اقلیتوں کا دن اور کھانے کے برتن


فلم چل رہی تھی، ہیرو اٹھا، ایک اینٹ مار کے اپنی انگلی کچلی، جو خون نکلا اسے دوسرے ہاتھ کی انگلی سے ہیروئین کو دکھا کر کہنے لگا کہ یہ دیکھ لو، یہ میرا خون ہے، کیا یہ بالکل ویسا نہیں ہے جیسا ان لوگوں کا ہے جو ہمارے عقیدے نہیں مانتے، جن کے رچولز ہم سے الگ ہیں، جن کی عبادت گاہیں ہم سے الگ ہیں، کیا ان کے اور ہمارے خون میں کوئی فرق ہے؟ لیکن یہ ڈائیلاگ گھس چکا ہے۔ جب بھی ایسی کوئی بحث چھڑتی ہے معاملہ خون پر یا فزیکل اپئیرینس پہ جا کے رکتا ہے کہ ان کی بھی دو آنکھیں ہیں، ان کے بھی دو کان ہیں، ایک ہی ناک ان کی بھی ہے، دو ہاتھ اور دو پاؤں ان کے بھی ہیں، باقی بھی وہی سب کچھ ہے جو ہمارے ساتھ ہے تو مسئلہ کہاں ہوتا ہے؟

مسئلہ بھی بعد میں تلاش کریں گے، کبھی بازار سے دہی بڑے کھانے کا اتفاق ہوا ہے؟ یا گنے کا جوس پیا ہو؟ صبح ناشتہ تو ضرور کیا ہو گا کہیں نہ کہیں، کیا کھانے پینے سے پہلے وہاں جا کر کوئی پوچھتا ہے کہ یار سنو، مجھ سے پہلے جو یہاں آیا تھا اس کا عقیدہ کیا تھا؟ بھئی نہ گنے کے جوس والے نے کبھی پوچھا، نہ دہی بڑے کی ریڑھی والے نے اور نہ ہی کسی نے آپ سے ناشتہ کرتے وقت پوچھا ہو گا۔ کوئی بھی مسیحی، ہندو یا مسلمان بہت آرام سے ان سوالات کے بغیر پیٹ بھرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ یہاں سب کچھ ایک دم ٹھیک ہو جاتا ہے تو گھر میں کیا گڑبڑ ہے؟ مالی آئے گا تو اسے سٹیل کے گلاس میں پانی دینا ہے، کام والی آئے گی تو اس کا برتن الگ رکھنا ہے، صفائی والی کو کھانا دینا ہے تو اس طرح جیسے کسی بلی کو الگ برتن میں دودھ پلایا جاتا ہے، کیوں بھئی؟ باہر ہوٹلوں میں تو کبھی نہیں پوچھا کہ ہم سے پہلے ان برتنوں میں کون منہ مار کے گیا ہے، گھر میں شاید زیادہ بہتر طریقے سے دھل جاتے ہوں گے، پھر کیا تکلیف ہے؟

کیا وہ انسان جو آپ کے یہاں آ کر نالی صاف کرتا ہے یا آپ کے گھر کو چمکا دیتا ہے وہ پورا کا پورا گندگی کی پوٹ ہوتا ہے؟ یا وہ یہ سارے کام منہ سے کرتا ہے؟ یا وہ کھانے سے پہلے آپ کی طرح ہاتھ نہیں دھوتا؟ یا اس کے کوئی مخصوص جراثیم ہیں جو آپ کے برتنوں پر چپک جاتے ہیں؟ یا آپ کا صابن سلو ہے؟ کبھی باہر ملک کی فلائیٹ میں کھانا کھاتے وقت ساتھ والوں سے پوچھا ہے کہ ہاں میاں کس عقیدے سے ہیں؟ جب نہیں پوچھا اور ٹھنڈے پیٹوں سب کچھ کھایا پیا ہے تو دو لقمے ان کے ساتھ بھی کھائے جا سکتے ہیں، انہیں برتنوں میں جن میں عزت مآب کھاتے ہیں۔ یہ جو لفظ اقلیت ہے اس کی شروعات آپ کے گھر سے ہوتی ہے اور عین انہیں حرکات کی وجہ سے ہوتی ہے۔

بہت زیادہ کریدیں گے تو ایک جواب آئے گا ”کراہت“ آتی ہے۔ ماشاللہ، خدا ان نزاکتوں کو قائم رکھے، وہ تو کبھی یہ نہیں کہتے جو آپ کا باتھ روم روز آ کر چمکاتے ہیں، جو بھی گل کاریاں آپ کی موجود ہیں اسے صاف ستھرا کرتے ہیں، آپ کے گندے کپڑے دھوتے ہیں، کیا ان میں کراہت محسوس کرنے کا جذبہ مر گیا ہوتا ہے؟ یا شاید وہ اس لفظ کو نہیں جانتے ہوں گے، ہو سکتا ہے ان کی معیشت انہیں یہ نخرے کرنے کی اجازت نہ دیتی ہو۔ بہرحال وہ لوگ آپ کے ہم عقیدہ ہوتے ہوں یا بعض اوقات کسی دوسرے فرقے سے بھی تعلق رکھتے ہیں تو ان کے برتن الگ کر کے جو پیغام اپنے اور ان کے بچوں کو دے دیا جاتا ہے، وہی سب کچھ بڑے ہو کر ان رویوں میں ڈھلتا ہے جنہیں امتیازی رویے عرف شدید نفرت کہا جاتا ہے۔

سوچا یہ تھا کہ گیارہ اگست پر لکھا جائے گا، یہ اقلیتوں کا دن نہیں ہے، یہ ہمارا دن ہے، یہ آپ کا دن ہے، لمبے لمبے بھاشن چلیں گے لیکن تاریخ پر نظر ڈالی تو پہلا فساد ہی پانی پر نظر آیا۔ سینتالیس میں تقسیم کے بعد اکثر آنے جانے والوں نے لکھا کہ سٹیشن پر پانی پلانے کے لیے دو قسم کے ماشکی گھوم رہے ہوتے تھے، ایک ہندو پانی والا ہوتا تھا، ایک مسلم پانی والا ہوتا تھا۔ جس نے پیاس بجھانی ہے اپنے مذہب والوں کے پاس جائے اور پانی پی لے۔ اسی طرح قلی بھی عموماً الگ الگ حلیوں میں ہوتے تھے، کافی گند تھا، افراتفری تھی، ان دنوں بھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ ہوٹلوں میں رسوئی جھونکنے والوں کا عقیدہ کیا ہے؟ آپ کرسی میز پر ڈٹ کے کھا رہے ہیں، کسی قسم کی کوئی تکلیف دور دور تک نہیں ہوتی تو پھر وہ دن ہو یا آج کا دن، نخرہ کس بات کا ہے؟ گھر سے باہر سب جائز ہے اور اپنے گھر میں جہاں بچوں کو پہلا سبق دیا جا سکتا ہے کہ سب برابر ہیں، وہیں پر یہ لوچا ہو جاتا ہے۔ یار دیگ کے چاول تو سبھی نے کھائے ہوں گے، کبھی پوچھا کہ بنانے والا کس طرح عبادت کرتا تھا؟

فقیر ایک خراب کیس کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ معاملات اتنے بگڑ چکے تھے کہ خدا انہیں زندگی دے، والدہ کو پچیس تیس بوتلیں وقفے وقفے سے خون کی لگانی پڑیں، بتانے والے بتاتے ہیں تین مرتبہ ایسا ہوا کہ لگتا تھا ناشدنی ہوئی کہ ہوئی، جان بچ گئی، مالک کی عطا ہے، آج تک مڑ کے یہ کسی نے پوچھنے کا نہیں سوچا کہ یار ان تیس بوتلوں میں کون سا خون کس مذہب والے کا تھا۔ اب بھی یہی ہوتا ہے، کبھی خون دینے جائیں یا خدا نہ کرے لگوانے کی ضرورت پڑ جائے تو بس گروپ میچ کیا جاتا ہے، خیال یا عقائد میچ نہیں ہوتے، نہ یہ سوال کبھی اٹھا ہے کہ میاں جس کا خون لگا رہے ہو اس کے معمولات و ماکولات کیا رہے ہیں۔ تو وہ فلم کے سین والا مسئلہ اتنا سا ہے، خون بہرحال ایک سا ہوتا ہے!

ایک چیز طے کرتے ہیں، یا تو وہ سب کچھ استعمال کرنا چھوڑ دیں جو دوسرے عقیدے والوں نے بنائی ہیں اور یا پھر ایسا کر لیتے ہیں کہ اپنے ملک میں جو مختلف العقائد لوگ ہیں تھوڑا ان کے لیے دل نرم کر لیتے ہیں۔ کولا مشروبات، پیزا، سپیگیٹی، جیلی، چاکلیٹ، ڈبل روٹی، منرل واٹر، موبائل، کیبل، گاڑی وغیرہ زندگی سے باہر نکال کر پھینک دیں۔ ہمیشہ وہ استرا استعمال کیجیے جو اپنے ملک میں خوش عقیدہ دوستوں نے بنایا ہو، ٹوتھ برش اور پیسٹ تو ویسے بھی سب یہودی اور مسیحی بناتے ہیں، انہیں بھی اٹھا کے پرے سے پراں مارئیے، زندگی کچھ سکون میں آئے تو نئے سرے سے سوچنا شروع کریں کہ استاد اب کرنا کیا ہے؟

دیکھیے اس برتنوں والے کیس کو بالخصوص ڈسکس کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر ہم اپنے گھروں میں سے ہی نفرت نہیں نکال سکتے تو دلوں سے کیسے نکالیں گے؟ لاکھ آپ کا انٹرنیشنل ایکسپوژر ہو، پوری دنیا گھومتے ہوں، بچوں کو ساتھ پھراتے ہوں لیکن اگر ان کو پیدا ہوتے ساتھ یہ سبق ملے گا کہ بیٹے فلاں برتن ان کا ہے اس میں نہیں کھانا تو یہ بات بچے کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ جب آئے گی تو وہی ”کراہت“ جنم لے گی جس کا علاج بڑی عمر میں تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ نفرت کرنے کے لیے دنیا میں بہت سی چیزیں موجود ہیں، چھوٹے بچوں سے اپنے گھروں میں کام کروانا ایک قابل نفرت فعل ہو سکتا ہے، کسی کولیگ عورت کے بارے میں جنسی طور پر غلط خیالات رکھنا قابل نفرت ہو سکتا ہے، سڑک پر پان کی پیک پھینکنا ایک برا فعل کہا جا سکتا ہے، امریکہ اور اسرائیل کو گالیاں دیتے ہوئے اپنی پالیسیوں پہ نظر کرم نہ رکھنا قابل نفرین سمجھا جا سکتا ہے، فقیروں کو جھڑک دینا بری عادت ہو سکتی ہے، فیس بک پر دوسروں کے پروفائل جھانکنا باعث شرم کہلایا جاتا ہے اور چھتیس چیزیں ہیں، بچوں کو سکھائیے کہ یہ سب نہیں کرنا انشا اللہ رزلٹ تسلی بخش آئے گا اور طبیعت بھی فریش رہے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 284 posts and counting.See all posts by husnain