قوم پر زوال کیسے آیا؟


آج سے تقریباً 37 سال قبل مجلس ترقی ادب نے آغا افتخار حسین کی کتاب ’’ قوموں کی شکست وزوال کے اسباب کا مطالعہ ‘‘ شائع کی، جس میں سادہ پیرائے میں مطالب بیان ہوئے، صاف معلوم ہوتا ہے کہ قلمکار کے ذہن میں لکھتے وقت عام قاری تھا جسے وہ مطالعہ تاریخ کی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کتاب کے پہلے چار ایڈیشن تو عام سے کاغذ پر ٹائپ میں شائع ہوئے، پر پانچواں ایڈیشن کمپوزڈاور اجلے سفید کاغذ پر چھپا ہے۔ اس کتاب کا خیال ہم کو یوں آیا کہ اس میں قوم کے کسی لیڈرکی اندھی محبت یا اندھی نفرت میں مبتلا ہوجانے کے اثرات کا جائزہ لے کر بتایا گیا ہے کہ اس صورت حال کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔

فاضل مصنف کا خیال ہے کہ اندھی محبت کی طرح اندھی نفرت کے نتائج بھی تباہ کن ہوتے ہیں۔ محبت میں لیڈر کے ارشادات پر غور ہوتا ہے نہ ہی اس سے اختلاف کیا جاتا ہے۔ نفرت میں لیڈر کے 99 فی صد خیالات اور فیصلے غلط ہوں، اور ایک فیصدی صحیح تب بھی اس کے سو فیصدی غلط ہونے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ ان دو صورتوں سے بھی زیادہ ایک اور خطرناک رجحان کی طرف آغا افتخار نے یوں توجہ دلائی ہے:

’’تاریخ میں مذکورہ بالا دونوں قسم کی متعدد مثالیں ملتی ہیں لیکن یہ وہ واقعات ہیں، جب کوئی قوم عمومی طور پر ایک لیڈر کی اندھی محبت یا اندھی نفرت میں گرفتار ہوئی، اور اس کے نتیجے میں غلط راستے پر چل نکلی لیکن ان کے علاوہ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ قوم میں ایک فرد کے بارے میں دو قسم کے جذبات ابھرے۔ قوم کے ایک طبقے نے اس فرد سے اندھی محبت کی اور ایک نے اندھی نفرت۔ اس سے ایک قوم کے اندر محاذ آرائی شروع ہوگئی جس کے نتائج مذکورہ بالا دونوں مثالوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوئے۔ اگر کوئی قوم کسی فرد سے اندھی محبت یا اندھی نفرت کرنے پر متحد ہوجائے تو اس کے نتائج بھی افسوس ناک ہوں گے لیکن اگرکسی قوم کے افراد اندھی محبت اور اندھی نفرت کرنے پر دو طبقوں میں تقسیم ہوجائیں تو پھر اس قوم میں انتشار اور شکست وزوال تقریباً یقینی ہوجاتا ہے۔ ‘‘

افسوس کی بات ہے، تاریخ آج ہم کو اسی موڑ پر لے آئی ہے، جہاں سے ہم پہلے بھی گزر چکے ہیں۔ اندھی محبت اور اندھی نفرت کی اس تقسیم نے عام لوگوں کے ذہنوں ہی میں سرایت نہیں کیا بلکہ صحافی حضرات بھی کمر پر دلائل کا پشتارہ لادے من پسند گروہ کی حمایت یا مخالفت میں جٹے ہیں جس کو جدید محاورہ میں ’’واضح پوزیشن لینا‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ کٹر نظریاتی مخالف اگر ان کی سیاسی پسند یا ناپسند کا ٹانکا آپس میں مل گیا ہے تو وہ آپس میں شیرو شکر نظر آتے ہیں۔ حق ناحق کی بحث غیر ضروری ہو گئی ہے، اکثر کی راست بازی پر سیاسی عصبیت کا غلبہ ہے۔ چند فرزانے تعصبات سے اٹھ کر اپنی نحیف آواز کو شامل شور جہاں کررہے ہیں لیکن کوئی اس پر کان نہیں دھر رہا۔

آغا افتخار حسین کی جن معروضات کو ہم نے پیش کیا ہے وہ کتاب کے آخر میں ہیں،یہ حصہ ممکن ہے کہ ان دنوں کے بعد رقم ہوا ہو جب اس ملک کے مقبول ترین لیڈر کو پھانسی دی گئی تھی اور اس کی نفرت میں مبتلا گروہ نے جشن منایا تھا، اس وقت ایک صاحب علم نے جس کا اس لیڈر سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، کہا تھا :”جن احمقوں نے ایک قومی رہنما کو ختم کر دینے کا یہ طریقہ اختیار کیا ہے, وہ نہیں جانتے کہ اس طرح انھوں نے اس ملک کی سیاست میں ایک مستقل عناد کی بنیاد رکھ دی ہے.” اس صاحب بصیرت کی بات سچ ثابت ہوئی، دوسری طرف ایک سیاست دان نے فرمایا تھا کہ اس شخص سے جان چھوٹے تب ملکی سیاست آگے چلے گی، لیکن ملکی سیاست آگے نہ چلی البتہ قوم بہت پیچھے رہ گئی۔

آغا افتحار حسین نے پیش لفظ کے نیچے 25 اگست 1979 کی تاریخ ڈالی ہے جب 4 اپریل 1979 کو گزرے چار ماہ اکیس دن گزر چکے تھے، ان دونوں تاریخوں کے درمیانی عرصے میں انھوں نے اگر کتاب کا وہ آخری حصہ لکھا ہو جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے تو کچھ عجب نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔