لو جی اب شیر۔۔۔


ذیشان ظفر۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے جی ٹی روڑ پر چوتھے اور آخری دن کا سفر پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ سے لاہور کے لیے شروع کیا شہر کی حدود سے نکلتے ہی جلوس اس وقت بڑا ہو گیا جب وزیر خارجہ خواجہ آصف کی قیادت میں ایک قافلے نے اس میں شرکت کی اور پہلے تین دنوں کے برعکس لاہور کی جانب بڑھتے ہوئے شرکا کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔
پہلے کامونکی اور بعد میں مریدکے اور پھر کالا شاہ کاکو کے قریب موٹر وے انٹر چینج پر دوسرے شہروں سے آنے والے مزید قافلے مرکزی جلوس میں شامل ہو گئے جس کی وجہ سے جلوس کی رفتار ست پڑتی گئی۔

ان جگہوں پر قافلے کی سست پڑنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ استقبالی کیمپ سے روانگی کے بعد وہاں موجود کارکنوں میں فوراً کھانے کی تقسیم شروع کر دی جاتی تھی اور ساتھ میں اعلانات کیے جاتے تھے کہ کھانا لے کر جانا اور جو سکیورٹی پر آئے ہیں ان کو بھی لازماً کھانا دیا جائے۔
کھانے کے حصول میں وہاں موجود لوگوں کا ہجوم سڑک تک پھیل جاتا تھا اور یہ رکاوٹ بعض اوقات ضرورت سے زیادہ ہی طوالت اختیار کر جاتی تھی۔

خیر لاہور میں داخل ہونے سے پہلے شاہدرہ کے مقام پر میاں نواز شریف کے آخری پڑاؤ کی وجہ سے یہ قافلہ کافی دیر تک وہاں رکا اور وہاں موٹر سائیکل رکشے میں سوار عبدالرحمان سے بات چیت ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میاں صاحب کو گزرتے ہوئے دیکھا ہے اور آج وہ خوش نظر آ رہے تھے۔
ساتھ میں کہا کہ وہ قافلے میں شامل نہیں بلکہ محنت مزدوری کے بعد گھر واپس جا رہے تھے کہ قافلے میں پھنس گئے۔

ان کے ساتھ ہی کھڑے جلوس میں شامل وحید بٹ نے کہا کہ دیگر وجوہات اپنی جگہ لیکن وزیراعظم کو پانچ برس تو پورے کرنے چاہیے تھے۔
اس دوران قافلہ آگے چل پڑا اور دریائے روای کے پل کو عبور کر کے جیسے ہی لاہور شہر میں داخل ہوا تو کارکنوں کا جوش و خروش بھرپور استقبال نے بڑھا دیا اور پہلے استقبالی کمیپ کے اوپر لگے بینر پر واضح لکھا ہوا تھا ’دیکھو دیکھ کون آیا صادق اور امین آیا۔ ‘
جیسے جیسے قافلہ اپنی آخری منرل داتا صاحب کی جانب بڑھتا گیا پیدل چلنے والے کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لگے استقبالی کمیپوں میں رنگ برنگی روشنیوں میں کارکن میاں نواز شریف کی حمایت میں لگے نغموں پر رقص کرتے نظر آئے۔

اسی دوران نواز شریف داتا صاحب کے قریب لگے سٹیج پر بیٹھ چکے تھے اور کارکن ٹولیوں کی شکل میں اس جانب رواں دواں تھے۔
جلسہ گاہ کے آخری سرے پر روایتی جلسوں کی طرح خوب ہلچل تھی اور اس دوران نواز شریف نے تقریر شروع کر دی اور وہاں موجود کارکنوں خطاب کے دوران اپنے قائد کی ہاں میں ہاں ملاتے۔
تقریر کے اختتام پر ان کے حامیوں کا ایک ٹولہ واپس جاتے ہوئے تقریر کے بارے میں بحث کر رہا تھا جس میں وہ کہہ رہے تھے لو جی اب شیر آئین کو تبدیل کرے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور ‘ہم سب’ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین ‘ہم سب’ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 1781 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp