پاکستان کا ریڈی میڈ انقلاب


گذشتہ 70 برسوں میں پاکستان، خواتین کے ملبوسات کے حوالے سے بےانتہا تبدیلیوں سے گزرتا رہا ہے۔ اس شعبے میں اگر ہم قیام پاکستان سے نظر ڈالنا شروع کریں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ 1940 اور 50 کی دہائیوں میں محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان، پاکستانی خواتین کی رول ماڈل تھیں جو اپنی اکثر تصاویر میں سفید غراروں میں ملبوس نظر آتی تھیں۔ اُس دور کے فیشن میں مسلمانانِ برِصغیر کے اندازِ لباس کو سراہا جاتا تھا جن میں مَلمَل کے کرتے اور چکن کاری کا کپڑا بہت مقبول تھے۔

ان مَلمَل کے کُرتوں کا رواج 1950 کی دہائی کے اواخر اور 60 کی دہائی کے اوائل میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کلب کلچر کی وجہ سے ماند پڑنے لگا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فیشن کی دلداہ خواتین کی الماریوں میں ساڑھی ایک لازمی جزو تھا۔ ان دلفریب ریشمی اور شیفان ساڑھیوں کے ساتھ ساتھ اونچی ایڑی والےجوتے بھی مقبول ہوئے۔ ساڑھیوں کے بلاؤز تنگ و چست چولیوں کی شکل اختیار کرگئے اور ناخنوں پر سرخ نیل پالش لگانا ہر شام کی ایک اہم ضرورت بن گیا۔

یہ وہ دور تھا جب شمیم آراء، زیبا، ترانہ اور نورجہاں جیسی اداکاراؤں کے انداز سے فیشن جنم لیتا تھا۔ اس وقت ان تمام اداکاراؤں کی تصاویر ساڑھی ہی میں شائع ہوا کرتی تھیں۔ ساڑھی کا رواج پاکستان میں مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش) اور وہاں سے تعلق رکھنے والی اداکارہ شبنم اور گلوکارہ رونا لیلٰی کی وجہ سے بھی فروغ پاتارہا۔

پاکستان کی مشہور فیشن ڈیزائنر ماہین خان کا کہنا ہے کہ ‘انیس سو پچاس کی دہائی میں ساڑھی ایک فیشن ایبل لباس تھا’، انہوں نے بتایا کہ ‘میری ماں نے جہیز میں مجھے تقریبا ایک سو ساڑھیاں دی تھیں اور 1960 کی دہائی میں میری الماری میں ایک بھی شلوار قمیض نہیں تھی’۔

ساڑھی نے سیاسی حلقوں میں بھی اپنا رنگ جما لیا تھا۔ اس وقت کے صدر ایوب خان کی صاحبزادی نسیم اورنگزیب اپنے والد کے ساتھ دنیا کے سرکاری دوروں پر انتہائی خوبصورت ساڑھیاں پہنا کرتی تھیں (کہا جاتا ہے کہ ایوب خان کی بیوی پردہ کیا کرتے تھیں اس لیے ان کی صاحب زادی ان کے ساتھ سرکاری دوروں پر جاتی تھیں)۔ اس دور میں بیگم نصرت بھٹو کی ساڑھیاں بھی ایک سرکاری لباس کا درجہ اختیار کرگئی تھیں۔

پاکستانی فیشن جس میں ہمیشہ سے ایک وقار کو مد نظر رکھا جاتا رہا تھا، اپنےاندر کچھ شوخ و چنچل انداز بھی لایا جس کا آغاز بھی 50 دہائی کے اواخر سے ہوا اور جو 60 اور 70 کی دہائی تک جاری رہا۔ اس فیشن میں پھولوں سے مزین چست لباس (ٹیڈیز) شامل ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے مرد اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہماری ٹیڈی قمیضیں اتنی تنگ ہوتی تھیں جیسے ہمارے بدن پر دوسری جلد ہو۔ یہ تنگ قمیضیں شلواروں کے ساتھ پہنی جاتی تھیں جن کی موریاں (ٹخنوں پر سے) بھی اتنی ہی تنگ ہوتی تھی جن کو بند کرنے کے لیے ٹچ بٹن کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں قمیضیں تو چست ہی ہوتی تھیں لیکن شلواریں قدرے ڈھیلی ہوتی تھیں جن کا آرام اور آسانی ساڑھی یا غرارے کا متبادل نہں ہوسکتا تھا۔ اس وقت کی جدت پسند خواتین کا یہ ٹیڈی ہتھیاراس وقت ہالی وڈ کی حسین اورپرکشش اطالوی اداکارہ جینا لولو بریگیڈا کے انداز سے متاثر ہو کر اختیار کیا گیا تھا۔

فوزیہ کھوڑو، فوزیہ حئی، رخشندہ خٹک اور ماہین خان خود بھی ٹٰیڈی دور کی ماڈلز رہی ہیں۔ لیکن ان کے انداز ملک میں مزید فیشن بھی لے کر آئے جن میں گھٹنے تک کی پتلونیں، میکسی اور پھر کھلے پائنچوں کی پتلونیں (بیل باٹم) اور سکرٹ نما ڈریس (فلیپر) بھی شامل تھے۔

ماہین خان اپنی یادیں دہراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’وہ دور کلب، ڈسکو اور ڈانس کا دور تھا۔ اس وقت کے لوگ جانتے تھے کہ تفریح کس طرح کی جاتی ہے۔‘

پاکستان میں ذوالفقارعلی بھٹو کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کہ انھوں نے پاکستان سے مغربی غلبے کو ختم کر کے قومیت کو فروغ دیا اور عوامی لباس کو عام کیا جِسے خواتین نے بھی اختیار کیا۔ 1970 کی دہائی میں پاکستان میں پہلے باقاعدہ تیار شدہ (ریڈی میڈ ) ملبوسات ڈیزائینر ٹی جیز منظر عام پر آئے اور شہرت حاصل کی۔

ٹی جیز کے بانی تنویر جمشید کا نعرہ تھا کہ ’ٹی جیز شلوار قمیض کے لیے ایسا ہی ہے جس طرح ڈینم (جینز کا کپڑا) کے لیے لیوائز (ایک مشہور برانڈ)۔‘ انھوں نے اس عوامی انداز کو بھٹو کے سیاسی ڈائس سے اٹھا کر عام پاکستانی کا فیشن بنا دیا۔ یہ عوامی انداز ٹیلی وژن کے ڈراموں میں بھی نظر آنا شروع ہوگیا جس میں 1973 کا مشہور ڈرامہ ’کرن کہانی‘ بھی شامل ہے جس کی ہیروئن ماضی کی معروف اداکارہ روحی بانو تھیں۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان میں فلم کا زوال شروع ہوگیا او اس کی جگہ ٹی وی مقبول ہوتا گیا جس کے ساتھ ساتھ انداز اور فیشن بھی بدل گیا۔ یہ عوامی انداز مرد اور خواتین کے لیے یکساں تھا۔ خواتین میں بھی مرادنہ کالر، پیتل کے بٹن، اور کاندھوں پر موٹے موٹے آرائشی جھالر اور پَٹیاں ایک مقبول فیشن تھا۔ دوپٹہ جو ساٹھ کی دہائی کے ٹیڈی انداز کی طرح سکڑ کر ایک رسی کی شکل اختیار کرگیا تھا۔ 1970 کی دہائی میں تقریباً غائب ہی ہوچکا تھا۔

1980 کی دہائی میں پاکستانی فیشن کے ارتقاء میں میڈم نورجہاں کی فرانسیسی بہو فلورنس ویلیرز اور ماہین خان نے اہم کردار ادا کیا۔ فلورنس نے کراچی میں ایک بوتیک (سلے سلائے کپڑوں کی دکان) کھولی اور فرانسیسی اور دیگر مغربی انداز کو خواتین کے لباس میں واپس لے کر آئیں اور ماہین خان جنھوں نے فرانسیسی ڈیزائنروں سے تربیت حاصل کی تھی، نے اپنے کپڑوں میں ایک بین الاقوامی انداز کو نمایاں کیا۔

ماہین خان کہتی ہیں کہ ’فلورنس رضوی اور مجھے اس بات کا احساس تھا کہ جب پاکستانی خواتین بیرونِ ملک سفر کررہی ہوتی ہیں تو وہ مختلف انداز کے کپڑے پہنتی ہیں۔ میں نے سنہ 1983 میں اپنی پہلی تیار شدہ کپڑوں کی دکان کھولی جہاں مجھے آزادی تھی کہ میں جیسے چاہے انہیں ڈیزائن کر سکتی ہوں۔‘

80 کی دہائی میں پنجاب کی روایتی شلوار نے ڈیزائینروں کے ڈرائنگ بورڈ پر جاکر نئے انداز اختیار کیے اور یہ دھوتی، کاؤل، ترک اور پٹیالہ شلوار کی شکل میں سامنے آئی۔ اس دہائی میں انداز کو فیشن کہا جانے لگا اور اس فیشن کے لیے معاشرے کی اعلیٰ طبقے کی خواتین کے بجائے سپرماڈلز کی طرف دیکھا جانے لگا جن میں عطیہ خان، نیشمیا، فریحہ الطاف، بی بی، عالیہ زیدی، لولو، اور زوئیلا وہ نام ہیں جنھوں نے پاکستان میں فیشن ماڈلنگ کا آغاز کیا۔ پاکستان کا پہلا فیشن شو 1989 میں جنرل ضیاالحق کی ہلاکت کے ایک سال بعد منعقد کیاگیا۔

1990 کی دہائی کا انداز پاکستان کی اس نوزائیدہ فیشن انڈسٹری اور ان فیشن ڈیزائنر کے نام ہے جنھوں نے ضیا کے 11 سالہ دور کی ثقافتی تباہی کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ ان ڈیزائنرز میں ماہین خان، رضوان بیگ، نیلوفر شاہد، شمائل، ثنا سفیناز، امیر عدنان اور دیگر شامل ہیں جنھوں نے پاکستان کے فن، ثقافت، اور ہنر کو پھر سے زندہ کرنے کی بنیاد رکھی اور پاکستانی فیشن میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ ملبوسات میں مغربی طرز واپس آنا شروع ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی ڈیزائنروں کی ایک نئی کھیپ سامنےآئی جن میں ایمان احمد (باڈی فوکس میوزیم)، دیپک پروانی اور سونیا باٹلہ شامل ہیں۔

نئی صدی کی کروٹ پاکستان میں فیشن کے لیے بھی ایک نیا دور لے کر آئی۔ ملک بھر میں فیشن سکول قائم ہونے گے اور ان سے فارغ التحصیل طلبہ صنعت میں ایک تبدیلی لے کر آئے۔ یعنی اگر اس کام کا بیڑہ اٹھانے والے سرخیل ایک شاندار ماضی تھے تو یہ انقلابی نوجوان جن میں حسن شہریار یاسین، ماہین کاردار، کامیار روکنی، نومی انصاری اور ثانیہ مسکتیہ شامل ہیں فیشن کا مستقبل تھے۔ اگر نورجہاں بلگرامی نے ہاتھ سے بنی کاٹن یا لٹھے کو عام کردیا تھا تو آج شمعون سلطان نے اس ہی کپڑے کو کھاڈی برانڈ کا نام دے کر اسے عوامی ترین بنادیا ہے۔

اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ’کھاڈی‘ نے پاکستان میں سلے سلائے کپڑوں کے رحجان میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ پچھلی دہائی تک بھی پاکستان میں فیشن ملبوسات کے لیے درزیوں پر انحصار کیا جاتا رہا لیکن گذشتہ دس سالوں میں یہ رحجان تبدیل ہوا اور جدید انداز کے سلے سلائے ملبوسات کی برانڈ کھاڈی اور جنریشن مقبول ہوتی گئیں۔ اس کے علاوہ سوت، کپڑا اور اعلیٰ سوتی کپڑے بنانے کے حوالے سے مشہور ٹیکسائل ملیں گل احمد، الکرم، نشاط اور سَیفائر نے بھی بڑے پیمانے پر سلے سلائے کپڑوں کی دکانیں کھول لیں۔ پاکستان میں بڑے بڑے شاپنگ مال کے رواج کے ساتھ ان برانڈز کی شاخوں کی بھی بہتات ہوگئی جہاں خواتین سکون کے ساتھ اپنے کئی گھنٹےگزار سکتی ہیں۔

پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں خواتین کے فیشن کے حوالے بہت کچھ وقوع پزیر ہوچکا ہے اور آئندہ آنے والے سال اس میں مزید ترقی اور جدت لائیں گے۔

(آمنہ حیدر عیسانی)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 599 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp