نواز شریف کس کے خلاف جلوس نکال رہے ہیں


پاکستان میں سوشل میڈیا میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے جلوس کے حق اور مخالفت میں بیان بازی کی جا رہی ہے۔ اس بحث میں نواز شریف کے خلاف چلائے جانے والے ایک ٹرینڈ میں ایک جانب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ حکمراں جماعت اپنی ہی حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہے تو دوسری جانب #GTroadRally ٹرینڈ پرنواز شریف کے دفاع میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مسلم لیگ نون ہی سیاسی جماعت ہے باقی سب پریشر گروپ ہیں۔

اس ٹرینڈ پر مریم نواز کی 20 اگست 2014 کو کی گئی اس ٹویٹ کو دوبارہ شیئر کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ آپ ساری زندگی کنٹینر پر گزار دیں نواز شریف مستعفیٰ نہیں ہوں گے۔ #GTRoad کے ٹرینڈ پر مسلم لیگ نون اور نواز شریف کے حامی جلوس کے حق میں ٹویٹس کر رہے ہیں لیکن اس ٹرینڈ پر تحریک انصاف کے حامی مسلم لیگ نون کے حماتیوں سے زیادہ متحرک ہیں۔

دیا ملک نے جلوس کی تصویر کے ساتھ ٹویٹ کی ‘نفرت کرنے والو دیکھو رہے ہو کیا، یہ تو ابھی آغاز ہے۔’ حمزہ شکیل نے ایک تصویر کے ساتھ ٹویٹ کی کہ ’اس سے زیادہ خواتین کی تعداد سیل پر ہوتی ہے۔‘

اس ٹرینڈ پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ آخر سابق وزیراعظم کس کے خلاف جلوس نکال رہے ہیں۔ اسی کے بارے میں ابواب علوی نے ٹویٹ کی کہ حقائق یہ ہیں کہ حکومت میں موجود پارٹی حکومتی جماعت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ سرتاج گل وزیر نے ٹویٹ کی کہ ‘نواز شریف نے ایک بار پھر سپریم کورٹ ملٹری اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔’

#GTRoad کے ٹرینڈ پرمسلم لیگ کے حامیوں کی جانب سے گاڑیوں اور لوگوں کے رش کی مبینہ طور پر جعلی تصاویر شیئر بھی کی جا رہی ہیں اور ان کے ساتھ لکھا جا رہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اور گاڑیاں جلوس میں شامل ہونے جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر احمد نے ایک ایسی ہی گاڑیوں کے رش کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ موٹر وے سے مزید گاڑیاں جلوس میں شامل ہونے کے لیے آ رہی ہیں۔

دونوں ٹاپ ٹرینڈز پر جہاں فریقین ایک دوسرے پر جوابی حملے کر رہے ہیں وہیں لوگ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ جلوس میں کیوں ٹیکس دینے والوں کے پیسوں کا ضیاع کیا جا رہا ہے۔

(ذیشان ظفر)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 371 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp