی آئی میں عزت محفوظ نہیں۔

اس ملک میں بڑی جدوجہد کے بعد آج عورتیں مختلف شعبہ جات میں اپنی محنت اور لگن سے آگے بڑھ رہی ہیں پارلیمنٹ میں جانے والی عورتیں قابل تعریف ہیں کہ وہ DECISION MAKING میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔  2010 میں پہلی بار عورتوں کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون پاس ہوا۔ اس کے مطابق اگر کسی عورت کو کام کی جگہ یا کام کے لیے آتے جاتے ہراساں کیا جائے۔ تو وہ قانونی مدد حاصل کرسکتی ہیں۔ لیکن اگر آپ کو کوئی ہراساں کررہا ہے تو آپ کو پوری طرح سے ثابت کرنا ہوگا۔ تا کہ آئندہ کوئی مرد ایسی حرکت نہ کرسکے۔ لیکن اگر آپ کے پاس ثبوت نہیں ہے تو پلیز دوسری کام کرنے والی عورتوں کے لیے مسائل مت کھڑے کریں۔ لڑنا ہے تو اپنے زور بازو پر لڑیں۔ مگر اس طرح نہیں کہ آپ پاکستان میں WOMEN EMPOWERMENTکے لیے خطرہ بن جائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رضوانہ یوسف کی دیگر تحریریں
رضوانہ یوسف کی دیگر تحریریں