وطن کی مٹی


دور حاضر کے جدید تقاضے کے پیش نظر سماجی ویب سائیڈز معلومات کا بہترین ذریعہ بن گیا ہے۔ چند روز قبل فیس بک پروفائل پر یوم آزادی کے حوالے سے ایک ٹیگ میری نظر سے گزرا جسے پڑھنے کے بعد میں نے جھرجھری سی لی۔ اس ٹیگ میں ایک معزز معمر شخص کی 1947 کے حوالے سے ایک بھیانک یادداشت تھی۔ معزز معمر کا کہنا تھا کہ تحریک آزادی کی جدوجہد کے دنوں کی بات ہے۔ ایک روز ہمارے علاقے میں سکھوں نے دھاوا بول دیا۔ میرے والد نے میری جوان ماں کے ہمراہ مجھے اور دیگر بھائی بہن کو دریا کہ کنارے کھڑا کردیا اور کہا کہ اگر ا“اللہ اکبر“ کی آواز آئے تو شکر خدا کرنا اور اگر ”وائے گرو“ کی آواز آئے تو اپنے آپ کو اس گہرے دریا کے حوالے کردینا۔ ان الفاظ کو پڑھتے ہی میرے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔

میں نے اس ٹیگ کا ذکر ایک صاحب سے کیا وہ ایک اہم ادارے کے اہم عہدے کی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوئے ہیں۔ انہوں نے سن کر کہا میں آپ کو اپنی یادداشت سناوں تو مجھے یقین ہے آپ کو میر ی بات کا اعتبار ہی نہیں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1947 میں میں بہت کم سن تھا اور اس کم سنی کے عالم میں میں نے وہ حالات دیکھے ہیں جنھیں یاد کرکے آج بھی میرے رونگھٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ ماضی کی کتاب کے اوراق پلٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری آنکھیں ایک جوان لڑکی کی عصمت ریزی کی عکاس ہیں۔ اس لڑکی کی فریاد آج بھی مجھے سونے نہیں دیتی۔ اس کا رونا، مدد کی بھیک، عزت کے لٹیروں کے سامنے ہاتھ جوڑنا، آج بھی میرا سکون تباہ کرتا ہے۔ میں آج بھی پشمان ہوں کیونکہ بچہ ہونے کی وجہ سے میں اس لڑکی کی مدد نہ کر سکا۔ میں اپنے آپ کو اس کا مجرم تصور کرتا ہوں۔ کیا آپ جانا چاہوں گی وہ جوان لڑکی کون تھی؟ میرے سوال سے قبل ہی وہ جواب دے کر خاموش ہوگئے جبکہ میں بھی بولنے کے کچھ قابل نہ رہی۔ انہوں نے گلوگیر لہجے میں کہا کہ وہ جوان لڑکی میری بڑی بہن تھی جو مجھے ایک ماں کی طرح چاہتی تھی۔ افسوس میں اپنی بہن کی مدد نہ کرسکا اور سکھوں نے اس کی عزت کو میری آنکھوں کے سامنے پامال کر ڈالا جبکہ میں بے بسی کی تصویر بنا رہا۔ یہ سننے کے بعد میرے پاس الفاظ نہ رہے اور میں نے لائن منقطع کردی۔

مجھے یاد ہے جب میں چھوٹی تھی تو بہت شوق سے پاکستان بننے کے مراحل کی داستان اپنی دادی سے سنا کرتی تھی۔ میری دادی آبدیدہ ہو کر بتایا کرتی تھیں کہ 1947 میں ہندوستان کے کنویں پانی سے نہیں بلکہ جوان لڑکیوں کی لاشوں سے بھر گئے تھے۔ میرے والد کا کہنا تھا کہ ان کے والد کہا کرتے تھے جب وہ اپنے لواحقین کے ساتھ پاکستان آرہے تھے تو انہوں نے بے رد بہنیں، سسکتی مائیں، کٹے پھٹے جوان، لرزتے باپ اور بلکتے بچوں کو دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پر آشوب دور بھی ان کے لبوں سے ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ جدا نہ ہوا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ مادر وطن کا حصول انتہائی صبر آزما تھا جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ اس ملک پر برسر اقتدار ہو کر عوام کے ووٹوں کا تمسخر اڑانے والا ایک ”نا اہل“ہندوستان میں یہ تقریر کرتا ہے کہ ہم اور آپ ایک ہیں بس سرحد کے اس پار اور اس پار کا فرق ہے۔ جب وہ ملک کی باگ ڈور سبھالتا ہے تو انڈیا کا وزیراعظم پاکستان میں ایسے آتا ہے جسے ( خاکم بدہن ) وطن عزیز اس کی نوآبادی ریاست ہو۔ وہ پاکستانی حکمران بھارت سے کاروباری معاملات کے کٹھائی میں پڑ جانے کے خوف کے تحت انڈین نیوی کا حاضر سروس افسر ”کل بھوشن ” کا نام لینے سے ڈرتا ہو۔ جسے پاکستان کی انٹیلی جنس نے وطن عزیز میں انتشار پھیلانے کے حوالے سے ٹھوس ثبوت کی روشنی میں تحویل میں لیا جبکہ وہ خود بھی یہ اعتراف کر چکا ہے۔ دوسری جانب کشمیری ماں بہنوں کو سر ننگے کرنے والے بھارت سے محبت کی پیتنگیں اڑانے کے لئے ہمارے سابق نا اہل وزیراعظم اپنے بھارتی ہم منصب دوست کی مستورات کو ساڑھیاں گفٹ کر تے نظر آتے حالانکہ مودی 1971 میں مادر وطن کو دولخت کرنے کا اعتراف بھی کرچکا ہے۔ یہ ہی نہیں بلکہ بھارتی انٹیلی جنس بارہا کراچی اور بلوچستان کے شورش زدہ حالات کا کڑیڈٹ بڑے فخر سے لیتی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  انسان فرشتہ ہوتا ہے نہ شیطان

تاہم افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سابق پرائم منسٹر جبکہ موجود نا اہل وزیراعظم ذاتی کاروبار کی وجہ سے ہنددستان کی ناراضگی برداشت نہیں کرسکتے تھے اس ہی لئے نہ انہوں کل بھوشن کا نام لیا نہ ہی کشمیر کے مسلے کو درست طریقے سے اقوام متحدہ کے سامنے رکھا غالبا اسی لئے ان کی نا اہلی پر انڈین میڈیا سمیت اہم بھارتی شخصیات بلبلا اٹھی تھیں۔ آج وہ ہی شخص سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل ہونے کے بعد عوام سے ہمدردی حاصل کرنے کے لئے سٹرکوں پر ہے اور عدالتی فیصلے پر اپنا غصہ نکال کر اداروں سے عوامی تصادم کا خواہشمند نظر آتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عوام کی ہمدردی حاصل کرنے والا یہ کار واں ایک ماں کی گود اجڑ کر شرمناک بیان جا ری کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان کو بنانے میں ہزاروں لوگوں نے قربانی دی تھی اگر یہ بچہ جمہوریت کی بقا کے لئے آیا تھا تو اللہ اس کے درجات بلند کرئے۔ میرا سوال ہے یہ کیسی جمہوریت ہے جو جمہور کو کچل کر شرمناک بیانات جاری کر رہی ہے۔

کیا جمہوریت میں ایسا ہوتا ہےکہ ایک بدمست ہاتھی کی طرح کمزور کو روندنے کے بعد اہلخانہ پر من پسند بیان جاری کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جائے؟ کیا یہ حقیقی جمہوریت ہے؟ نہیں صاحب نہیں یہ حقیقی جمہوریت تو کجا یہ تو انسانیت کی تذلیل ہے۔ علاوہ ازاں کیا میاں نواز شریف کو یہ نہیں پتہ کہ مادر وطن کو 71 واں برس لگنا ہے۔ جبکہ وہ عوام کو ادارو ں سے محاذ آرائی کے لئے اکسا تے نظر آرہے ہیں۔ کیا مادر وطن کے ساتھ یہ سلوک مناسب ہے کہ اسے خانہ جنگی کی جانب دھکیلا جائے؟ وطن کی مٹی ہم سے اپنا حق مانگتی ہے۔ مجھے اور آپ کو چا ہئیے کہ یہ مت سوچیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ ذرا یہ بھی تو سوچو ہم نے اس کو کیا دیا؟ اس کی سبزہ اگلتی زمین کو بارود ہم میں سے ہی چند لوگوں نے تو بنایا ہے۔ انتخابات کے دنوں میں غلط لوگوں کو ووٹ دے کر اس کی تعمیر وترقی کی راہ کی رکاوٹ بننے والے ہم میں سے ہی تو ہیں۔ چند پیسوں کے عوض جلسوں کی رونق بننے والے ہم میں سے ہی تو ہیں۔ چند نوٹوں کے یہ ملک میں کشت خون کرنے والے ہم میں سے ہی تو ہیں۔ مادر وطن کو خون ریز کرنے والے ہم میں سے ہی تو ہیں۔ نام نہاد اسلامی ممالک کی خوش نودی اور پیسوں کی حصول کے لئے فرقوں کی لڑائی کر نے والے ہم میں سے ہی تو ہیں۔ اے وطن کی مٹی ہم تیرے مقروض ہیں۔ ہمیں چاہئیے کہ اس چودہ اگست کو سبز ہلالی پرچم سے وعدہ کریں کہ ہم اس ملک کو کسی نواز، کسی زرداری، کسی بھٹو، کسی عمران، کسی مشرف کسی فاروق یا کسی مصطفی کمال سمیت دیگر سیاسی سماجی و مذہبی قائدین کا نہیں بلکہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان بنا کر رہنگے۔ انشاء اللہ۔ پاکستان زندہ باد۔

اسی بارے میں: ۔  ونڈو شاپنگ

(ادارہ ہم سب یہ مضمون جزوی اختلاف کے ساتھ شائع کر رہا ہے۔ دو ملکوں کے درمیان مستقل دوستی یا دشمنی نہیں ہوا کرتی ہے۔ یہ مفادات کا معاملہ ہوتا ہے جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ بدل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کبھی پاکستان اور روس میں شدید دشمنی تھی اور آج یہ دونوں دوست ہیں۔ کس ملک کے ساتھ کیسے تعلقات قائم کرنے ہیں، یہ طے کرنا عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آنے والے وزیراعظم کا حق ہے جو اسے عوام نے دیا ہے: مدیر)

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔