رضا ربانی کی آئین بارے تجاویز سے اتفاق کرتے ہیں۔ نواز شریف


پاناما کیس میں سپریم کورٹ سے نااہل ہونے والے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے داتا دربار کے باہر موجود سٹیج پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت آئین میں تبدیلی کے لیے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کا ساتھ دے گی۔

بدھ کی صبح دارالحکومت اسلام آباد سے اپنے سفر کا آغاز ایک ریلی کی صورت میں کرنے والے سابق وزیراعظم نے چار دن میں لاہور واپسی کا سفر مکمل کیا۔ انھوں نے راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ اور شاہدرہ میں موجود مسلم لیگ ن کے کارکنان سے خطاب کیا۔ اپنے تمام خطابات میں انھوں نے پاناما کیس میں اپنے نااہلی کے فیصلے پر کڑی تنقید کی اور مایوسی کا اظہار کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق راوی کا پل کراس کیا تو وہاں مسلم لیگ ن کے کارکنان کی بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ مسلم لیگ ن کے کیمپ لگائے گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سینیر رہنما نواز شریف کی آمد کے موقع پر سٹیج پر موجود تھے۔ جن میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت وفاقی وزرا، وزیراعلی بلوچستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم بھی شامل تھے۔

اس سے قبل شاہدرہ میں خطاب کرتے ہوئے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ نااہلی کا فیصلہ نہ میں نے قبول کیا ہے نہ اسلام آباد سے لے کر شاہدرہ تک کسی نے قبول کیا ہے، پوری قوم نے یہ فیصلہ قبول نہیں کیا۔ انھوں نے جلسے میں موجود لوگوں کی بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مل کر پاکستان کو تبدیل کریں گے۔

نواز شریف نے بدھ کو اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ اپنا سفر شروع کیا تھا اور چوتھے دن منزل کے قریب پہنچنے پر صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے آنے والے قافلے بھی مرکزی قافلے میں شامل ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سے اس کے حجم اور جوش و خروش دونوں میں اضافہ ہو گیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 370 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp