خبر سناؤ۔ نام پتہ جلدی لکھو


کوئٹہ سے اگست رخصت ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ 8 اگست 2013 کو ایئرپورٹ روڈ پر ایس ایچ او پولیس محب االلہ داوی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا جنازہ پولیس لائینز میں ادا کیا جا رہا تھا کہ ایک خود کش دھماکہ کیا گیا جس میں پولیس کے اعلی افسران سمیت 44 افراد شہید اور 60 افراد زخمی ہوئے۔ 8 اگست 2016 کو منو جان روڈ پر بلوچستان بار ایسوسی ایشن بلال انور کاسی کا ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ وکلاء سول ہسپتال میں جمع ہوئے تو پھر ایک خود کش دھماکہ کیا گیا جس میں 55 وکلاء سمیت 74 افراد شہید ہوئے اور 140 افراد زخمی ہوئے۔ کل 12 اگست کو فوجی گاڑی پر خودکش دھماکہ کیا گیا۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق 8 اہلکاروں سمیت 15اور 25 افراد زخمی ہیں۔ یہ گنتی ابھی جاری ہے۔ ہر سال اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو ریاستی ادارے کوئٹہ شہر میں قومی پرچم کا فلیگ مارچ کرتے ہیں تاکہ قوم کو بتایا جا سکے کہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ قائم ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں سے بگٹی اسٹیڈیم میں آزادی کے جشن کا اہتمام بھی اسی جوش و جذبے سے کیا جا تا ہے کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کو بتایا جا سکے کہ ہمارے حوصلے ابھی بلند ہیں۔ ہر بار مگر خبر آتی ہیں کہ جائے وقوعہ پر قیامت صغری کا منظر تھا۔ انسانی اعضاء دور دور تک بکھرے ہوئے تھے۔ لوگ ہسپتالوں میں چیخ و پکار کرتے اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔ ہر بار جب یہ قیامت آتی ہے تو ریاست کے ذمہ داروں، حکومتی اداروں اور سیاست دانوں کی طرف سے چند بیانات سامنے آتے ہیں۔ پہلے بیانات پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

سیکورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف پوری طاقت سے کارروائی کریں۔ آرمی چیف کی قیادت میں فوج شاندار طریقے سے کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم۔
بلوچستان کا امن خراب کرنے نہیں دیں گے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردوں اور ان کی مددگاروں کو نشانہ بنانے کے لئے ملک بھر میں جہاں چاہیں کارروائی کریں۔ آرمی چیف۔
صدر ممنون حسین، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو، سراج الحق، عمران خان، بلاول بھٹو، وزیر اعلی پنجاب اور دیگر کا انسانی جانوں کی ضیاع پر اظہار افسوس۔
ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ دہشت گردوں کا تعاقب ان کے خاتمے تک کریں گے۔ دہشت گردوں کو بیرون ملک سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔ غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ وزیر اعلی بلوچستان۔
دہشت گردوں کے عزائم پورے نہیں ہونے دیں گے۔ صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی۔
دھماکے کے بعد امن و امان کے لئے اعلی سطحی اجلاس طلب۔
تاجروں کا آج کے سانحہ کے خلاف شٹر ڈاؤن کا اعلان۔

یہ خبریں سانحہ 8اگست 2016 کے روزنامہ جنگ اور روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوئی تھیں۔ آج کی خبریں آپ خود اخبارات میں دیکھ لیجیے۔ خبروں میں کوئی فرق ہو تو ہمیں آگاہ کیجیے۔ ایک فرق البتہ یہ تھا کہ پچھلی بار علم ہوا کہ دہشت گردوں نے سی پیک پر حملہ کیا ہے۔ اس بار علم ہوا کہ حملہ جشن آزادی کو متاثر کرنے کے لئے حملہ کیا گیا۔

کوئٹہ میں دسمبر کا مہینہ آتا ہے تو سردی کی وجہ سے فضا میں جلائے جانے والے کوئلے اور لکڑیوں کی باس شہر واسیوں کی نتھنوں میں آتی ہے۔ فرق یہ پڑا ہے کہ اب اگست کا مہینہ آتا ہے تو فضا باردو کی بدبو سے بھر جاتی ہے۔ مجھے کوئی نوحہ نہیں لکھنا۔ مجھے کسی ذمہ دار سے سوال نہیں پوچھنا۔ مجھے کسی تزویراتی گہرائی کا جائزہ لے کر کوئی مقدمہ ثابت نہیں کرنا۔ مجھے یہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ میرے عزیر دوستوں، میرے دلدار ساتھیوں اورمیرے بھائیوں کو کس نے مارا۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ جان کر کہ یہ ہماری جنگ ہے یا کسی اور کی۔ مجھے کسی کی ہمدردی درکار نہیں ہے۔

مجھے صرف ایک اقرار کرنا ہے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں ایک بے حس انسان بن چکا ہوں۔ میری آنکھیں دیکھ چکی ہیں کہ یونیورسٹی کے اعلی تعلیم یافتہ افراد کیسے ایک انسان کی لاش پر ناچ سکتے ہیں۔ اس معاشرے سے اعتبار اٹھانے کے لئے کیا یہی ایک واقعہ کافی نہیں ہے؟

مجھے صرف یہ بتانا ہے کہ خوف میرا حوصلہ چھین چکا ہے۔ میرے بھائی، میرے کزن، میرے دوست جب بھی شہر جاتے ہیں تو میرا دل اس وقت تک دہلتا ہے جب تک وہ گھر نہیں لوٹتے۔ خوف میں زندگی بس سانس لینے کا نام رہ جاتی ہے۔

مجھے صرف ایک سوال پوچھنا ہے جس کا مخاطب کوئی نہیں۔ بس خود کلامی سی ہے۔ کوئٹہ کا ہر باپ، ہر بھائی اپنے چھوٹوں کو گھر سے نکلتے ہوئے ایک ہدایت ضرور دیتا ہے۔ ’ بیٹا، اپنی گاڑی، اپنی بائیک، اپنی سائیکل کسی پولیس وین، کسی فوجی ٹرک، کسی ایف سی کی پک اپ کے پیچھے نہ لگانا‘۔ پولیس، ایف سی، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربت میں رہ کر تو خود کو محفوظ تصور کرنا چاہیے۔ ایسا کیوں ہوا کہ باپوں، بھائیوں، ماؤں کو یہ خوف پیدا ہوا کہ میرے بیٹے یا بھائی کی موٹر سائیکل کسی پولیس وین، کسی فوجی ٹرک یا کسی ایف سی کے پک کے پاس قریب ہو گی تو شاید کسی دھماکے کا امکان ہو گا۔ ایسا کیوں ہوا؟

مجھے صرف ایک درخواست کرنی ہے۔ میں بغیر کسی دعوے کے قبول کرتا ہوں کہ اس ملک کا ہر نیوز چینل نمبر ون چینل ہے۔ مجھے بغیر کسی رد و کد کے قبول ہے کہ اس پر بیٹھا ہر اینکر ٹیلی افلاطون ہے۔ مجھے بغیر کسی تردد کے قبول ہے کہ ہر چینل نے سچائی کا علم تھام رکھا ہے۔ ہم روزی روٹی کے جگاڑ میں لگے غریب الوطن لوگوں کو ہر دھماکے کے بعد ایک کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔ کس کس کو فون کریں اور کس کس کی خبر لیں۔ کوئی فون بند ملے تو دل کی دھڑکن رک سی جاتی ہے۔ آپ سے درخواست بس اتنی سی ہے کہ خبر سنانے کے بعد شہیدوں او زخمیوں کا نام پتہ جلدی لکھ لیا کریں تاکہ اذیت میں کچھ تو کمی آئے۔ جانے یہ اگست اتنا طویل کیوں ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 147 posts and counting.See all posts by zafarullah