ایک سکاٹش موٹی سے معافی


 inam-ranaبات معافیوں کی ٹھہری ہے، اسلوب یادوں کا مقرر ہوا ہے۔ بھائی وقار ملک کے بعد بھائی ظفراللہ خان کی چاشنی بھری تحریر نے کچھ یادیں میری بھی جگائی ہیں۔ گو میری زندگی میں موٹا کوئی نہیں، کم از مرد تو نہیں۔ جب گھر سے نکلا تو خود سے وعدہ کیا تھا کہ گھر کچھ بھیجوں تو بھیجوں، پیسے نہیں مانگوں گا۔ گلاسگو یونیورسٹی فیس کی پہلی قسط دینے کے بعد بس اتنے پیسے ہی بچے تھے کہ کوئی کمرہ کرائے پر لے سکوں۔ کمرہ کسی کے ساتھ بانٹنے پر تب بھی راضی نہ تھا اور آج بھی اکیلا ہی سوتا ہوں۔ سو اب بس یہی سوچ تھی کہ روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر۔ ایسے میں میں ملازم ہوا ایک دیسی کی گراسری شاپ (کریانہ کی دوکان) پر۔ برطانیہ عظمی کی عظمت کا تمام تاثر اتارنے میں سب سے پہلا ہاتھ میرے اس آجر ہی کا تھا۔ گو ملازمت کا سرکاری ریٹ چھ پاؤنڈ گھنٹہ تھا مگر مجھے تین ملتے تھے۔ مجھے قانوناً بیس گھنٹے ہفتہ کام کی اجازت تھی اور وہ بہتر گھنٹے دیتا تھا۔ سو مجرم اور قانون شکن تو ہم دونوں ہی تھے۔ انگریزی کی اصطلاح فرینڈز ان بینیفٹ ہم پر عین صادق آتی تھی۔

صبح ساڑھے پانچ بجے “کیش اینڈ کیری” سے خریداری پر شروع ہونے والا کام شام سات بجے دوکان بند ہونے پر ہوتا۔ مگر اتنی دیر میں میرا آجر دو پیگ ختم کر کے تیسرا شروع کر چکا ہوتا۔ چنانچہ مجھے اگلے دو گھنٹے مزید ٹھہرتے ہوے، اس کو اپنی شاعری سنا کر اس کا نشہ دو آتشہ کرنا پڑتا۔ اس دوران میری شاعری تو اچھی ہوئی کہ نہیں، اس میں سوز ضرور آ گیا۔ میرا الکوحلک آجر بھی میری زندگی میں آنے والا ایک عظیم کردار تھا۔ اس کی خوشنودی میری ملازمت کی ضامن تھی اور indian-clothes-shopمیرا اس کے ساتھ رہنا اس کی خوشنودی کی ضمانت۔ سو شراب شاعری اور شرارت بھی میری ڈیوٹی کا حصہ ٹھہرے۔

شراب پینا بری بات ہے یا نہیں، الکوحلک ہونا بہت بری بات ہے۔ پانچویں پیک کے بعد اسے یاد آتا کہ اس کی زندگی کتنی ادھوری ہے، اس کی انگریز بیوی اس کی بچی لے کر چلی گئی ہے اور اب اسلام کی تعلیم بھی نہیں دینے دیتی۔ چھٹے پیک پر اس کو اپنے بہن بھائیوں کا لالچ یاد آتا اور ان کو گالیاں بکتا۔ ساتویں پر وہ میری تعلیم کا مذاق اڑاتا کہ اتنا پڑھنے کے بعد بھی میں اس کی دوکان پر اخبار بیچتا ہوں۔ پھر اسے غصہ آتا کہ میں وہ اخبار پڑھتا بھی ہوں جس سے ان کی تہہ خراب ہو جاتی ہے اور ایسی خبریں جان کر اونچی آواز میں پڑھتا ہوں جس میں کسی پاکستانی کی بیٹی گورے کے ساتھ بھاگ گئی ہو۔ اس کے بعد وہ میری شان میں ایسی ایسی گستاخیاں کرتا کہ نبی نہ ہونے کے باوجود یہ دل کرتا کہ کاش کوئی قانون میری توہین پر بھی ہو اور میں خود ہی اسے نافذ کر دوں۔ عموماً اسی دوران آٹھواں پیک پورا کرتے کرتے میں اسے اس کے گھر اتارتا تاکہ اپنی باقی کی خباثت وہ اپنی سکاٹش پارٹنر، سوزانہ پر اتار سکے۔ یہ سکاٹ خاتون بھی ایک صبر و رضا کا پیکر تھی۔ آہستہ آہستہ میرے اور اس کے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہو گیا۔

ہر دو چار روز بعد کسی نہ کسی طریقے سے میں اپنے الکوحلک آجر کو چھٹے پیک پر ہی گھر چھوڑ آتا۔ چنانچہ وہ رات مجھ پر آسان اور اس عورت پر بہت بھاری گزرتی۔ اگلی صبح اس کی سوجھی آنکھیں اور کچھ نیل یہ گواہی دیتے کہ جو میرے ساتھ جذباتی طور پر ہوا، وہ بیچاری اس سے جسمانی طور پر بھی گزری۔ چنانچہ MAIN-Michelle-Dalgleishاگلے دو تین دن میں بات ساتویں یا آٹھویں پیک پر لے جا کر سوزانہ کو “ریلیف” دیتا۔ کبھی کبھی تو یہ بھی ہوتا کہ اگر سوزانہ کو کسی پارٹی پر جانا ہوتا یا وہ یہ جسمانی و روحانی تشدد سہنے کو تیار نہ ہوتی تو اس کی درخواست پر میں اپنے آجر کو جوا کھلانے لے جاتا۔ شراب کے نشے میں دھت بھی نجانے کیسے اس کی قسمت اس کا بہت ساتھ دیتی تھی۔ اکثر وہ داؤ جیت جاتا اور واپسی پر کچھ پاؤنڈ میری بھی جیب میں ڈال دیتا۔ مگر کبھی کبھار اگر ہار جاتا تو یہ میری ہار ہی ہوتی تھی۔ بات دس پیگ سے بڑھ چکی ہوتی۔ راہ گیروں گو ذلیل، سرعام پیشاب کرنے اور ہر دوسری لڑکی کو ہیلو سیکسی پکارنے کے بعد وہ اچانک مجھے حکم دیتا کہ “اوئے وکیل، جیباں چیک کرا”۔ اس کا خیال ہوتا کہ اس کے نشے کا فائدہ اٹھا کر ضرور میں نے اس کے کچھ پیسے جیب میں ڈال لیے ہیں۔ میرے آجر کی ایک اچھی بات یہ تھی کہ صبح نشہ اترنے کے بعد وہ فورا رات کی زیادتیوں کی معافی مانگ لیتا تھا۔ البتہ میری بری عادت تھی کہ اپنی نوکری محفوظ رکھنے کے لیے مجھے معاف بھی کرنا پڑتا تھا۔ سوزانہ اور میرا یہ خاموش معاہدہ بہت کامیابی سے چلتا رہا۔ اکثر مجھے حیرانی ہوتی تھی کہ وہ اس شخص کو برداشت کیسے کرتی تھی۔ میں نے کبھی کسی پاکستانی عورت کو بھی اس قدر تذلیل برداشت کرتے نہیں دیکھا۔ اک بار میں نے اپنے آجر سے، جب وہ رات کی زیادتیوں پر مجھ سے معافی مانگ رہا تھا، کہا کہ میں تو تمھارا ملازم ہوں، مگر تم اپنی پارٹنر سے بھی بہت زیادتی کرتے ہو۔ بھائی جان رویہ ٹھیک کرو ورنہ وہ تمھیں چھوڑ دے گی۔ “نہیں چھوڑ سکتی”۔ اس نے جواب میں کہا۔ “اس کی عمر پچاس سے زیادہ ہو گئی، موٹی سی ہے، اس عمر میں اسے نیا پارٹنر نہیں ملے گا، سو نہیں چھوڑے گی”۔ مجھے خود پر ہوئی کسی زیادتی نے بھی اس جملے سے زیادہ دکھ نہیں دیا۔

Boyle-Final-3_1414084iآخر اک دن میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ گو میں نے اس کی تاویل تو مذہب میں دھونڈی کہ میرا رزق میرے اللہ کے ذمہ ہے، سو میں کیوں کسی کی زیادتی برداشت کروں۔ مگر شاید اس فیصلہ میں زیادہ ہاتھ اس گستاخی کا تھا جو میرے آجر نے گزشتہ شب نشے میں میرے مرحوم باپ کے متعلق کی۔ میں نے آجر کے پاس اپنی دبائی ہوئی رقم پر بھی چار حرف بھیجے اور نوکری چھوڑ دی۔ جب میں یہ اطلاع دے کر آجر کے فلیٹ سے نکل رہا تھا تو میری نظر سوزانہ کے پیلے پڑتے چہرے پر پڑی اور اس کی آنکھوں میں آنسو نظر آئے۔ میں اب تک نہیں سمجھ سکا کہ وہ خوشی کے آنسو تھے میری رہائی پر یا اس کی آنکھیں یہ سوچ کر بھر آئیں کہ اب ہر دو چار دن بعد اسے “ریلیف” نہیں ملے گا۔ نجانے میرے بعد سوزانہ پر کیا بیتی۔ کبھی کبھی میں خود کو اس کا مجرم محسوس کرتا ہوں۔ اگر ملے تو اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں، نہ جانے وہ معاف کرے گی یا نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

13 thoughts on “ایک سکاٹش موٹی سے معافی

  • 06-03-2016 at 10:44 am
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ہے۔ آفریں!

    • 06-03-2016 at 4:22 pm
      Permalink

      شکریہ سر

  • 06-03-2016 at 11:04 am
    Permalink

    نئی تہذیب کا ایک بہترین تجزیہ
    مغرب کے کئی روشن پہلووں کے ہم رکاب تاریکیوں کا ذکر
    خوب است

  • 06-03-2016 at 4:22 pm
    Permalink

    Thanks

  • 06-03-2016 at 4:23 pm
    Permalink

    بہت عمدہ اور خوبصورت تحریر ہے عنوان سے بہرحال مجھے کچھ اختلاف ہے اس میں سے موٹی کا لفظ نکال دیجیے

  • 06-03-2016 at 7:55 pm
    Permalink

    عمدہ۔ اگرچہ اس پر شدید احتجاج کرنا چاہتا ہوں کہ پہلی دونوں کہانیوں میں ظلم کرنے والے موٹے تھے۔ ہماری نظر میں موٹا لفظ نہایت غیر پارلیمانی ہے، اس لئےاس کی جگہ صحت مند یا خاصے صحت مند جیسی شائستہ اصطلاحات برتنی چاہئیں۔ آپ نے ویسے اچھا لکھا، اگرچہ اس تحریر میں جس انداز سے سکاٹش خاتون کا کردار پینٹ کیا، اس کو دیکھتے ہوئے نام موٹی واقعتاً زیادتی لگ رہا ہے۔

    • 06-03-2016 at 8:22 pm
      Permalink

      بہت شکریہ سر۔
      واقعی شاید لفظ موٹی کے بغیر ہی مناسب تھا۔ لیکن چونکہ یہ تحریر وقار اور ظفراللہ صاحبان کے تسلسل میں تھی، سو لفظ موٹی برتا۔ آئندہ انشاللہ محتاط رہوں گا۔

  • 06-03-2016 at 8:07 pm
    Permalink

    wah g wah james bond sahb

  • 06-03-2016 at 8:23 pm
    Permalink

    بہت شکریہ سر۔
    واقعی شاید لفظ موٹی کے بغیر ہی مناسب تھا۔ لیکن چونکہ یہ تحریر وقار اور ظفراللہ صاحبان کے تسلسل میں تھی، سو لفظ موٹی برتا۔ آئندہ انشاللہ محتاط رہوں گا۔

  • 06-03-2016 at 10:32 pm
    Permalink

    انعام رانا صاحب، آپ بہت اچھا لکھتے ہیں۔ معافیوں اور confessions کا سلسلہ جاری رہنا چاہیئے۔۔۔۔۔ 🙂

    • 07-03-2016 at 12:20 am
      Permalink

      سر بہت شکریہ۔

  • 07-03-2016 at 1:09 am
    Permalink

    دیکھو ہم نے اس لمحے کا
    کتنا بوجھ اٹھا رکھا ہے….!

Comments are closed.