گیارہ اگست کی اصل تقریر کی ضیا اور لبرل ظلمت


آپ میں سے نہایت باریک بین افراد نے نوٹ کیا ہو گا کہ آج 11 اگست کا دن ہے۔ اور یہ بھی نوٹ کیا ہو گا کہ وطن عزیز کے بہت سے لبرل افراد اس دن کو اقلیتوں کا دن قرار دیتے ہوئے واویلا کرتے ہیں کہ قائداعظم نے 11 اگست کے دن دو قومی نظریے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے غیر مسلم شہریوں کو برابر کا شہری کہا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ ریاست کا اپنے شہریوں کے عقیدے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس بات کو یہ لبرل طبقہ اس دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ یہ سیکولر ریاست کا اعلان تھا۔

آپ جانتے ہی ہوں گے کہ قائداعظم کی یہ تقریر کرنے کے فوراً بعد لبرل سیکولر بیوروکریسی نے اسے سینسر کرنے اور چھپانے کی کوشش کی تھی۔ خوش قسمتی سے آج ہم اس سازش کا توڑ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور قائداعظم کی وہ اصلی تقریر حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جس کے بعد لبرلوں کی ظلمت کو ضیا کی عقیدت سے شکست فاش دی جائے گی۔ عظیم پاکستانی حکمران جنرل ضیا الحق کے دور میں مملکت خداداد کے شہریوں پر یہ انکشاف پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ قائداعظم کو اسماعیلی یا شیعہ مسلک سے متعلق قرار دینا غلط ہے کیونکہ وہ غیر مسلکی مسلمان تھے۔ اسی عظیم حکمران کے دور میں پہلی مرتبہ تاریخ کے تاریک تہ خانوں سے حضرت قائداعظم کی ڈائری بھی نکالی گئی تھی جس میں بیان کیے گئے اصولوں کے مطابق جنرل ضیا الحق نے مملکت خداداد کی سمت درست کی تھی۔ ضیا دور کے جس شخص نے یہ ڈائری دریافت کی تھی اور اسے لکھتے ہوئے اپنا قلم توڑ دیا تھا، اس کے پوتے نے آج ہمیں قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر کا مسودہ دے دیا ہے۔

اب لبرل افراد قائداعظم کی ڈائری کی طرح اس پر بھی شبہات کا اظہار کریں گے کہ یہ جعلسازی ہے۔ مگر ہمارا مقصد تو اس تاریخ کو سامنے لانا ہے جو مطالعہ پاکستان میں لکھی جانی چاہیے۔ اگر کسی محقق کو اس پر اعتراض ہے تو خود 11 اگست کی تقریر لکھ کر لے آئے۔ تاریخ کو مطالعہ پاکستان سے پڑھے ہوئے طلبا دونوں کا تقابل کر کے بتا دیں گے کہ کون سی تقریر اصلی ہونی چاہیے۔

ہمارے پاس موجود اس مبینہ تقریر میں قائداعظم نے کہا:

اس مجلس کے پہلے فریضہ کے بارے میں اس وقت کسی سوچی سمجھی بات کا تو اعلان نہیں کرسکتا لیکن ایک دو چیزیں جو میرے ذہن میں آئیں گی آپ کے سامنے پیش کردوں گا۔ پہلی اور سب سے زیادہ اہم بات جو میں زور دے کر کہوں گا وہ یہ ہے، یاد رکھیے کہ آپ خود مختار قانون ساز ادارہ ہیں اور آپ کو جملہ اختیارات حاصل ہیں ”سوائے ان اختیارات کے جن کو عدلیہ چھین لے“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یعنی آپ فیصلے کس طرح کرتے ہیں؟ پہلی بات جو میں کہنا چاہوں گا وہ یہ ہے اور بلاشبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایک حکومت کا پہلا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان ومال اور مسلمانوں کے عقیدے اور ان دیگر عقائد کو تحفظ دے سکے ”جن کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا“۔

میں اس بات پر بہت زیادہ زور نہیں دے سکتا۔ ہمیں اس جذبہ کے ساتھ کام شروع کر دینا چاہیے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اکثریت اور اقلیت، وہ فرقہ ”جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا“ اور مسلمان فرقہ کے یہ چند در چند زاویے معدوم ہوجائیں گے۔ کیوں کہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان میں بھی تو پٹھان، پنجابی، شیعہ اور سنی وغیرہ وغیرہ موجود ہیں اس طرح ”ایک دیگر قوم جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا“ میں بھی برہمن، ویش، کھتری ہیں اور بنگالی اور مدراسی ہیں۔ سچ پوچھیں تو یہی چیزیں ہندوستان کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھیں اگر یہ سب کچھ نہ ہوتا تو ہم کب کے آزاد ہوگئے ہوتے۔

اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں: اپنی ان عبادت گاہوں میں جائیں ”جن کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا“، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ آج بھی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں ایک مخصوص فرقے سے امتیاز برتا جاتا ہے اور ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے ایسے حالات میں سفر کا آغاز نہیں کیا ہے۔ ہم اس زمانے میں یہ ابتدا کررہے ہیں جب اس طرح کی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔ دو فرقوں کے مابین کوئی امتیاز نہیں۔ مختلف ذاتوں اور عقائد میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ ابتدا کررہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ایک مملکت کے برابر کے شہری ہیں ”لیکن یاد رہے کہ کچھ شہری دوسروں سے زیادہ برابر ہیں“۔

میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں اس بات کو ایک نصب العین کے طور پر اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا نہ وہ ”جن کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا“، وہ رہے گا ”جن کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا“ نہ مسلمان، مسلمان۔ مذہبی اعتبار سے نہیں، کیونکہ یہ ذاتی عقائد کا معاملہ ہے، بلکہ سیاسی اعتبار سے اور مملکت کے شہری کی حیثیت سے۔ پس حضرات میں آپ کا مزید وقت لینا نہیں چاہتا اور ایک بار پھر اس اعزاز کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس سے آپ نے مجھے نوازا۔ میں ہمیشہ عدل اور انصاف کو مشعل راہ بناؤں گا اور جیسا کہ سیاسی زبان میں کہا جاتا ہے تعصب یا بدنیتی دوسرے لفظوں میں جانبداری اور اقربا پروری کو راہ نہ پانے دوں گا اور ”کچھ شہریوں کو دوسروں سے زیادہ برابر سمجھوں گا“۔ عدل اور مکمل غیر جانبداری میرے رہنما اصول ہوں گے۔

لیکن یاد رہے کہ سر سید احمد خان نے دو قومی نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ دو قومیں ہیں، ایک مسلمان اور ایک دیگر جن کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا۔ آپ بھی یہ بات یاد رکھیں۔ خاص طور پر پاکستان کی اس اسمبلی کے پہلے صدر، جوگندر ناتھ منڈل، جو ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ”جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا“، سر ظفر اللہ خان بھی ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ”جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا“، اور دیگر غیر مسلم عقائد کے حامل اراکین جن کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا، اب تیار رہیں۔ منڈل صاحب کو پاکستان کا پہلا وزیر قانون و انصاف اور لیبر مقرر کر دیا جائے گا، سر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ، مگر ان دونوں کے ”مذہب کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا“۔

آپ نے یہ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی ضیا سے آلودہ یہ تقریر پڑھی۔ ہم نے تو اب حجت تمام کر دی ہے۔ اگر کچھ لبرل افراد ابھی بھی بضد ہوں کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ غیر مسلم برابر کے شہری ہیں، تو ہم انہیں راہ راست پر لانے سے قاصر ہیں۔ وہ اپنی پسند کی تقریر پڑھ لیں، ہم اپنی پسند کی تقریر لکھتے رہیں گے۔

ویسے یہ فضول کی بحث ہے۔ قائداعظم نے خواہ کچھ بھی کہا ہو، کر تو ہم وہی رہے ہیں جو ہم نے اس تقریر میں لکھا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar