’یتیموں کی ماں‘ کیا نام لے لینا چاہیے؟


ممتاز محل کے انتقال پر شاجہاں نے تاج محل بنوایا۔ ممتاز محل اور شاہ جہاں کے بیٹے اورنگ زیب کو مغل تعمیر سے کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ اس نے صرف ایک بڑی تعمیر کروائی۔ اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اورنگ زیب نے بھی اپنی بیگم دلراس بانو کے لئے اورنگ آباد میں ایک مقبرہ تعمیر کرایا جسے ’ بی بی کا مقبرہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ممتاز محل کا انتقال اپنے 14ویں بچے کی پیدائش کے دوران ہوا۔

دلراس بانو کا انتقال اپنے پانچویں بچے کی پیدائش کے بعد ہوا۔ بی بی کا مقبرہ ناقابل یقین حد تک تاج محل سے مماثلت رکھتا ہے۔ وجہ تعمیر ایک ہے۔ تاج محل دنیا بھر میں مشہور ہے۔ بی بی کے مقبرے سے خال ہی لوگ واقف ہیں۔ تاریخ کا منہ زور دریا بہت شوریدہ ہوتا ہے۔ یہ کچھ نام یاد رکھ لیتا ہے اور کچھ نام بس بے نام سے رہ جاتے ہیں۔ دو تعمیرات ایک سے ہیں۔ وجہ تعمیر ایک ہے۔ ایک محل کہلاتا اور دوسرا مقبرہ۔ تاج محل محبت کی علامت بن گیا۔ بی بی کے مقبرے کا ذکر اس وقت آتا ہے جب مغل فن تعمیر کی فہرست مرتب کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ ہم سے بچھڑ گئیں۔ مقام شکر ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کی آخری رسومات کو سرکاری سطح پر ادا کرنے کا اعلان ہوا۔ پاکستان اقلیتوں کے لئے کبھی بھی مثالی ملک نہیں رہا۔ جوگیندر ناتھ منڈل سے لے کر ڈاکٹر عبدالسلام تک تاریخ بہت واضح ہے۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ انسانیت کے چہرے کا جھومر تھیں۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ کے بارے میں پڑھتے پڑھتے سرحد پار ایک اور روتھ فاؤ سے ملاقات ہو گئی۔ چار جماعت پاس کی ایک ڈاکٹر۔ آئیے آپ کو بھی ملواتے ہیں۔ جہاں بی بی کا مقبرہ ہے اسی اورنگ آباد سے مشرق جانب چلیں تو چند گھنٹوں کی مسافت پر وردہ نامی ایک ضلع آتا ہے۔ وردہ میں جنگلوں کے کنارے پر ایک پسماندہ گاؤں پمپری آباد ہے۔ پمپری میں ایک چراوہے کے ہاں ایک ایسی بچی پیدا ہوئی جسے اس کے والدین نے ’unwanted child‘ قرار دیا۔

مراٹھی میں ایسے بچوں کے لئے ’چندھی‘ کی اصطلاح معروف ہے۔ چندھی نے صرف چار جماعتیں ہی پڑھیں۔ بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہی چندھی کی شادی ایک تیس سالہ چرواہے سے کر دی گئی۔ گرتے پڑتے چندھی نے یکے بعد دیگرے تین بچوں کو جنم دیا۔ علاقہ چونکہ پسماندہ تھا اورچولہا جلانے کے لئے گوبر کے علاوہ کوئی ایندھن دستیاب نہیں تھا۔ گاؤں میں وڈیرے کے لوگ زبردستی چرواہوں سے گوبر کا ذخیرہ ہتھیا لیتے تھے۔ چندھی نے گاؤں کی چند دیگر عورتوں کے ساتھ مل کر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ وڈیرے نے چندھی کو شوہر کو بلایا اور اسے چندھی کو گھر سے نکالنے کا حکم دیا۔ چندھی نو ماہ کی حاملہ تھی۔ شوہر گھر آیا تو چندھی پر وہی الزام لگایا جو غیرت مند مرد ہمیشہ عورت پر لگاتے آئے ہیں۔ چندھی کو گھر سے نکال دیا گیا۔ چندھی اس حالت میں تھی کہ اسے اکیلے بھینسوں کے باڑے میں بچی کو جنم دینا پڑا اور بچی کی ناف سے بندھی آنول نال کو پتھر سے کاٹنا پڑا۔ نوزائیدہ بچی کو لے کر اسی حالت میں چندھی کئی کلومیٹر پیدل چلتے ماں کے گھر پہنچی تو ماں نے بھی دروازہ بند کر دیا۔

اسی بارے میں: ۔  اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں

چندھی یہاں سے ایک ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔ وہیں ڈیرا جما لیا۔ چندھی کہتی ہیں، ’ دس دن کی بچی تھی میری جب میں نے ٹرین میں بھجن گا کر بھیک مانگنا شروع کیا۔ میری عمر بیس سال تھی۔ مجھے آدمیوں سے ڈر لگتا تھا۔ میں نے ریلوے اسٹیشن کی بجائے شمشان کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ شمشان بہت محفوظ جگہ تھی۔ وہاں رات کو کوئی نہیں آتا تھا۔ ایک دن میں ریلوے اسٹیشن پر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ خودکشی کر لوں۔ اس زندگی میں کیا رکھا ہے۔ کبھی خود کو دیکھتی، کبھی بچی کو دیکھتی کہ اگر خود کشی کر لی تو اس کا کیا بنے گا۔ میرے پاس روٹی تو تھی مگر مجھ میں کھانے کی ہمت نہیں تھی۔ میں زندگی سے تھک چکی تھی۔ تب مجھے ساتھ پڑے ایک بیمار بھکاری کی رونے آواز آئی۔ اس نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا کہ کوئی پانی پلا دے نہیں تو میں مر جاؤں گا۔ مرتے سمے کوئی دو گھونٹ پانی ہی پلا دے۔

میں دیکھتی رہی کہ کوئی تو اٹھے گا مگر کوئی نہیں اٹھا۔ میں اٹھ کر بھکاری کے پاس گئی۔ میں اسے پانی پلایا۔ میں نے کہا بابا صرف پانی پی کر نہ مرنا، میرے پاس روٹی بھی ہے۔ اس کے بعد میں نے اسے روٹی کھلائی۔ وہ بابا مرا نہیں۔ میں نے سوچا کہ ابھی تو میں خود مرنے کا سوچ رہی تھی۔ اسی وقت احساس ہوا کہ زندگی کا مطلب اپنے پیٹ کی بھوک مٹانے کا نام نہیں ہے۔ زندگی کی خوشی مل بانٹ کر کھانے میں ہے۔ یہ آغاز تھا۔ اب ہر وہ بچہ میرا بچہ تھا جس کے ماں باپ یا تھے نہیں، یا ان کو کھلا نہیں سکتے تھے یا پھر وہ ’ unwanted‘ تھے‘۔

جس زمانے میں ڈاکٹر روتھ پاؤ نے کراچی میں جذام کے مریضوں کے لئے کام کا آغاز کیا اسی زمانے میں اس بے نام چندھی نے بھیک مانگ کر دوسرے غریبوں کو کھلانے کاآغاز کیا۔ آج مہاراشٹر میں اس بے نام ماں کے درجنوں آشرم ہیں جس میں ہزاروں یتیم بچوں نہ صرف بہترین رہائش میسر ہے بلکہ بہترین تعلیم و صحت بھی میسر ہے۔ اس وقت چودہ سو ایسے بچے ہیں جن کے ماں اور باپ دونوں کے خانے میں اسی چندھی کا نام درج ہے۔ ان کی زندگی پر کئی فلمیں بن چکی ہیں۔ ان کو اب تک سات سو سے اوپر سرکاری اور غیر ایوارڈز سے نواز جا چکا ہے جن میں ہانگ کانگ نیشنل ایوارڈ، مدر ٹریسا ایوارڈ فار سوشل جسٹس شامل ہیں۔ حکومت ہندوستان نے اسی خاتون کے لئے 2013 میں ایک نیا قومی ایوارڈ متعارف کرایا جس کا نام The National Award for Iconic Mother رکھا گیا۔ اور اس ایوارڈ سے پہلی مرتبہ اسی خاتون کو نوازا۔ 2016 میں DY Patil Institute نے ان کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ ڈاکٹر روتھ پاؤ انسانیت کے چہرے کا جھومر ہیں۔ یتیموں کی ماں انسانیت کا ضمیر ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اس معزز کاتون کا نام نہیں ہے۔ ان کا نام سندھوتائی سپکل ہے۔ اڑسٹھ سالہ اس سندھوتائی سپکل کو پورے ہندوستان میں ’ یتیموں کی ماں‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ان کا نام نہیں لیا جا سکتا۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستان کرکٹ کی جیت، انگلینڈ اور بھارت کیلئے گہرا پیغام

اس ملک میں عدل کے منصب کی سب بڑی کرسی پر براجمان ایک قابل قدر منصف نے پچھلے دنوں فرمایا کہ اس قوم کا نام نہیں لینا چاہیے جس سے سندھو تائی سپکل کا تعلق ہے۔ جس سے رانا بھگوان داس کا تعلق تھا۔ دیکھیے آگرہ کے تاج محل اور اورنگ آباد کے بی بی کے مقبرے میں بارہ سو کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اتنا ہی فاصلہ لاہور اور کراچی کے درمیان ہے۔ ہمارے معزز منصف کا تعلق لاہور سے ہے۔ کراچی کے پرانے گولی مار کے ایک شمشان گھاٹ میں انہی ایک پیشرو کے نام کا ایک کتبہ لگا جس پر لکھا ہے’ جسٹس رانا بھگوان داس‘۔

معلوم نہیں یہ کتبہ ہمارے معزز منصف کی نظر سے گزرا ہے یا نہیں مگر سپریم کورٹ آف پاکستان کے کورٹ روم نمبر 1 میں معزز منصف کی کرسی سے چند قدم کے فاصلے پر رانا بھگوان داس کی تصویر ٹنگی ہو گی ہے جن پر ان کا نام جلی حروف میں لکھا ہونا چاہیے۔ معلوم نہیں منصف صاحب ان کو کس نام سے پکارتے ہوں گے۔ تاریخ کا منہ زور دریا بہت شوریدہ ہوتا ہے۔ یہ کچھ نام یاد رکھ لیتا ہے اور کچھ نام بس بے نام سے رہ جاتے ہیں۔ آگرے کا مقبرہ محل کہلاتا ہے۔ اورنگ آباد کا تاج محل مقبرہ کہلاتا ہے۔ تاریخ کے سینے پر مدت بعد منصفوں کے نام بھی لکھے جائیں گے۔ معلوم نہیں کس کس کا نام چیف جسٹس کے عہدے سے یاد رکھا جائے گا مگر رانا بھگوان داس کا نام اپنے عہدے سے بڑا ہی رہے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 151 posts and counting.See all posts by zafarullah