ہمارے خواب بکھر رہے ہیں اب ہم کیا کریں


اس طالب سے شروع کروں جو اپنی آئندہ زندگی کے خواب بن رہا تھا ۔ اسے نئے جہادی حملے میں غنیمت ملنی تھی ۔ چار پانچ ہزار کی اس غنیمت سے اسے اپنے سہانے مستقبل کی تعمیر کرتے سنا تھا۔ اسے یہ بتانے کی جرات نہیں کی تھی کہ اس کے امیر صاحب کے بارے میں کیا مشہور ہے۔ یہی کہ وہ ایک چیک دے کر ہمارا ایک شہر خرید سکتے ہیں۔

جہاد جو کبھی ہمیں بھی عزیز تھا اس کی کہانی بہت بعد میں اک انسپکٹر نے یوں سنائی۔ ہم پوڈر کے اسمگلروں کو نہیں چھوڑتے۔ بس کبھی کبھی قومی مفاد میں ایسا کرنا بھی پڑتا۔ افغان جہاد آخر ہیروئین کی اسمگلنگ سے ہی جا جڑتا ہے۔ جہاد جو ایک مقدس خواب کی صورت طلوع ہوا تھا۔ اس کی حقیقت چھپائے نہیں چھپتی حالانکہ لوگ اسے اپنے خون سے دھو رہے ہیں۔

ہے تو لیڈر لیکن میرا پسندیدہ سیاسی کارکن ہے۔ میرا ہی نہیں آپ کا بھی کرپشن کی کہانی کو پہلی بار اسی کے ہاتھوں سے حلال ہوتے دیکھا۔ اس نے صاف اقرار کیا تھا کہ یار ترقیاتی کاموں میں کمیشن تو میں بھی لیتا ہوں۔ اس سے بنتا بھی کچھ نہیں منہ ہی کالا ہوتا ہے۔ بس اتنا ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے کاموں کے لیے آتے ہیں ان کی چائے کا بندوبست ہو جاتا ہے۔ اس سے بھی پہلے اپنے اک ہکلے دوست سے بلیو ایریا کے اس پلازے کا قصہ سنتے رہتے تھے جو ایک اصلی لیڈر نے اپنے پیسے باہر ٹرانسفر کرنے کے لیے دیا تھا۔ ایمانداری کے نیک ہونے کے خواب یونہی ملاقاتوں میں بکھرتے رہے۔

بڑے پیارے دوست ہیں جو سارے اکٹھے پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے تھے۔ اس مشاورتی محفل میں شریک ہوا تھا۔ بہت لطیفے سنائے تھے نفع نقصان کے حساب لگائے تھے۔ اچھے مستقبل کے خواب دیکھے تھے۔ دوستوں کو پر عزم رہنے کا کہہ کر اٹھ آیا تھا۔ وہ سب اپنی زندگی مزے سے گزار رہے تھے ایک یقینی اچھے مستقبل کے ساتھ ۔ ان کا حال احوال نہیں لیا کبھی بس اتنا پتہ ہے کہ جو ان میں سب سے قریبی تھا۔ جو پیسوں میں سب سے کمزور تھا وہ اپنے خواب پر کتنے کچھ لٹا اور پھر اکیلا بیٹھا طعنے سنا کرتا تھا۔ خواب بکھرنے لگا تھا لیکن قائم تھا۔

پیپلز پارٹی کو اپنے عروج پر ضیا کا مارشل لا سہتے دیکھا۔ یہ غریب جیالوں کو جماعت تھی خواتین کی پہلی اور آخری پسند بھی یہی جماعت تھی۔ پھر اس کی حکومت آئی تو مار کھانے والے جیالے نشوں میں لت ڈولتے اپنے گھروں کا راستہ ڈھونڈتے بھی جاتے دیکھے۔ اتنی سمجھ ہی نہ تھی کہ جان لیتے کہ خواب بکھر رہا تھا۔ امید باقی رہی تھی بلکہ بھڑک اٹھی تھی ۔ جب بی بی شہید پاکستان واپس آئیں۔ انہوں نے خوف توڑ دیا تھا بندوقوں بموں کا ایک بار پھر۔ لوگ باہر نکلے تھے۔ انہیں روڈ پر مار کر ہمارا خواب بکھیر دیا گیا۔ سندھ سے ایک تعلق اپنا بھی ہے۔ بے نظیر شہید سے جڑی محراب پور کی بھی ایک کہانی جو کبھی سنانی ہے۔ ہم کیا کچھ کھو بیٹھے تھے کبھی یہ بھی جانیں گے ہم سب۔

ایک کہانی عائشہ گلالئے کی بھی ہے۔ وہ نہیں جو آپ سننا چاہتے ہیں۔ یہ وہ ہے جسے ہم دیکھ ہی نہیں رہی۔ ہمیں اس کہانی کو سمجھنے کے لیے بھی ایک لمبا سفر کرنا ہے۔ ایک قبائلی خاتون کی کہانی کو سوچنا ہے۔ جو روایتی معاشرے سے غیر روایتی انداز میں سامنے آتی ہے۔ ہم سب یہ جانتے ہوئے کہ زندگی میں رنگ اور خوبصورتی کا تعلق خواتین سے ہی ہے اس خاتون کو حسن کے اپنے پیمانوں پر ہی پرکھتے رہے ہیں یہ جانے بغیر کہ اس علاقے کو خدا نے جس حسن سے نوازا ہے اس کی یہ عام سی جھلک ہے۔ جبکہ وہ بہت ہی عام سے اپنے علاقائی خدوخال رکھتی ہے۔ ایسے میں جب ہماری یوتھ اپنی ساری امیدوں کا مرکز کپتان کو بنا لیتی ہے۔ گلالئی بھی اسی پارٹی سے اپنا سیاسی مستقبل جوڑ لیتی ہے۔ اس سب سے زیادہ یہ تصور خوبصورت ہے کہ ہمارے روایتی علاقوں سے خواتین عملی سیاست مین حصہ لے کر اپنے علاقوں کو نرمی سے تبدیل کرنے لگی ہیں۔

بم دھماکے ہوتے تھے تو پی ٹی آئی حکومت کا کوئی بہادر اس قابل نہیں تھا کہ مذمت کرتا زخمیوں کی عیادت کرتا۔ تب عائشہ گلالئی کو ہم سامنے آتا دیکھتے ہیں جرات اور اعتماد کے ساتھ ۔ ہم نے ایک بہت فطری روایتی انسانی جذبوں سے جڑی کہانی میں سکینڈل ڈھونڈ لیا ہے۔ کسی نے یہ سوچا تک نہیں کہ قبائلی علاقوں سے خواتین کا آگے بڑھ کر سیاست میں آنے کا خواب بکھیر بیٹھے ہیں۔ کوئی اس حوالے سے نہیں سوچ رہا کہ عائشہ گلالئی کا بھی کوئی خواب تھا جو بکھر گیا ہے۔ یہ خواب اپنی پارٹی سے تبدیلی کے نام سے جڑا تھا۔ ہم نے اس مسئلے میں ٹھرک ڈھونڈی ہے۔ پی ٹی آئی کے اندرونی نظام کو اس پر توجہ دلانے میں ناکام رہے ہیں ۔ وہ نظام ازخود بھی حرکت میں نہیں آیا۔ ہمارا مشترکہ نقصان ہوا ہے ہم سوچنے میں ناکام رہے ہیں کہ یہ ہماری وہ پارٹی ہے جس میں لوگ اپنی فیملی کے ساتھ پہنچتے ہیں ۔

عدلیہ بحالی کی ایک مضبوط تحریک برپا کرنے کے بعد۔ ہم قانون انصاف کا خواب بھی بکھیرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارا ایک مقبول لیڈر نااہل ہوا ہے۔ اس نے اپنے ووٹر کو آواز دے دی ہے۔ عدالت پر واضح طور پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔ ہمیں دستیاب دوسرا مقبول ترین لیڈر اب سرخ دائرے میں ہے۔ یہ ایسے منحوس دائرے ہیں کہ جن سے ہم ستر سال میں نکل ہی نہیں پا رہے۔ ہمارے لیڈر بوڑھے ہو گئے ان کی لڑائیاں جوان ہیں۔ طاقت کے سارے مراکز اب تک اپنے اپنے اختیار کی لکیر تک کی نشاندہی نہیں کر پائے۔ استحکام ترقی کے کہ ہمارے خواب بکھر رہے ہیں، دور دور تک ہمیں بتانے والا کوئی نہیں کہ ہم کدھر جائیں ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ آپ کو کبھی پختون لگوں گا تو کبھی پنجابی۔ کہانیاں بس ایسی ہی ہیں کہ سمجھ آئیں یا نہ آئیں مگر شاید پسند ضرور آ جائیں۔

wisi has 236 posts and counting.See all posts by wisi