مسیحی شہری رواں برس بھی ایذا رسانی کا شکار


پاکستانی سماج میں مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ گذشتہ 70 برسوں سے یہ تماشہ تقریباً معمول کا کھیل بن چکا ہے۔ سرکار کے اشتہارات ہوں یا نصابِ تعلیم کے اوراق، قانون کی کتابیں ہوں یا مسیحیوں کا خون، نوجوان مسیحی بچیوں کا اغوا اور جبراً تبدیلیِ مذہب کا معاملہ ہو یا انصاف کی خاطر ننگے سر ننگے پاوں انصاف کے ایوانوں کے پھیرے، قانون ساز اداروں کی کارکردگی ہو یا سیاست کاروں کی کارستانیاں، مقامِ ملازمت پر تعصبات کی بُو ہو یا سماج کے رویے میں سرایت شدہ نفرت اور بے گانگی، متنازع قوانین کا بے دریغ غلط استعمال ہو یا اپنا ہی قانون، اپنی ہی پنچایت اور اپنا ہی نظامِ عدالت۔مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے “دوسرے درجے” کے ان شہریوں کو سالِ رواں کے پہلے چھ ماہ میں کہیں چین اور سکون نصیب نہیں ہوا۔ زیرِ نظر سطور میں وطنِ عزیز میں بسنے والے ایک مذہبی اقلیتی طبقے (مسیحیوں) پر بیتے چھ ماہ (جنوری تا جون 2017) کا سرسری جائزہ پیشِ خدمت ہے۔ تحریر کا ماخذ اخباری رپوٹس ہیں۔ اُمیدِ واثق ہے کہ قاری کو ان ٹیڑی ترچھی لکیروں سے باقی ماندہ طبقات کی حالتِ زار کا اندازہ لگانے میں چنداں مشکل نہ ہو گی۔

ریاستی سطح پر دوسرے درجے کے شہری قرار دیئے جانے والے ان انسان نما بتوں پر اعلیٰ ریاستی عہدے حرام قرار دیے جا چکے ہیں، چونکہ قانون سازی کا اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہونا لازمی قرار دیا جا چکا ہے لہٰذا ایسی صورتحال میں اس کثیر المذاہب معاشرے میں مذہبی اور سماجی ہم آہنگی اور روادار معاشرے کا قیام “جُوئے شِیر لانے” کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔ اکثریتی طبقے کو حاصل ایسی ہی قانونی اور آئینی مراعات نے معاشرے میں عدم مساوات، عدم برداشت اور عدم رواداری کو ہوا دے رکھی ہے۔

تکفیر کے قوانین مسلسل متنازع چلے آ رہے ہیں، ان قوانین کی منسوخی یا ترامیم اکثر زیرِ بحث رہیں مگر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔ ایک اندازے کے مطابق 1985 کہ جب سے یہ قوانین متعارف کروائے گئے اب تک تقریبا ایک ہزار سے زائد افراد تکفیری قوانین کی زد میں آچکے ہیں اور اس ضمن میں متاثرین کی دوسری بڑی تعداد مسیحیوں کی ہی ہے۔ حال ہی میں لاہور میں سائیکل مرمت کرنے والے اشرف نامی ایک مسیحی نوجوان پر یہی الزام لگا کر اُسے پابندِ سلاسل کر دیا ۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق اشراف مسیح کا ایک مسلم شخص کے ساتھ 35 سے 40 روپوں کے لین دین پر تنازع ہوا تھا کہ جسے بعد میں توہینِ مذہب میں شمار کر لیا گیا۔

گزشتہ چھ ماہ میں اشرف مسیح تکفیر کے ان قوانین کا واحد شکار نہیں تھا، بلکہ گوجرانوالہ کا 70 سالہ مختار مسیح اور لاہور کا پاسٹر بابو شہباز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں انہیں قوانین کے تحت 2012 میں گرفتار کئے گئے ظفر بھٹی کو مئی 2017 میں راولپنڈی کی مقامی عدالت میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ دیگر سینکڑوں متاثرین بھی سالہاسال کی طرح ان چھ ماہ میں بھی انصاف کے حصول کے لئے انتظار کی گھڑیاں گنتے رہے۔

مذہب کی تفریق کی بنیاد پر قتل اس شماہی میں بھی نہ تھم سکا بلکہ ایذا رسانیوں کی فہرست میں یہ دوسرا اہم نقطہ قرار پایا ۔ سال کے ابتدائی چھ ماہ میں (ذرائع ابلاغ کے مطابق) شیخوپورہ، سیالکوٹ اور پتوکی ، خانیوال، عمر کوٹ اور کراچی کے چھ خاندانوں کے چراغ گُل کئے گئے۔ یہ تمام افراد مذہبی نفرت کا نشانہ بنے۔ مئی کے مہینے میں شیخو پورہ کے نعمان مسیح کو فقط اس بنا پر قتل کر دیا گیا کہ اُس نے چرچ جانے کی غرض سے اتوار کے روز کسی با اثر شخصیت کے ہاں کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سیالکوٹ کے امین مسیح کو اُسی کے گھر میں اُس وقت زندہ جلا دیا گیا جب وہ نہ تو قرض لوٹانے کی سکت رکھتا تھا اور نہ ہی تبدیلی مذہب کا ارادہ۔ دیگر شہروں کے واقعات بھی دل دُکھانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

حالات و واقعات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مسیحی برادری سال کے پہلے چھ ماہ میں تعصبات کی انتہا کا شکار رہی۔ مذہبی بنیادوں پر تعصبات کے متعدد واقعات اخبارات میں رپورٹ ہوئے۔ البتہ اس حوالے سے انتہائی افسوسناک واقعہ تب سامنے آیا جب لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں مسیحی اور دیگر عقائد کے پیروکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ ڈیوٹی پر آتے ہی قرآنِ پاک کی آیات کا ورد کریں بصورتِ دیگر انہیں ڈیوٹی سے غیر حاضر تصور کیا جائے گا۔

فیصل آباد، ملتان، بنوں ، حیدر آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں سرکار ی اداروں کی جانب سے اخبارات میں نفرت اور تعصب پر مبنی ایسے اشتہارات شائع کروائے گئے جن میں واضح طور پر درج تھا کہ خاکروب کی آسامی کے لیے صرف غیر مسلم ہی درخواست جمع کر وا سکتے ہیں۔ خانیوال کے ایک ہسپتال میں ڈپٹی کمشنر ایمانی جوش میں اتنا بہہ گیا کہ ڈیوٹی پر تعینات ایک مسیحی خاکروب پر تشدد پر اُتر آیا۔ حیدر آباد کے ایک سرکاری ادارے میں حلف لیا گیا کہ کوئی اقلیتی فرد خاکروب کے علاوہ کسی اور عہدے کے لیے درخواست جمع نہیں کروائے گا۔ غرض مذہبی بنیادوں پر ایسے درجنوں واقعات رونما ہوئے جو کسی بھی ملک کو اقلیتوں کے لئے خطرناک قرار دینے کے لئے کافی ہیں۔

ملک میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں عموماً اور مسیحی برادری خصو صی طور پر ایذا رسانی اور مذہبی نفرت و تعصب کا نشانہ بنائے گئے۔ علاوہ ازیں اربابِ اختیار نے بھی ایسے واقعات کی روک تھام کرنے کی بجائے ان سےنظریں چرا نے ہی میں خیر جانی۔ وقت ثابت کر چکا ہے کہ منصوبہ ساز یا قانون ساز مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت و تعصب اور تشدد کو ہوا دینے والے عناصر کو کُچلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے شہری متعصبابہ نصابِ تعلیم و نظام، جبراً تبدیلی مذہب، جنسی و جسمانی تشدد، اغوا اور تاوان، ذرائع ابلاغ میں عدم رواداری، گرجا گھروں اور املاک پر حملوں جیسے درجنوں حوالوں سے ستائے گئے مگر کہیں سے کوئی ہمدردانہ آواز نہ آئی۔ جبراً تبدیلی مذہب پر روک لگانے کی ایک جنبش جو سندھ اسمبلی میں نظر آئی اُسے بھی وہیں کا وہیں دفن کر دیا گیا اور یوں سال 2017 کی پہلی شماہی میں مذہبی اقلیتوں کی زندگی کو پُر وقار بنانے کےلیے کوئی قانونی جستجو نہیں کی گئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا باقی ماندہ سال بھی اسی کسمپرسی میں گزر جائے گا؟ وہ تمام ایذا رسانیاں اور تعصبات جن کا تجربہ ہو چکا، کیا آئندہ ان کی روک تھام ممکن ہو گی؟ کیا 70 واں یومِ آزادی اور اس سے تین روز قبل یومِ اقلیت میں مذہبی اقلیتوں کے لیے کسی نئی صبح اور آزادی کا پیغام مل سکے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔