نظام لپیٹا جائے گا یا تاریخ لکھی جائے گی؟


نااہلی کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف سٹرکوں پر آ ہی گئے۔ اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ واپسی کے فیصلے کو( ن) لیگ کے کارکنوں میں زبردست پذیرائی ملی۔ تعداد کتنی تھی اس پر مختلف میڈیا ہاﺅسز اپنا اپنا راگ الاپ رہے ہیں۔ حوالدار اینکروں کی بے چینی تو عروج پر ہے ہی مگر خفیہ ہاتھوں کی جانب سے ریلی کے آغاز پر ہی کیبل آپریٹروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش سے یہ تو پتہ چل گیا کہ فریق مخالف اس سارے معاملے کو آسان نہیں سمجھ رہا۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر آپ کا حریف خائف نظر آرہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی چال درست پڑ رہی ہے۔ کہیں بہت ہی بڑے اجتماع کے خدشے کے پیش نظر ہارون الرشید، شیخ رشید کے ذریعے پہلے ہی سے ڈھول پیٹنا شروع کردیا گیا تھا کہ نواز شریف اگر ایک کروڑ عوام کو سٹرکوں پر لے آئیں تو بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ تبدیل نہیں ہوگا۔ اپنے سے آدھی عمر کی عظیم خاتون عاصمہ جہانگیر کو چڑچڑی بڑھیا کہنے والے ہارون الرشید ان دنوں عمران خان کو بھی کوس رہے ہیں۔ صدارتی نظام لانے کےلئے آئین کو لپیٹنے کے لیے مشورے دیتے پائے جاتے ہیں حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔

بے پر کی اڑانے والے شیدا ٹلی کی بے چینی ذرا وکھری ٹائپ کی ہے، فرزند راولپنڈی کو ڈر لاحق ہوگیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عوامی طاقت کے مظاہرے کے بعد کہیں نواز شریف کو کوئی ریلیف نہ مل جائے۔ اگلے روز اداروں کو دھمکاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر نواز شریف کو ریلیف ملا تو پوری قوم ایسا کرنے والوں کا گھیراﺅ کرے گی۔ ایک طرف تو شیدا ٹلی خود اس قسم کی باتیں کر رہا ہے اور دوسری جانب عمران خان کے ساتھ مل کر نواز شریف پر سپریم کورٹ کے ججوں کی توہین کا الزام لگا رہا ہے۔ ویسے نواز شریف بھی کہاں کم کر رہے ہیں۔ اپنی تقاریر میں کھل کر عدالتی فیصلے کو مسترد کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ مجمع کی نعرے بازی میں بھی نا منظور نا منظور کی صدائیں بلند ہوتی جا رہی ہٰں۔ سابق وزیر اعظم اس سے آگے بڑھتے ہوئے جب مولوی کینیڈی کی پاکستان یاترا کے پیچھے چھپے کر دار کے متعلق سوال کرتے ہیں یا پھر 2014ء سے کہ اب تک عمرانی دھرنوں کے منصوبہ سازی کا حوالہ دیتے ہیں تو گویا ”ریڈ لائینز“ کراس کرنے کے قریب آ جاتے ہیں۔

اس حوالے سے ابھی تک انہوں نے کھل کر کوئی نام تو نہیں لیا مگر بچہ بچہ جان چکا ہے کہ وہ کن کا ذکر کررہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں چند نام سامنے آ جائیں،ایسا ہوا تو یقینا اداروں کے وقار کو ٹھیس پہنچے گی اور صورت حال مزید دھماکہ خیز ہو جائے گی۔ نواز شریف کی لاہور واپسی جی ٹی روڈ سے روکنے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے گئے۔ اعلیٰ ترین شخصیات حرکت میں آئیں۔ اس کا بڑا مقصد یہی تھا کہ نااہلی سے زخم خوردہ سابق وزیر اعظم جگہ جگہ خطاب کرنے کے دوران چند ایسی باتیں نہ کہہ دیں جو سب کو مشکل میں ڈال جائیں۔ جی ٹی روڈ سے واپسی کا اعلان ہوتے ہی حوالدار اینکروں کے ذریعے دھماکے کرانے یا پھر پی ٹی آئی کے کارکنوں سے تصادم کی دھمکیاں دی گئیں۔ علامہ کینیڈی کو ”مشن “ پر واپس طلب کیا گیا تو سکرپٹ میں بتایا گیا کہ فوراً دھمکی دیں کہ جی ٹی روڈ سے آنے کی کوشش کی گئی تو راستے میں ان کے فدائین پہلے ہی دھرنا دیئے بیٹھے ہونگے۔ خون خرابے کے بغیر آگے جانا ممکن نہ ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے مگر ان تمام وارننگز کو نظر انداز کر دیا۔ اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے ہی نواز شریف نے واضح کردیا تھا کہ اب وہ” نظریاتی“ بن چکے ہیں یعنی انہوں نے سول بالا دستی کے لئے ہر قربانی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جان کی بھی پروا نہیں کی گئی۔ نواز شریف کی اسی ”سرکشی“ نے معاملے کو ان حلقوں کو بہت حد تک الجھا دیا جو سارے کھیل کو نہایت آسانی کے ساتھ ختم کرنے کے لیے سیٹی بجانے پر تیار بیٹھے تھے۔

تصور کریں اب اگر مارشل لاء لگے تو کس کو فائدہ ہو گا اور خسارے میں کون رہے گا۔ خون خرابہ کرایاجائے تو الزام کس کے سر آئے گا۔ نواز شریف اہل خانہ سمیت جیل جائیں تو کیا ان کی سیاست ختم ہو جائے گی؟ درست بات ہے کہ اب بھی وفاق اور دو صوبوں میں حکومتیں مسلم لیگ (ن) ہی کے پاس ہیں مگر یہ سمجھنا کہ اداروں سے ٹکراﺅ کی پالیسی کے دوران حکومتیں بچانے کو اولین ترجیح بنایا جائے گا کسی طور درست نہیں۔ حالات ٹکراﺅ کی جانب ہی جا رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے زیر عتاب اور مخالف تمام سیاسی پارٹیاں اور حلقے یا تو ابھی سے لائن لے رہے ہیں یا پھر صورتحال پر بہت گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں کہ گڑ بڑ کس سطح تک جاسکتی۔ اسی کو مدنظر رکھ کر اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔  70 سال سے ملک میں پے در پے ہونے والی سازشوں کے نتیجہ میں آج حالات یہ ہیں کہ ایک دو اداروں کی بالادستی کے خلاف کیا رائٹ یا لیفٹ، سب ایک ہو گئے ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا تھا کہ عاصمہ جہانگیر اور مولانا فضل الرحمن کا موقف ایک ہی ہو جائے گا۔ پنجاب میں موجود ن لیگ کے حامی بہت بڑے حلقے کی بالکل وہی سوچ ہوگی جو سندھی، بلوچی اور پختون قوم پرستوں کی ہے۔ اگرچہ یہ سب ملک کےلئے نیگ شگون نہیں مگر حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔ ایسا نہیں کہ ہر کوئی اسٹیبشلمنٹ کی مخالفت کررہا ہے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو اپنے مفاد مستقل حکمرانوں کے ہاں دیکھ کر لائن بدل رہے ہیں۔ خود ہمارے صحافتی حلقوں میں بھی چند کھلی مثالیں موجود ہیں۔ پیشہ ورانہ اخلاقیات کو ایک طرف رکھ کر ”پرانی محبتوں“ کو پکارا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گھڑمس کے دوران بھی جنرل پرویز مشرف جیسے کمانڈر کی امید بر نہیں آ رہی۔

ایک صاحب نے لکھا ہے کہ فوج بحیثیت ادارہ درست سمت پر جا رہی ہے، اسی لیے مفرور مشرف کو پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان واپس آنے کی کوشش نہ کریں ورنہ گرفتاری سے بچ نہیں سکیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو مگر اصل بات اتنی ہے کہ مشرف کی واپسی خواہ ان کے اپنے پرانے ادارے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، پاکستان میں صرف مسلم لیگ (ن) ہی نہیں، کئی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں حتیٰ کہ بعض سیکولر حلقوں کو بھی بھڑکا دے گی، ایم کیو ایم والے بھی مشرف کو کسی طرح ”بھائی “ کا درجہ دینے پر تیار نہیں ہوں گے۔ سابق آمر خود اپنے ایک ادارے کے لئے بھی بوجھ ہے اسے اب باہر ہی رہنا ہوگا۔ سو اگر روکا جا رہا ہے تو اسی سوچ کے تحت روکا جا رہا ہو گا۔

اگر حالات ملک کے سیاسی ماحول کیلئے ساز گار نہیں تو خود مسلم لیگ (ن) میں بھی سب اچھا ہے کا منظرسامنے نہیں آ رہا۔ عدالتی فیصلہ آنے سے قبل ہی چودھری نثار نے نواز شریف کو جھک جانے کا مشورہ دیکر پوری پارٹی کا مورال ڈاﺅن کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب تو وہ کافی حد تک کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ انہیں نواز شریف کی جانب سے اختیار کردہ پالیسی پر شدید تحفظات ہیں۔ ہمیشہ سے ہوتا تو یہ آیا ہے کہ پارٹی جب کوئی فیصلہ کرے تو بعد میں سب مل کر اس پر عمل کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ فیصلے کی مخالفت کرنے والے بھی ڈسپلن کے تحت منہ بند رکھ کر ساتھ چلتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت ہی نہیں پارٹی چلانے کے دوران بھی نواز شریف سے بڑی غلطیاں ہوئیں۔ سنگین غفلت کا مظاہرہ بھی گیا گیا۔ مگر اس موقع پر چودھری نثار کے ”ضمیر “ کی بیداری معنی خیز ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں مزید کنفوژن پیدا ہو سکتی ہے۔ فیصلہ تو قیادت کو خود ہی کرنا ہے۔ مگر بہتر ہوگا کہ” کمر درد“ یا”قمر درد“، میں مبتلا چودھری نثار کو طویل چھٹی پر بھیج دیا جائے یا پھر جہاں وہ جانا چاہتے ہیں اس کے لیے راستہ کھول دیا جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ چکری کے چودھری کے ایسے نازنخرے کسی اور نے نہیں اٹھانے۔

نواز شریف اور ان کے وفادار ساتھیوں کو اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ جیل یا کال کوٹھری میں پہنچنے سے پہلے چکری کے چودھری کی اصلیت واضح ہوگئی۔ یہ وہی چودھری نثار ہیں کہ جن کے پرو اسٹبلشمنٹ اقدامات کے باعث آج پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) سے بات تک کرنے کو تیار نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ خود پی پی پی نے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کر کے خود کم ازکم سندھ کی حدتک محفوظ کر لیا ہے۔ فوری اقتدار خواب دیکھنے والے عمران خان کی نیندیں اُڑ ہوئی ہیں۔ مس گلالئی کے الزامات کے بعد وہ اس حد تک بوکھلا چکے ہیں کہ وہ بھر ی محفل میں کے پی کے حکومت کی کرپشن کا ذکر آنے پر برہم ہو گئے۔ اور یہ مضحکہ خیز موقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی کرپشن سے میرا کچھ لینا دینا نہیں۔ قابل اعتراض مسیجز کیس میں کپتان نے اپنا موبائل پارلیمانی کمیٹی کو دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اُدھر 2014ء کے مشہور کردار اُس وقت کے کور کمانڈر منگلا جنرل (ر) طارق خان کو نہ جانے کیوں پریشانی لاحق ہوگئی ہے۔موصوف نے اپنے فیس بک اکاﺅنٹ پر خدشات یہ کہہ کرظاہر کیے کہ عمران خان نے اپنا موبائل تحقیقات کے لیے دیا تو دھرنوں کے دووران جنرل پاشا و جنرل ظہیر الاسلام اور دیگر سے ہونے والے رابطے بھی افشا ہو سکتے ہیں۔

آزاد تجزیہ کاروں کی ایک ہی رائے ہے کہ نواز شریف کو واضح ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ جان کے خطرے سمیت ہر طرح کے خطرات تو ہر صورت سر پر منڈلاتے رہیں گے لیکن اور راستہ کیا ہے ؟

ہمیں تو ان لوگوں کی خوش فہمی پر ہنسی آتی ہے کہ جو یہ پوچھتے ہیں کہ نواز شریف کو خاندان سمیت جیلوں میں ڈالنے کی لمبی چوڑی پلاننگ بنانے والے شاہد خاقان عباسی یا شہباز شریف کو مزے سے حکومت کرنے دیں گے۔ عقل کے اندھوں اور مفادات کے اسیروں کے سوا ہر ذی شعور کو نظر آ رہا ہے۔ پورا نظام ہی لپٹنے کا منصوبہ ہے۔ سٹرکوں پر آکر طاقت کا مظاہرہ کرنا ضرورت ہی نہیں مجبوری ہے۔ جس طرح نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی بالکل اسی طرح یہ عمل بھی ضائع نہیں جائے گا۔ کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ملک میں ایک بار پھر تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ یہ حالات کے دھارے پر ہے کہ نئی تاریخ لکھی جائے گی یا پھر تاریخ خود کو دھرائے گی۔

حرف آخر: اقتدار کی رسہ کشی کے دوران آئین کی اسلامی شقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک گھناﺅنی سازش کے سوا کچھ نہیں۔ آرٹیکلز 62,63 کے اطلاق اور تشریح کے حوالے سے تعریف زیادہ واضح اور آسان بنانا منظور ہے مگر ان شقوں کا خاتمہ کسی صورت قبول نہیں۔ ملک میں بڑے پیمانے پر یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ آرٹیکلز62 ، 63 کا اطلاق ججوں اور جرنیلوں سمیت سب پر ہونا چاہیے۔ ایسا ہوا تو معاملات کو بہتر بنانے میں غیر معمولی مدد ملے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔