عاصمہ جہانگیر سے معذرت کے ساتھ


عاصمہ جہانگیر کو کون نہیں جانتا، انسانی حقوق کی علمبردار، جمہوریت کی چمپئین، وکیلوں کی رہنما اور ایک بہادر اور نڈر خاتون ہیں۔ روشن خیال اور لبرل تصور کی جاتی ہیں، اور چونکہ میرے جیسے خاکساروں کا شمار بھی اسی قبیل میں ہوتا ہے اس لئے میرے دل میں ان کی عزت بہت زیادہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے مایہ ناز صحافی عمر چیمہ نے ٹوئیڑ پر لکھا کہ پاکستان میں ایک ہی مرد ہے، عاصمہ جہانگیر۔ ہمارے پدر شاہی معاشرے میں مرد ہونا دلیری کی نشانی سمجھی جاتی ہے حالانکہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اپنی سیاست میں ہی دیکھ لیں کتنے مرد ہیں جو اسٹبلشمنٹ کی سازشوں کے خلاف بات کر سکتے ہیں۔ ہاں! پیپلز پارٹی کی بات اور ہے، اس میں ابھی بھی فرحت اللہ بابر، رضا ربانی، اعتزاز احسن جیسے نادر قسم کے مرد موجود ہیں جو اپنے دل کی بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں یہ ساری باتیں ان خاتون و حضرات کی توصیف میں لکھ رہا ہوں تو حسبِ معمول آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ اوپر میں نے جو کچھ بیان کیا وہ تو میں نے طنزاً لکھا ہے، اصل حقائق تو میں نیچے بیان کرنے والا ہوں۔

چند روز پہلے اسلام آباد پریس کلب نے عاصمہ جہانگیر کو ”میٹ دی پریس“ کے عنوان سے مدعو کیا اور جو کچھ انہوں نے وہاں ارشاد کیا وہ ”برداشت سے باہر“ تھا۔ سونے پر سہاگہ انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں جا کر لگا دیا۔ مثلاً کہنے لگیں کہ نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے پر اسٹبلشمنٹ کی چھاپ ہے، گویا فیصلے پر اسٹبلشمنٹ کی چھاپ ہونا کوئی بُری بات ہے۔ دنیا بھر کی روشن جمہوریتوں میں عدالتی فیصلوں پر اسٹبلشمنٹ کی چھاپ ہوتی ہے۔ ہٹلر کا جرمنی، مسولینی کا اٹلی، سوہارتو کا انڈونیشیا، پرانا ترکی، فوجی جنتا کے تھائی لینڈ اور برما، سب میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ اور پھر ہمارا اپنا روشن ماضی بھی تو اس کا گواہ ہے۔ جسٹس منیر کا نظریہ ضرورت والا فیصلہ، نصرت بھٹو کیس، مولوی مشتاق اور نسیم حسن شاہ کا بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ، پرویز مشرف کی آئین شکن بغاوت کو حلال قرار دینے والا جسٹس ارشاد حسن خان کے زیر صدارت بارہ رکنی بنچ کا متفقہ فیصلہ جس میں جسٹس افتخار چوہدری بھی شامل تھے، یہی فیصلے دراصل جمہوریت اور آئین و قانون کی بالا دستی کے ضامن رہے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  جون ایلیا کی شخصیت اور مریضانہ خود پسندی

اسی لئے یہ فیصلے سوڈان، زمبابوے، روانڈا، ٹوگو، صومالیہ جیسے عظیم ممالک کی قانون کی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر سے معذرت کے ساتھ، اگر اسٹبلشمنٹ کی چھاپ والے یہ فیصلے نہ ہوتے تو آج پاکستان ایک جمہوری ملک نہ ہوتا جہاں سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی ملک کا منتخب وزیر اعظم اور اس کیکابینہ بناتی ہے بلکہ یہاں پردے کے پیچھے سے حکومت کرنے والے جرنیلوں کا راج ہوتا۔ اس آزادانہ فیصلے کی کامیابی کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ امریکہ، برطانیہ، مغربی یورپ جیسی بدترین آمریتوں کا غلام میڈیا ہماری اسٹبلشمنٹ اور آزاد عدلیہ پر متفقہ طور پر تنقید کر رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز، فارن پالیسی، فوربز، گارڈین، وال سٹریٹ جرنل، انڈیپنڈنٹ، دی بیسٹ، بلوم برگ، آپ اس طرح کا کوئی بھی بکاؤ اخبار یا جریدہ اٹھا کر دیکھ لیں، سب لٹھ اٹھا کر پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے مزید ارشاد کیا کہ اصل مافیا کے خلاف کونسا فیصلہ دیا سپریم کورٹ نے کبھی۔ بہت سے فیصلے ہیں۔ مثلا ”لاپتہ افراد“ کا کیس دیکھ لیں۔ ہزاروں گناہ گار شہری جنہیں معلوم ہے کہ آپ جیسی موم بتی مافیا سے تعلق رکھنے والی بنیادی انسانی حقوق کی ٹھیکیداروں کو بغیر قانونی کارروائی کے لوگوں کو اٹھائے جانے پر بڑی تکلیف ہوتی ہے، سو کئی کئی سالوں سے خود کو لاپتہ کیے بیٹھے ہیں اور اپنے گھر والوں کو سڑکوں پر احتجاج کے لئے بٹھا دیتے ہیں، کئی ایک تو اپنی تشدد زدہ لاشیں بھی سڑکوں پر پھنکوا دیتے ہیں، کس لئے؟ تاکہ سپریم کورٹ سے ہماری ایجنسیوں کے خلاف فیصلہ آ جائے اور وہ بدنام ہوں۔ عاصمہ کہتی ہیں کہ لاپتہ افراد کیس میں تین چار سو پیشیاں بھگت چکیں، کہاں ہے فیصلہ؟ حد ہو گئی اتنی بڑی وکیل ہیں اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتیں کہ فیصلہ نہ آنا بھی تو ایک فیصلہ ہوتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے ایک اور سوال اٹھا دیا کہ ڈیفنس بجٹ پر پارلیمان میں کیوں بحث نہیں ہوتی؟ ہم کوئی امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی جیسی بے راہ رو فرنگیوں کی آمریتیں تھوڑی ہیں کہ ہر بڑی سی بڑی بات پر پارلیمان میں بحث کرا دیں۔ میڈم بتائیں کہ دنیا کی عظیم ترین جمہوریتوں مثلاً سوڈان، زمبابوے، تھائی لینڈ، برما، روانڈا میں دفاعی بجٹ پر بحث ہوتی ہے؟ آج یہ دفاعی بجٹ پر بحث کی بات کر رہی ہیں، کل پچھلے سولہ سالوں میں امریکہ سے ملنے والی تقریبا 30 ارب ڈالر کی فوجی امداد کے آڈٹ کا مطالبہ کریں گی، پرسوں پچھلے ستر سالوں سے ملنے والی امریکی و چینی فوجی امداد کے آڈٹ کا مطالبہ کریں گی، پھر فوجی فرٹیلائزر، فوجی سیمنٹ، عسکری بنک، عسکری انشورنس، ڈیفنس، بحریہ، فضایہ ہاؤسنگ سوسائیٹیز جیسے قومی سلامتی کے اہم معاشی منصوبوں کے آڈٹ اور ٹیکس ادائیگیوں کے متعلق نا مناسب سوالات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اس طرح جمہوریتں چلتی ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  معاملہ روز مرہ کے شہری شعور کا ہے

جس شاخ پر بیٹھی ہیں اسے تو نہیں کاٹنا چاہیے۔ فرماتی ہیں کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کی تقرری، ترقی اور احتساب کا نظام ہونا چاہیے۔ ایک ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسے چاہیں ہائیکورٹ کے جج کے لئے نامزد کردیں، جوڈیشل کمیشن جس کی چاہے تقرری کر دے، جن معزز جج صاحب کو چاہے سپریم کورٹ میں لے آئے اور سپریم جوڈیشل کونسل جیسی دنیا کی فعال ترین کونسل جو پچھلے چھیالیس سالوں سے دن رات اعلی عدلیہ کے احتساب میں مصروفِ عمل ہے، اور نظام کیا ہوتا ہے؟ اگر یہ چاہتی ہیں کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کے تقرر کا کوئی میرٹ پر مبنی معروضی نظام ہو جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ کس وکیل کا جج بنانے کے لئے نام کیوں بھیجا گیا اور کس کا کیوں نہیں بھیجا گیا تو ان سے معذرت ہی کی جا سکتی ہے، سول جج اور اعلی عدلیہ کے جج کی تقرری میں فرق ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر وہ یہ چاہتی ہیں کہ ججوں کا احتساب امریکہ اور برطانیہ جیسی آمریتوں کی طرح پارلیمان کرے تو یہ ہمارے جیسی عظیم جمہوریت میں نہیں ہو سکتا۔ اور اگر ان کا اشارہ اس طرف ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنی چھیالیس سالہ کارکردگی کی رپورٹ پارلیمان کو جمع کرائے یا ایسی رپورٹیں ہر سال جمع کرانی چاہئیں تو یہ ”اختیارات کی تقسیم“ اور ”چیک اور بیلنس“ جیسے جمہوری تصور کی خلاف ورزی ہو گی۔

سو عاصمہ بی بی مہربانی کریں اور اسٹبلشمنٹ جیسے یہ عظیم جمہوریت چلا رہی ہے اس پر گزارا کریں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔