علی گڑھ تحریک میں سماجی اصلاح کا پہلو بہت کم تھا


سر سید احمد خاں نے سنہ 1875 میں جو تعلیمی ادارہ قائم کیا تھا وہ بعد میں ‏علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے پہچانا گیا۔ علی گڑھ تحریک کو اگر ہندوستان کے پس منظر میں دیکھیں تو یہ ایک قسم کا نشاۃ الثانیہ ہے جسے انڈیا کے نشاۃ الثانیہ کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے، جس طرح بنگال کا نشاۃ الثانیہ بھی اس کی تاریخ کا حصہ تھا۔ اگر آپ سر سید کے طرز تخیل کو دیکھیں تو آپ یہی پائیں گے کہ ان پر جدید تہذیب کا دو طرح سے اثر ہوا۔

ایک یہ کہ جب انگریزی تعلیم اور تصانیف سے ان کی واقفیت ہوئی تو انھوں نے دیکھا کہ تعلیم اور سائنس کی ایک بالکل نئی دنیا کھلتی ہے۔ تاریخ جیسے روایتی مضامین بھی بالکل نئی طرح سے ان کے سامنے آتے ہیں۔ چنانچہ اس سے متاثر ہو کر انھوں نے ’آثارالصنادید‘ لکھی۔ ان سے پہلے فارسی اور اردو میں تاریخی عمارتوں پر ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تھی۔ انھوں نے 1857 کی بغاوت سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ اگر آج کوئی آپ سے پوچھے کہ 1857 کے واقعے کے قریب ترین کون سی کتاب ہے تو وہ بلاشبہ سرسید احمد کی کتاب ‘اسباب بغاوت ہند’ ہے۔

وہ جا بجا انگریزوں کی حمایت کرتے تھے لیکن انھوں نے جو اسباب لکھے اس میں ان چیزوں کا بھی ذکر تھا جس پر انگریزوں کی نگاہ نہیں گئی تھی یعنی انھوں نے زمینداروں اور کسانوں کے مسائل کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس میں ہندو اور مسلمان کا کوئی جھگڑا نہیں تھا، دونوں برابر کے شریک تھے اور اس لیے دونوں کو سزا ملنی چاہیے۔ دوسری بات جس کا علی گڑھ تحریک پر گہرا اثر پڑا وہ ولیم میور کی تصنیف تھی جس میں پیغمبر اسلام کی وہ تصویر ابھرتی ہے جو جدید اخلاقیات کے منافی تھی۔ یہ کتاب طبری اور دوسرے مستند عربی مآخذ پر مبنی تھی۔ سرسید احمد اس سے بہت پریشان ہوئے اور انھوں نے اس کا جواب لکھا۔ انھوں نے میور کو جو جواب دیا ہو وہ اپنی جگہ لیکن وہ دراصل ان مآخذ کی نکتہ چینی ہے جنھیں میور نے استعمال کیا تھا۔

معروف تاریخ دان اور علی گڑھ میں پروفیسر عرفان حبیب نے ہمارے نامہ نگار مرزا اے بی بيگ سے گفتگو کرتے ہوئے علی گڑھ تحریک پر اپنے خیلات کا اظہار کیا۔ سرسید احمد کا خیال تھا کہ ‘ورڈ آف گاڈ’ کو ‘ورک آف گاڈ’ سے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک سائنس کو مذہب پر فوقیت تھی۔ سرسید نہ صرف علی گڑھ بلکہ الہ آباد یونیورسٹی میں بھی انگریزی اور سائنس کی تعلیم پر بھی بہت زور دیتے تھے۔ علی گڑھ تحریک کا ایک تیسرا جز برطانوی حکومت سے وفاداری تھا۔

پروفیسر عرفان حبیب کہتے ہیں، “میں یہ نہیں کہتا کہ سرسید نے سر کا خطاب حاصل کرنے کے لیے کانگریس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا یہ خیال تھا کہ ہندوستان میں جدید تہذیب کا اثر صرف برطانوی حکومت کے سائے تلے ہی آ سکتا ہے۔ اس میں دوسرے معاملے بھی شامل ہوئے کہ مسلم متوسط طبقے کا کیا ہو گا اور ملازمتوں پر بنگالیوں کا تسلط کیوں ہے۔ یہ سب چھوٹے چھوٹے مسئلے تھے۔ اصل مسئلہ تھا جدید تعلیم کا”۔

سرسید احمد خان نے علی گڑھ میں مسجد تعمیر کرائی تھی جو دہلی میں سنہ 1857 کے بعد توڑی جانے والی مساجد کے ملبے سے تیار کی گئی ہے

سرسید کے انتقال کے بعد شیخ عبداللہ کی کوششوں کے نتجے میں یونیورسٹی میں لڑکیوں کی تعلیم کی تحریک شروع ہوئی۔ یہ مسئلے ختم ہو گئے کیونکہ قومی تحریک بھی جدید تعلیم چاہتی تھی اور مسلم لیگ نے بھی سنہ 1916 میں ہوم رول کے لیے کانگریس سے معاہدہ کر لیا۔ مسلم ليگ کتنی ہی فرقہ پرست کیوں نہ ہو، قدامت پرست نہیں تھی۔ بلکہ الٹا دیوبند کا مدرسہ کانگریس کے ساتھ تھا۔

علی گڑھ تحریک میں بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو قومی تحریک میں شامل ہوئے جن میں محمد علی، شوکت علی، حسرت موہانی وغیرہ کا نام آتا ہے۔ حسرت موہانی جب علی گڑھ میں تھے تو سی آئی ڈی نے کہا تھا کہ ان کے کمرے میں تلک اور گوکھلے کی تصویریں ہیں اور وہ جیل گئے۔ ایک زمانے میں سنہ 1930 سے 1938 تک علی گڑھ میں کانگریس کا خاصا اثر تھا۔

علی گڑھ تحریک میں یہ ایک بہت بڑی کمی تھی کہ اس میں سماجی اصلاح کا پہلو بہت کم تھا۔ سرسید احمد کا صرف ایک شادی پر اصرار تھا اور شاید وہ بھی اس لیے کہ انگریزوں کو ایک سے زائد شادیاں پسند نہیں تھیں بلکہ ان کے یہاں کثیر الازدواجی جرم تھا۔ خواتین کی تعلیم کے معاملے میں کہیں کہیں سرسید نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ عورتوں کو صرف اس حد تک خواندہ بنا دیا جائے کہ وہ خط پڑھ سکیں، اس سے زیادہ کی انھیں ضرورت نہیں۔

تاہم ہندوستان میں اس سے قبل خواتین کی تعلیم کی جو ہوا چل رہی تھی اور کیشب چندر اور ان سے قبل ودیا ساگر وغیرہ نے اس کے لیے جو تحریک چلا رکھی تھی اس کے اثرات علی گڑھ پر بھی پڑے اور سرسید کی موت کے بعد شیخ عبداللہ نے یہ تحریک شروع کر دی کہ یہاں بھی لڑکیوں کا سکول اور کالج ہونا چاہیے جو بعد میں قائم ہوا اور بی اے تک ان کی تعلیم ہونے لگی لیکن آزادی سے پہلے تک ایم اے متعارف نہیں کرایا جا سکا تھا۔

اول اول طلبہ اور طالبات کے درمیان ایک پردہ حائل ہوا کرتا تھا جو رفتہ رفتہ ختم ہو گیا۔ برقع بہت کم لڑکیاں اوڑھتی تھیں جب کہ آج کل یہ رواج بڑھ گیا ہے۔ یعنی حجاب کا کوئی نظام نہیں تھا۔ بہر حال اس تحریک کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتاہے کہ مسلمانوں میں جدید تعلیم عام ہوئی۔

(مرزا اے بی بیگ)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 368 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp