سانحہ بابڑہ اور پختونوں کا پاگل پن


خان عبدالغفار خان حضرت باچا خان نتیجے پر پہنچ گئے۔ پختونوں کے دو مسائل ہیں۔ تعلیم سے بے بہرہ ہیں اور پیشوائیت کے رحم وکرم پر ہیں۔ چنانچہ لڑنے مرنے پہ کمربستہ رہتے ہیں۔ اپنے زعم میں یہ غیرت مند ہیں اور اپنے ہی زعم میں کعبے کے پاسبان۔ غیرت مندی کو اغیار نے بطور ہتھیار استعمال کیا اور کعبے کی پاسبانی پیشواؤں کے کام آئی۔ مدت سے اپنے ہی خلاف برسرپیکار چلے آرہے ہیں۔ باچا خان نے غور وفکر کرنے کی تلقین کی۔ ہوش مندی کا تقاضا کیا۔ مشتعل پختون کے ہاتھ سے اینٹ لے کر اتمان زئی کے سینے پر رکھ دی۔ اینٹ پہ اینٹ رکھتے چلے گئے اور پہلا آزاد مدرسہ قائم ہوگیا۔ طلبہ آتے گئے قافلہ بنتا گیا۔ چراغ سے ایسے چراغ جلے کہ گاؤں گاؤں علم توتلی آواز میں گونجنے لگا۔

سرسید احمد خان نے تعلیم کا چراغ کیسے روشن کیا، داستان پڑھیے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ خدائی خدمت گاروں نے علم کے چراغ کیسے روشن کیے، داستان پڑھیے تو روح لرزجاتی ہے۔ معاشرہ غور وفکر پہ آمادہ ہو تو چراغ تیل مانگتے ہیں۔ معاشرے نے تنگ نظری کو ثقافت سمجھ رکھا ہو تو چراغ جگر کا خون مانتے ہیں۔ کانگریس نے سیاسی تحریک کے لیے جو قربانیاں دی تھیں، وہ اس قربانیوں کا عشر عشیر نہیں ہیں جو خدائی خدمت گاروں نے فلاحی تحریک کے لیے دی تھی۔ عدمِ تشدد کا فلسفہ یکساں ہوتا ہے۔ مگر دلی اور پشاور کے عدمِ تشدد میں وہی فرق ہوتا ہے جو گاندھی جی کی شریک سفر بکری کے دودھ اور باچاخان کی زنبیل میں رکھے پیاز میں ہوتا ہے۔ تعلیم کے اٹھنے والی تحریکوں میں ادارے قائم ہوئے تو ہوگئے۔ خدائی خدمت گار تحریک میں ہر ڈیڑھ سال بعد نئے سرے سے سفر شروع کرنا پڑتا ہے۔ نذر آتش کرنا تو سنا اور پڑھا ہوگا، مگر کم ہی کبھی سنا ہو گا کہ انیس سو تیس کے عشرے میں برطانوی طیارے گاہے گاہے اس لیے بمباری کرتے ہیں کہ آزاد اسکول بھسم کردیے جائیں۔ جلانا اور بندشیں عائد کرنا اس کے سوا ہے۔ باچا خان پورے پانچ ہزار خدائی خدمت گاروں کے ساتھ پکڑے جاتے ہیں۔ اساتذہ پابند سلاسل ہیں اور طلبا گھروں میں پڑھ رہے ہیں۔ جیلیں تنگ پڑچکی ہیں اور دریوزہ گر خوانین کے حجرے جیل قرار دے دیے گئے ہیں۔ تین تین ماہ پورے گاؤں کا محاصرہ اس لیے ہورہا ہے کہ خدائی خدمت گار اپنے بچوں کو پڑھاتے کیوں ہیں۔ برطانوی سرکار اس لیے مشتعل ہے کہ تھانہ کچہریوں میں کیسز کیوں نہیں آرہے۔ ظلم پر ظلم اس لیے ڈھایا جارہا ہے کہ آخر خدائی خدمت گار پتھر مار کر یا گولی چلا کر ہمیں ہمارے مظالم کا جواز کیوں مہیا نہیں کرتے۔ شعور و آگہی کی ادا کی جانے والی یہ قیمت میری رائے میں اپنی مثال آپ ہے۔

باچا خان رہا ہوتے ہیں تو خدائی خدمت گار خبردیتے ہیں کہ جو بات آپ نے ہمیں تعلیم کی تھی اس سے ہم آگے بڑھے ہیں، پیچھے نہیں ہٹے۔ گھروں میں درس گاہیں لگائی جاچکی ہیں۔ اساتذہ تعینات ہیں اور ہم اپنا پیٹ کاٹ کر انہیں تنخواہیں دے رہے ہیں۔ باچا خان کے سخت جان سینے میں کسی مشفق ماں کا دل دھڑکتا تھا۔ آنکھیں چھلک پڑیں۔ پختونو! میں نے خواب دیکھا تھا کہ پختون ایک دن ہوشمندی سے کام لیں گے، مگر یہ تصور نہیں کیا تھا کہ اس خواب کی تعبیر مجھے جیتے جی مل جائے گی۔ تمہارے دشمن کی شکست اسی رویے میں ہے جسے تم نے اختیار کرلیا ہے۔ صبر، تعلیم اور خدمت گزاری کا یہی جذبہ رہا تو تم دیکھو گے دشمن کے قدم اکھڑ جائیں گے۔ ایک مشتعل پختون نے لرزتے برستے کہا، ہمارے گاؤں کے مدرسے کو فرنگی نے آگ لگا دی ہے، ہم اور کتنا صبر کریں، اب ہمارے ہاتھ کھول دیجیے کہ ہم ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ باچا خان نے سرخ پوش کو گلے لگا کر کہا، صبر میرے بیٹے صبر، یہ آگ فرنگیوں نے مدرسے میں نہیں لگائی، بیکنگھم پیلس میں لگائی ہے۔ لگی رہنے دو یہ آگ۔ غصہ تھوک دو۔ یونہی برہم رہے تو یہ آگ بجھ جائے گی۔ کیوں بجھانا چاہتے ہو یہ آگ؟ تمہارا صبر ہی اس آگ کے لیے ایندھن ہے۔ ایندھن چھڑکتے رہو کہ دشمن کے مورچوں میں یہ آگ لگی رہے۔

اسی بارے میں: ۔  بچوں سے جنسی بد سلوکی کوئی مذاق نہیں

باچا خان اس حال میں دوبارہ گرفتار ہوئے کہ مدرسے کے گراونڈ میں پودا لگارہے تھے۔ ہاتھ جھاڑ کے چل پڑے۔ گاؤں کے گاؤں مشتعل ہوگئے۔ خدائی خدمت گاروں نے جیل کا محاصرہ کرلیا۔ نعرۃ تکبیر کی گونج باچا خان کی سماعت پرپڑی تو گورے افسر سے کہا، دومنٹ کے لیے سرخ پوشوں سے مخاطب ہونے دیجیے۔ کیوں؟ انہیں گھر بھیجنا چاہتا ہوں۔ باچا خان نے جیل کی چھت سے پختونوں کو پکارا! میرے پختونو! تمہارے پاس اس جنگ میں ناقابل شکست ہتھیار دو ہی ہیں۔ صبر و استقامت۔ ! میری عرض ہے کہ گھروں کو لوٹ جاؤ۔ خدمت کرو، تعلیم جاری رکھو، جرگے لے کر جاؤ اور پختونوں کی سماجت کرو کہ اپنی دشمنیاں ختم کردو۔ پختون لوٹ آئے۔ مہینوں محاصرے ہوئے، مالیہ نہ دے سکنے پر مویشی ضبط ہوئے، مویشی نہ ملے تو گھر نیلام ہوئے، بھوک و افلاس مسلط ہوا، دوسرے گاؤں سے آنے والی اشیائے خورد و نوش ضبط ہوئیں، امداد بہم پہنچانے والوں کو پھانسیاں ہوئیں، روپوشی کی زندگی نصیب بنی، فصلیں تباہ ہوئیں، مویشی پیاسے مرے، ایک ایک اجتماع میں چالیس چالیس رضاکار مارے گئے، بمباریاں ہوتی رہیں، اسکول اور دفاتر خاکستر ہوئے، زخمی نوجوانوں گندے پانی کے ٹھنڈے تالابوں میں پھینکے گئے، ایک گاؤں مکمل اور ایک آدھا نذر آتش ہوا، سب ہوا مگر حلم اور علم ہاتھوں میں ہاتھ دیے برابر چلتے رہے۔ خمار باہ بنکوی کے خیال کی طرح

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے، ہوا چل رہی ہے

پاکستان وجود میں آیا اور صوبہ سرحد اس کا حصہ قرار پایا۔ صوبہ سرحد کی شمولیت مستقل تاریخ ہے۔ خدائی خدمت گار جو تقسیم کے حق میں نہ تھے، آخر کو تسلیم ہوگئے۔ جو وعدے خدمت گاروں سے ہوئے، وفا نہ ہوئے۔ انیس سو سینتالیس اور اڑتالیس کا سن عجیب تھا۔ آزادی کا خواب دیکھنے والے اپنے سائے سے گھبرائے ہوئے تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی جیب میں سکے کھنک رہے تھے۔ پتہ چلا کہ وہ کھوٹے تھے۔ اشرافیہ نے خان عبدالقیوم خان کو آگے کیا۔ اصرار تھا کہ پختون انہیں باچا خان کا نعم البدل مان لیں۔ مگر وہ جانتے نہیں تھے کہ نوکری اور قیادت میں ایک فرق تو بہرحال ہوتا ہے۔ گورنر نے اوپر سے آئے ہوئے حکم پر خدائی خدمت گاروں کی صوبائی حکومت برطرف کردی۔ ڈاکٹر خان صاحب وزرات اعلی کے منصب سے اترے اور خان عبدالقیوم خان متکمن ہوگئے۔ خان عبدالغفار خان حضرت باچا خان پابند سلاسل ہوگئے۔ یہ انیس سو اڑتالیس کا سن ہے۔ خدائی خدمت گار سوچ رہے ہیں کہ دنیا بدل گئی مگر ستم کے یہ سلسلے نہ بدلے۔ کل کی دنیا میں تو ایسا بھی ہوا تھا کہ گورا سرکار نے فائر کا حکم دیا تو گڑھوال رائفل کے سپاہیوں نے نہتے سرخ پوشوں پر گولی چلانے سے انکار کردیا۔ آج کی دنیا میں کچھ ایسا ہے کہ ہمارے غم بڑھانے کو ہمارے ہی غمگسار چلے آتے ہیں۔ آج بھی وہی جیلیں وہی بھیڑیاں؟ خدمت گار اپنے بابا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے بابڑہ پہنچ گئے۔ مائیں اپنے شیر خوار بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔ خان عبدالقیوم خان نے حکم دیا، فائر! بندوقوں نے آتش و آہن کی برسات کردی۔ دیکھتے دیکھتے چھ سو خدائی خدمت گار شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوگئے۔ چودہ اگست جیسی تاروں بھری رات کے پہلو میں بارہ اگست کی لہو لہو دوپہر خاموشی سے سوگئی۔

اسی بارے میں: ۔  بیوی کے ریپ کا شرعی جواز اور معصوم مفتی

میرے دیس کے نصاب میں باچا خان غدار ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ پینتس برس سامراج کی جیلیں کاٹ کر جس نے برطانوی افواج کے پاوں اکھیڑ دیے تھے، کیا اس کے لیے پاکستان سے ٹکرا جانے یا اپنے برتن الگ کردینے کے لیے بارہ اگست انیس سو اڑتالیس سے بہتر کوئی دن تھا؟ حب الوطنی کی جعلی اسناد بنانے والی فیکٹریوں کے مالکان بابا کی سند ضبط کیے بیٹھے ہیں۔ اس بابا کی سند، جس نے جیل سے پیغام بھیجا

”پختونو! دنیا بہت بدل گئی ہے مگر برداشت کا فلسفہ نہیں بدلا۔ اپنی لاشیں رات کے اندھیرے میں خاموشی سے دفنا دو۔ اگرغیرت مند پختون ہو اور میرے بیٹے ہو تو گولی کا جواب صبر سے دینا“۔ پختون تو دل کا پاگل ہے، اس نے بابا کی مان لی۔ بارہ اگست کیا ہے؟ بس اسی پاگل پن کا ایک استعارہ ہے۔

اس کا شکوہ تو نہیں ہے نہ ملے تم ہم سے
رنج اس کا ہے کہ تم نے ہمیں جانا کیسا

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔