جناح کی 11 اگست کی تقریر اور اقلیتوں کا پاکستان


شمائلہ جعفری۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔

سنہ 2012 میں جب مرتضیٰ سولنگی ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل تھے انھیں معلوم ہوا کہ ادارے کے لاکھوں منٹ کے آڈیو آرکائیوز میں قائد اعظم کی 11 اگست 1947 کی تقریر کی ریکارڈنگ موجود نہیں۔ یہ محمد علی جناح کا کراچی میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے پہلا خطاب تھا۔
مرتضیٰ سولنگی نے اس کی تلاش شروع کی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے بی بی سی لندن سے بھی رابطہ کیا اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی۔ لیکن انھیں کامیابی نہیں مل سکی۔

گیارہ اگست کی تقریر سے اقتباس

’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ‘
مرتضیٰ سولنگی کہتے ہیں کہ وہ سیاست اور تاریخ کے طالب علم ہونے کی وجہ سے تجسس رکھتے تھے اور اس تقریر کا پیغام ان کے دل کے بہت قریب بھی تھا اس لیے انھوں نے کئی مہنیوں تک اس کے لیے تگ و دو کی۔

’11 اگست کی تقریر یہ بتاتی ہے کہ جب نئی ریاست کی تشکیل ہورہی تھی تو ریاست کے بانی کے ذہن میں اس کا نقشہ کیا ہے۔ وہ اسے کیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن مجھے کامیابی نہیں ہوئی۔ ‘
مرتضیٰ سولنگی کہتے ہیں کہ تقریر کی سرکاری آرکائیوز میں عدم دستیابی کے حوالے سے کئی قصے کہانیاں مشہور تھے اور ایک نظریہ سازش یہ تھا کہ اس تقریر کو فوجی آمر ضیا الحق کے زمانے میں جان بوجھ کر آرکائیوز سے غائب کردیا گیا۔ مرتضیٰ سولنگی کہتے ہیں سازشیں ہوتی ہیں اور منطقی اعتبار سے یہ ممکن بھی ہے لیکن ان کے پاس اس کے ناقابل تردید ثبوت موجود نہیں لہٰذا وہ صحافی ہونے کی حثیت سے نظریہ سازش کی تصدیق نہیں کرسکتے۔

پارلیمنٹ میں مخالفت

یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ ملک میں بانیِ پاکستان کی 11 اگست کی تقریر کو نظریاتی طور پر محفوظ کرنے یا قومی بیانیے کا حصہ بنانے کی کوششں کی گئی ہو۔ سنہ 2004 اور پھر سنہ 2011 میں پارسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ایم پی بھنڈارا نے اس تقریر کو نصاب اور آئین کا حصہ بنانے کے لیے قرارداد اور آئینی ترمیم پیش کی جو ایم پی بھنڈارا کے صاحبزادے اصفہان یار بھنڈارا کے مطابق دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کی شدید مخالفت کے باعث کامیاب نہ ہوسکی۔ اصفہان یار بھنڈارا کہتے ہیں کہ یہ تقریر پاکستان کی اقلیتوں کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔
’قائد اعظم نے اس تقریر میں پاکستانیت پر زور رکھا ہے اور بتایا کہ لوگ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں اور کسی کے مذہب سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ ‘
اصفہان یار کہتے ہیں کہ انھیں افسوس ہے کہ ان کے والد 11 اگست کی تقریر کو آئین اور نصاب کا حصہ نہیں بنوا سکے۔ کیونکہ ان کے والد کی جماعت مسلم لیگ ق کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات تھے اور اگر یہ پرویز مشرف کہ اعتدال پسند روشن خیالی کے دور میں ممکن نہیں ہوسکا تو آج کے پاکستان میں ایسا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔
پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں میں سب سے زیادہ تعداد ہندوؤں کی ہے۔ مسیحی آبادی کے اعتبار سے دوسری بڑی اقلیت ہیں جبکہ ان کے علاوہ سکھ، پارسی، بودھ اورکیلاشی نمایاں ہیں۔

جمعن محراب پور کے بھولے بسرے بودھ

اندرون سندھ میں بودھوں کے کچھ خاندان آباد ہیں۔ جمعن کارمون محراب پور کے ایک سکول میں پرائمری ٹیچر ہیں۔ وضح قطع میں وہ سندھی ہندوؤں کی طرح دکھتے ہیں۔ جمعن کے مطابق پاکستان میں بودھوں کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے۔
پاکستان میں بدھ مت کی قدیم تاریخ ہے۔ پنجاب میں ٹیکسلا اور خیبرپختونخوا میں تخت بائی کے علاقوں میں موجود سٹوپاز اور وادئی سوات میں جنم لینے والی گندھارا تہذیب جسے بدھ مت کا گہوارہ مانا جاتا ہے۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں بودھوں کی کوئی باقاعدہ عبادت گاہ موجود نہیں۔ بودھوں کی سیاسی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ پاکستانی ہونے کے باوجود شناخت سے محروم ہیں۔ تعداد میں کم اور معاشی طور پر کمزور ہونے کےباعث انھیں مسائل کا سامنا ہے۔
جمعن کہتے ہیں کہ ’بس یہاں پر جو ہم اِکا دُکا رہ رہے ہیں وہ اپنے آپ میں ہی مگن ہیں۔ جیسے بھولی بسری قوم ہوں۔ آہستہ آہستہ ہوسکتا ہے کہ ایک دو نسل میں ہم ختم ہی ہوجائیں۔ ‘

مسلمان اچھا پاکستانی یا پارسی بھی

تقسیم کے وقت پاکستان کے مختلف علاقوں خاص طور پر کراچی اور لاہور میں متعدد پارسی خاندان آباد تھے جن کی اکثریت کاروبار سے وابستہ تھی۔ کریمن پاریکھ کی پیدائش تو لاہور کی ہے لیکن وہ اب کراچی میں بی وی ایس پارسی بوائز سکول کی پرنسپل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تقسیم کے وقت پارسیوں کو ہجرت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اور انھیں کبھی شدت پسندی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ لیکن اب سماجی رویوں میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’اب ہم نے دیکھا ہے کہ اچھا پاکستانی ہونے کے لیے اچھا مسلمان ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ‘

سوات کے سکھ پنجابی نہیں پشتون

پاکستانی پنجاب میں سکھوں کے بہت سے مقدس مقامات موجود ہیں لیکن یہاں سکھ صرف پنجاب تک محدود نہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں خاص کر خیبرپختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں نسل در نسل سینکڑوں سکھ خاندان آباد ہیں۔
سوات پر سنہ 2009 میں طالبان نے قبضہ کرلیا تھا۔ اس دوران یہاں بسنے والے سکھ خاندانوں نے عارضی طور پر دوسرے لوگوں کی طرح اپنے علاقے سے ہجرت کی لیکن فوجی آپریشن کے فوری بعد اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے۔ سوات کے گردوارے کے گرنتھی بنسری لعل کہتے ہیں کہ قبائلی معاشرے میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے اس لیے انھیں ان حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو ملک کے دوسرے حصوں میں بسنے والی اقلیتیں کررہی ہیں۔
بنسری لعل کہتے ہیں: ’پشتون کلچر میں سکھایا جاتا ہے کہ اقلیتیں اور خواتین کو پسے ہوئے طبقے ہیں اور ان کا خیال رکھا جاتا ہے اس لیے سوات بونیر اور قبائلی علاقوں میں اقلیتوں کو کبھی مسئلہ نہیں ہوا۔ ‘

مسیحی توہین مذہب کے الزامات کی زد میں

مسیحی پاکستان کی دوسری بڑی اقلیت ہیں جو ویسے تو ملک کے طول و عرض میں آباد ہیں لیکن خاص طور پر پنجاب میں ان کی بڑی تعداد بستی ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران پنجاب میں مسیحی آبادی کو توہین مذہب کے الزامات پر نشانہ بنایا گیا۔
یونس چوہان پاکستان میں اکثر مسیحی افراد کے لیے مخصوص سمجھے جانے والے شعبے سینیٹیشن سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ معاشرتی تفریق میں تو کمی ہوئی ہے لیکن توہین مذہب کے قانون کا خوف تلوار کی طرح ہر وقت ان کی کمیونٹی کے سر پر لٹکتا رہتا ہے۔
’اگر ایک آدمی کا قصور ہے تو اسے سزا دی جائے اگر کسی کو ناجائز پکڑ کر اس پر توہین مذہب کا الزام لگایا جائے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ‘

ہندو پاکستانی یا انڈین؟

ہندو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ خاص طور پر بالائی سندھ میں اونچی ذات کے ہندوؤں کی لڑکیوں کے جبراً تبدیلیِ مذہب کے واقعات اکثر رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ اور شیڈول کاسٹ یعنی نچلی ذات سے تعلق رکھنے والوں کو وڈیروں اور اکثریت سے تعلق رکھنے والے با اثر افراد سے تفریق اور استحصال کا نشانہ بنانے کی روایت بھی عام ہے۔ اور مسلم اکثریتی پاکستان میں مجموعی طور پر تاثر بھی کافی مضبوط ہے کہ ہندو مذہب کی بنیاد پر انڈیا کے زیادہ وفادار ہیں۔
تاہم بلوچستان میں قبائلی نظام کے تحت زندگی گزارنے والے ہندوں کو معاشرے میں قبولیت بھی حاصل ہے اور تحفظ بھی۔ راج کمار کوئٹہ کی ہندو پنچایت کے صدر ہیں۔ کہتے ہیں کہ کہیں کہیں تفریق بھی ہوتی ہے۔
’سکولوں میں ہماری مذہبی تعلیم نہیں دی جاتی۔ ہم نے کہا ہے کہ سکولوں میں اسلامیات کے بجائے اگر اخلاقیات پڑھائی جائے تو بہتر ہوگا۔ ‘

دوقومی نظریہ یا سیکولر پاکستان؟

مصنف اور تجزیہ کار یاسر لطیف ہمدانی کہتے ہیں کہ محمد علی جناح نے صرف 11 اگست کی تقریر ہی نہیں بلکہ لگ بھگ اپنی 33 تقریروں میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بات کی۔
یاسر ہمدانی کہتے ہیں کہ 11 اگست کی تقریر میں انھوں نے مستقبل کی نئی ریاست کی سمت طے کی۔ اور واضح کیا کہ ریاست کا کسی کے مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ ہر کسی کو مذہبی آزادی ہوگی اور ریاست نہ تو کسی مذہب کو فروغ دے گی اور نہ ہی کسی کو دبائے گی۔ ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے۔ مذہبی اعتبار سے نہیں بلکہ سیاسی اور قومیت کے اعتبار سے۔

تو کیا محمد علی جناح پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے؟ یاسر ہمدانی کہتے ہیں: ’اس زمانے میں لفظ سیکولر اتنے معنی نہیں رکھتا تھا جو اب رکھتا ہے۔ لیکن سیکولر کا اگر یہ مطلب ہے کہ ریاست کو کسی بھی شہری کے خلاف مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تفریق کرنے کی اجازت نہ ہو تو ایسی سیکولر ریاست تو قائداعظم بنانا چاہتے تھے۔ ‘

محمد علی جناح پاکستان کے قیام کے بعد محض 13 ماہ زندہ رہے۔ ان کے دور میں وزیر قانون ہندو تھے۔ وزیر خارجہ کا تعلق بھی اقلیتی فرقے سے تھا۔ ان کی زندگی میں تو پاکستان تمام گروہوں کو شامل کرکے چلنے کی پالیسی پر گامزن رہا لیکن قائداعظم کی وفات کے چھ ماہ بعد پاکستان میں قرارداد مقاصد منظور کی گئی۔
یاسر لطیف کے مطابق ’قرارداد مقاصد پہلی دراڑ تھی جس میں ہم نے ریاست کی بنیاد مذہب پر رکھ دی اور محمد علی جناح کے بعد جن لوگوں نے اقتدار سنبھالا ان کے پاس ووٹوں کی طاقت نہیں تھی اس لیے انھوں نے اسلام کا سہارا لیا۔ یہ بیانیہ تشکیل دینے کے لیے کہ یہ ملک مذہب کی بنیاد پر بنا‘۔
یاسر لطیف یہ بھی کہتے ہیں کہ دو قومی نظریہ تو ایک پاور شئیرنگ فارمولہ تھا جس میں آبادی کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے سیاسی حقوق کی مانگ کی گئی تھی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ہندو اور مسلمان ساتھ نہیں رہ سکتے۔

جب ریاست بنتی ہے تو اس میں ہر شہری کے حقوق برابر ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس طرح سے پاکستان میں دو قومی نظریے کی تشریح کی گئی اور اسے پروان چڑھایا گیا ہے کیا وہ قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر یا ان کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 600 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp