خداوند! ہمیں وہیں رکھیو جہاں تونے روتھ فاؤ کو رکھا ہے


نزاکت اور نفاست روتھ فاؤ میں رچی بسی ہوئی تھی۔ اتنی کہ گلاب کی پتی بھی پاؤں کے نیچے آجائے تو زخمی ہوجائیں۔ خراب حالوں میں وہ کسی کو دیکھ نہیں سکتی تھیں۔ دانے کسی راہگیر کے جسم پر ہوں کھجلی روتھ فاؤ محسوس کرتی تھیں۔ آنکھ کوئی اور مسلے، لالی ان کی آنکھ میں پڑجاتی۔ ایک بار کہنے لگیں ”میں کسی کے بال بکھرے ہوئے دیکھ لوں تو من کرتا ہے کہ کنگھی لاؤں اور اس کے بال سنواردوں۔ کوئی نہایا ہوا نہ ہو تو دل کرتا ہے حمام لے جاکر اس کو نہلا دھلا دوں“۔ شاید کوڑھ اسی لیے ان کا مقدر بن گیا۔

کوڑھ کے مریض کو پراگندہ طبع لوگ بھی فاصلہ رکھتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ روتھ فاؤ جیسی نفیس خاتون اسی کوڑھ کو اوڑھ لیتی۔ یہ مشکل تھا، مگراس سے بھی بڑی مشکل یہ کہ کوڑھ کی چبھن ان کے احساس میں اترگئی تھی۔ کوڑھ کا مریض خود کو دیکھ کر بے بس ہوتا تو درد روتھ فاؤ کے جگر میں اٹھتا۔ کوڑھ کے مریض سے جب لوگ دور ہوتے تو خود کشی کے داعیے فاؤ کے خیالوں میں انگڑائیاں بھرتے۔ مریض جب نہا نہیں پاتے تو فاؤ کو اپنے وجود سے گھن آتی۔ مسیحا اور کسے کہتے ہیں؟ مسیحا احساس کا نام ہے۔ ڈاکٹر ڈگری کا عنوان ہے۔ ڈاکٹر جاب کرتا ہے، مسیحا کام کرتا ہے۔ ڈاکٹر سینے پہ ہاتھ رکھ دے تودل پر دباؤ کا احساس ہوتا ہے۔ مسیحا ہاتھ رکھ دے تو دور تک پھیل جاتی ہے تاثیر مسیحائی کی۔ علاج اور درماں میں کچھ تو فرق ہوتا ہے ناصاحب۔ وہی فرق، جو پاک اور صاف میں ہوتا ہے۔ احسان مند ہمیں دونوں کا ہونا چاہیے، مگر مقروض ہم مسیحاوں کے ہی رہ سکتے ہیں۔ معاوضہ محنت کا دیا جاسکتا ہے، خلوص کا نہیں۔

دوہزار بارہ کا سن تھا۔ ہر دوسرے دن عبدالستار ایدھی کے چرن چھونے کا موقع ملتا تھا۔ ماہ ڈیڑھ ماہ میں کہیں روتھ فاؤ کے دستِ مسیحائی کو بوسہ دینے کا موقع بھی مل جاتا۔ دو بار ایسا ہوا کہ جب انہوں نے پوچھا، کہاں سے آرہے ہو، تو میں نے بتایا کہ ایدھی صاحب کے پاس سے۔ اس کے بعد جب بھی ملاقات ہوئی ایدھی صاحب کا حال دریافت کرتیں۔ مجھے خوشی ہوتی کہ ایک مسیحا کی نظر مجھ پہ پڑتی ہے تو اسے دوسرےمسیحا کا خیال آتا ہے۔ طویل وقفہ آیا، کوئی خیر نہ خبر، یہاں تک کہ دو ہزار چودہ کا سن آگیا۔ یقین کی حد تک گمان تھا کہ میرا چہرہ ان کے حافظے سے مٹ چکا ہوگا۔ شفاخانے میں خصوصی دورے پر تھیں۔ بطور مریض ان کا وقت لیا، انتظارگاہ میں بیٹھ گیا۔ اپنی باری پر میں ان کے کمرے میں داخل ہوا، تو نظر پڑتے ہی روایتی ہنسی ہنستی ہوئی کھڑی ہوگئیں۔ اس احساس سے کہ انہوں نے پہچان لیا، کچھ ایسی وارفتگی نے جنم لیا کہ گلے لگ گیا۔ ہاتھ پہ بوسہ دے کر میں نے ازراہ تفنن پرچی آگے بڑھا دی۔ پرچی پکڑ کے اول سہم گئیں، پھر ہنس کے کہا ”خداوند تمہیں امان میں رکھے، ایسا مذاق نہیں کرتے“۔ اگلی بات وہی پوچھی، ایدھی صاحب کیسے ہیں؟

ہم ایسے حالات میں مل رہے تھے کہ ایدھی صاحب کے گھر ڈکیتی ہوچکی تھی۔ یہ ایک تلخ واقعہ تھا۔ ایدھی صاحب کو دیر تک دونوں ہاتھ اٹھا کر دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑا کیا گیا تھا۔ دو دن ہوئے تھے کہ وہ ہسپتال سے لوٹے تھے۔ پانی پیتے تھے تو ہاتھ اور ہونٹ لرزتے تھے۔ سوچتا ہوں کہ جب ایدھی صاحب نے ہاتھ اٹھائے ہوں گے تو ہاتھ کانپ تورہے ہوں گے۔ یہ کپکپاہٹ دیکھنے والے کیا سکون کی نیند سوتے ہوں گے؟ روتھ فاؤ نے کہا، مجھے ابھی تک یقین نہیں آتا کہ ایدھی صاحب کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ عرض کیا، ایدھی صاحب کے ساتھ تو اس سے بڑھ کر ہوا ہے۔ ہم نے انہیں ایک الزام دیا ہے اور ایک فتوی۔ الزام یہ دیا کہ کفن چور ہیں۔ فتوی یہ دیا کہ ملحد ہیں۔

ایدھی صاحب کے انتقال کے بعد مرگلہ کے بھیگے ہوئے دامن میں میجر(ر) عمران اعوان نے ایدھی صاحب کا ذکر چھیڑ دیا۔ ڈاکٹر بخت سرور کو روتھ فاؤ یاد آگئیں۔ بتایا کہ انتقال کے تین روز بعد روتھ فاؤ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ روداد طویل ہے، مگر ایک مقام بہت تکلیف دہ ہے۔ روتھ فاؤ نے ازراہ طنز ڈاکٹر صاحب سے کہا، سنا ہے لوگ ایدھی صاحب کو بہشت میں جگہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا “ہمارا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہمیں نیکی راس نہیں ہے۔ ، ایدھی صاحب یا آپ جیسے لوگ کسی اور دنیا میں ہوتے تو آپ لوگوں کے مجسمے چوراہوں پر نصب ہوتے، مگر آپ لوگ ایسی دنیا میں ہیں جہاں معمار کو دیوار کے ساتھ چن دینے کی روایت ہے”۔ روتھ فاؤ نے کہا “مجھے تو چھوڑ دیجیے، میں نے جو کیا صلے کے لیے نہیں بھلے کے لیے کیا۔ صلہ صرف خداوند دے سکتا ہے۔ خداوند مجھے وہیں رکھے جہاں ایدھی صاحب کو رکھیں گے“۔

ستمگرانِ شہر کا عالم یہ ہے کہ محسنوں کو الزام و دشنام دیتے ہیں۔ خدا کی زمین ان پر تنگ رکھتے ہیں، پھر عرش کے سائبان سے محروم کردیتے ہیں۔ مگر اقوام متحدہ سے سوال کرتے ہیں کہ نوبل پرائز ملالہ یوسفزئی کو کیوں دیا، ایدھی کو کیوں نہیں دیا۔ ایدھی صاحب کو کم از کم میں نے دعا نہیں دی۔ میرا احساس یہ ہے کہ ایسے لوگ دعاؤں سے آگے کی سچائی ہوتے ہیں۔ قربانی کا حساب تو پھر ہوسکتا ہے، ایثار کو ماپنا کیسے ممکن ہے۔ روتھ فاؤ نے بھی شاید اسی لیے ایدھی صاحب کے لیے دعا نہیں کی تھی۔ خود کے لیے خدا سے التجا کی تھی “خداوند! مجھے وہیں رکھنا جہاں ایدھی صاحب کو رکھا ہے”۔ روتھ فاؤ بھی آج ہم میں نہیں ہیں۔ عرش کے نمائندوں نے بہشت کے دروازے پر رکاوٹیں کھڑی کرکے داروغے تعینات کردیے ہیں۔ ان کا گمان ہے کہ ان کے فیصلے دعاؤں سے ہوتے ہیں اور ان کے داخلے دروازوں سے ہوتے ہیں۔ روتھ فاؤ وہیں ہیں جہاں ایدھی ہیں۔ وہ مقام کون سا ہے، یہ گمان اور وجدان سے آگے کا کوئی قصہ ہے۔ اس قصے میں جانے یہ فقیہانِ بے توفیق کیوں پڑتے ہیں جنہیں حورانِ بہشت کی کمر ناپے بغیرخدا پر یقین نہیں آتا۔

دعاوں اور مقام کے ہم محتاج ہیں۔ ہم اپنے لیے دست دعا بلند کرتے ہیں، خداوند! ہمیں وہیں رکھیو، جہاں تو نے ایدھی اور روتھ فاؤ کو رکھا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔