یومِ اقلیت : لاہور کنونشن کی قرار داد (گیارہ اگست 2017)


 لاہور کنونشن کے شرکا حکومتِ پاکستان کی جانب سے 11 اگست کو یومِ اقلیت کے طور پر منانے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔یہ اقدام قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں سے ہم آہنگ پاکستان کی تعمیر کا علامتی اظہار ہے جس کا ذکر اُنھوں نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے 11 اگست 1947 کے افتتاحی خطاب میں کیا۔

جیسے ہمارا قومی پرچم تمام مذاہب کے ساتھ بقائے باہمی کی امنگوں کی ترجمانی کرتا اور جیسے قرار داد لاہور 1940 میں یقین دہا نی کر وائی کہ اقلیتوں کے مفادات اور حقوق کا لازمی تحفظ کیا جائے گا اور اس ضمن میں معقول اور موثر انتظامات کئے جائیں گے۔ ہم شرکا کنونشن قو می امور میں فیصلہ سازی کے عمل میں اقلیتوں کی موثر نمائندگی اور قومی دھارے میں شمولیت کی ضرورت کا اعادہ کرتے ہیں۔

اس بات کا ا قرار کرتے ہوئے کہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ آئین پاکستان کا حصہ ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کچھ خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ہم اس ضمن میں مزید ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات پر زور دیتے ہیں۔

 کنونشن کے شرکا جو پاکستان میں مذہبی تنوع اور مختلف نقطہ ہائے نظر کی نمائندگی کرتے ہیں، متفقہ طور پر اعادہ کرتے ہیںکہ قائد اعظم کے خطاب میں پیغام کو قوانین اور پالیسیوں کے لیے رہنما اصول بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے قومی یومِ اقلیت کی بنیاد ڈالی جسے پاکستان مسلم لےگ (ن) کی حکومت نے جاری رکھا او ر اس اقدام کو سیاسی جماعتوں بشمول عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، پاکستان مسلم لیگ (ق) ، جمعیت علما اسلام اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل رہی۔ کنونشن کے شرکاعہد کرتے ہیں کہ وہ پرُامن بقائے باہمی کے فروغ اور حقوق کے احترام کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ کام کریں گے۔

 شرکا اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو درپیش چیلنجز بالخصوص مذہبی و سماجی عدم رواداری،امتیازی سلوک، اقربا پروری، بدعنوانی اور قانون کی حکمرانی کے احترام کا فقدان وغیرہ سے نبردآزما ہونے کے لیے باہمی روابط کو فروغ دیں گے اور مل کر کام کریں گے۔ ہم (شرکا) وفاقی و صوبائی حکومتوں کے متعلقہ اداروں سے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

اسی بارے میں: ۔  جنونی قوم اور بھلا دیے جانے والے نوٹس!

٭ قائد اعظم کے 11 اگست 1947 کے خطاب کو قانونی حیثیت دینے کے لیے آئین پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔

٭ آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 ( حقِ مذہبی آزادی) اور آرٹیکل 25 (حقِ مساوات) کے موثر نفاذ کے لیے عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو جرم قرار دینے کے لیے قانون متعارف کروایا جائے جس میں امتیازی سلوک کی تعریف اور سزا کا تعین بھی کیا جائے۔

٭ آئین پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق سے متصادم امتیازی آرٹیکلز میں ترامیم کی جائیں تا کہ شہریوں میں حقوق کی مساوات سے متعلق غیر منطقی، انسانی حقوق سے غیر موافق تصورات اور تفہیم کو دستورِ پاکستان سے ہٹایا جا سکے۔

٭ 19جون 2014 کے سپریم کورٹ کے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق احکامات کی تعمیل کی جائے اس ضمن میں بلاتاخیر درج ذیل اقدامات کئے جائیں۔

 ٭ مذہبی و سماجی رواداری کے فروغ کے لیے پالیسی اور لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔

٭ تعلیمی پالیسی، نصاب ِ تعلیم اور درسی کُتب میں عقیدے کی بنیاد پر تفریق ، تعصبات اور امتیازات ختم کرنے کے لیے نظر ثانی کی جائے، تاکہ تعلیمی نظام پاک وطن میںہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کا ذریعہ بنے۔

 ٭ مذہبی اقلیتوں کے لیے مختص ملازمت کوٹہ کو موثر بنانے کے لیے متعلقہ پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے اور بہتر نفاذکے لیے ایک انتظامی ادارہ بذریعہ قانون سازی تشکیل دیا جائے جس کے پاس مالی وسائل اور اختیارات کے علاوہ شکایات کے ازالہ کا نظام موجود ہو۔

٭ مندرجہ بالا عدالتی حکم کے مطابق ایک بااختیار قومی کونسل برائے اقلیت کی تشکیل عمل میں لائی جائے جو اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال کا جائزہ اور نگرانی کرے ، پالیسیوں کا جائزہ لے نیز قوانین اور پالیسیوں میں بہتری کے لیے تجاویز پیش کرے۔

٭ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو عدالت میں حکومت کی جانب سے بروقت رپورٹنگ اور سرکاری اداروں کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات کی نگرانی کریں۔

اسی بارے میں: ۔  ’’پنجاب سپیڈ ‘‘ کی ڈھینچوں ڈھینچوں اور کٹ کٹ کٹاک

٭ مسیحی عائلی قوانین سے متعلق ترمیمی بل کو انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق بنایا اور جلد از جلد پاس کیا جائے نیز ایک یکساں (کامن) ازدواجی ضابطہ قانون بھی بنایا جائے تاکہ دیگر مذہبی اقلیتوں بالخصوص بہائی ، پارسی، کیلاش کی ازدواجی زندگی کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔

٭ اقلیتی طالبعلموں کے لیے اُن کے متعلقہ مذہب کی تعلیم کا انتظام کیا جائے نیز اقلیتی طالب علموں کی اعلی تعلیم کے لیے کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر کوٹہ متعارف کروایا جائے۔

٭ سانحہ گوجرہ 2009 کی عدالتی انکوائری کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے با اختیار کمیٹی تشکیل دی جائے جو جلد ازجلد ان سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

نوٹ : یہ لاہور کنونشن 10 اگست 2017 کو ادارہ برائے سماجی انصاف، پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاﺅنڈےشن، قومی کمےشن برائے امن و انصاف، پیس فل پاکستان، سیسل اینڈ آئرس چوہدری فاﺅنڈےشن اور بائٹس فار آل کے اشتراک سے قومی یومِ اقلیت کی مناسبت سے منعقد ہوا ۔

مقررین :

ڈاکٹر فاروق ستار، رکن قومی اسمبلی، صدر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان

قمر الزماں کائرہ، رکن قومی اسمبلی، صدرپاکستان پیپلز پارٹی پنجاب

آسیہ ناصر، رکن قومی اسمبلی

جسٹس ناصرہ جاوید اقبال (ر)

 پیٹر جیکب،ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ادارہ برائے سماجی انصاف

رومانہ بشیر،ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن

امتیاز عالم، سینئر تجزیہ کار

وجاہت مسعود، چئیر پرسن، ادارہ برائے سماجی انصاف

بشپ عرفان جمیل

فادر بونی مینڈس

طارق گل، رکن پنجاب اسمبلی،پارلیمانی سیکرٹری، وزارت برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور

کانجی رام، رکن پنجاب اسمبلی، کوآرڈینیٹر مینارٹیز اےڈوائزری کونسل

شہنیلا روت، رکن پنجاب اسمبلی، پاکستان تحریک ِ انصاف

 کشور اعوان ، رکن قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، پنجاب

ڈاکٹر یعقوب بنگش


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نعمانہ سلیمان کی دیگر تحریریں
نعمانہ سلیمان کی دیگر تحریریں