پشاور کا  چودہ سالہ اسماعیل اور خوف خدا سے خالی کالم نویس


قابل قدر جناب وجاہت مسعود صاحب

السلام علیکم، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

زندگی میں پہلی بار کسی کالم نویس کو خط لکھ رہا ہوں۔  امید ہے کہ آپ اسے جلد ہی اپنے کالم کی زینت بنائیں گے۔ میرانام ابراہیم خان ہے میرے چاربچے ہیں سرکاری نوکری کی تلاش میں عمربیت گئی مگرسرکاری نوکری نہیں ملی مجبور ہوکر ایک پرائیویٹ سکول میں ٹیچنگ کرتاہوں سکول کی معمولی سی تنخواہ پر گزراوقات کرتے ہیں میں دل کے مرض میں مبتلا ہوں میں نے اپنے علاج کےلئے انصاف صحت کارڈ کےلئے ایک در نہیں چھوڑا یہاں تک بنی گالہ بھی خان صاحب سے ملنے کے لئے گیا لیکن ملاقات تو دور کی بات خان صاحب کا دروازہ بھی نہیں دیکھ سکا۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔  مالی مشکلات کی وجہ سے سکول سے میں نے اپنے بچوں کو سکول سے خارج کردیا۔  میری بیوی بھی سانس کی بیماری میں مبتلا ہے میں لیفٹنٹ کرنل انعام اللہ روالپنڈی سے علاج کرا رہاہوں، دوماہ ہوئے ہیں کہ گھرکی چارپائی تک محدود ہوا ہے۔  میں نے اپنے علاج کے لئے وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ایک درجن سے زائد درخواستیں بھیجی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

کسی نے کہا کہ اخبار کے کالم نگار کو اپنی فریاد لکھ دو مگر کچھ لوگوں نے کہا کہ آج کل کالم نگارحضرات کے دلوں سے خوف خدا مٹ گیا ہے وہ کسی غریب کی فریاد نہیں سنتے اور یہ بھی سنا ہے معذرت کے ساتھ کہ آپ کالم نگارحضرات بڑا غرور اور تکبر کرتے ہیں اورغریب لوگوں کے خطوط کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ آپ کالم نگارحضرات بھی کسی گریڈ 22 افسر سے کم نہیں ہیں۔  آپ اکثر سیاسی رہنماﺅں کے بارے میں ان کے سرسے لے کر پاﺅں تک اور باتھ روم سے ڈرائنگ روم تک باتیں ت ولکھتے ہیں لیکن کوئی غریب آپ کو خط لکھے توآپ اسکے خط کو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیتے ہیں۔

آج کل پاکستان زندہ باد اورپاکستان پائندہ باد کادور ہے ہرطرف پریس کانفرنسیں اورجلسے جلوس ہورہے ہیں حالانکہ سیاسی لیڈروں سے ہم لوگ اتنے تنگ آچکے ہیں کہ ان کے بارے میں لکھے گئے کالموں کو ہم پڑھتے ہی نہیں اوراسکے علاوہ بہت سے ٹی وی چینلوں پر یہ سیاسی لیڈراپنی اپنی صفائیاں اورتعریفیں کرتے ہیںان سیاسی لیڈروں کے کروڑوں بینک بیلنس اورفیکٹریاں ہیں اس سیاسی لیڈروں اورہم غریب لوگوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے یہ سیاسی لیڈر ان گرمیوں میں بھی کوٹ پتلو ن پہنتے ہیں جب کہ ہم غریب لوگ سادہ کرتہ پہن کر اپنا وقت گزارتے ہیں۔  مگر ہم جیسے غریب لوگوں کی باتیں یہ سیاسی لیڈر نہیںسنتے۔  آپ کالم نویس حضرات بھی ہماری باتیں نہیں سنتے تو آپ بتائیں کون سنے گا۔

یقین جانئیے میں جب یہ خط لکھ رہا تھا تومیری بیوی اورمیرے بچے میرے ساتھ بیٹھے تھے اورمجھے کہا کہ بابا یہ آدمی آپ کے آپریشن کے پیسے دے گا یا آپ کا آپریشن کرے گا۔  بابا یہ کون انکل ہے میں ان انکل سے اپنی معصومیت سے کہتا ہوں کہ انکل اللہ کے واسطے ہمارے بابا کا علاج کرے انکل تاکہ ہم دوبارہ سکول جا سکے اورمیرے والد دوبارہ نوکری پر جا سکے۔ بابا مجھے یقین ہے کہ یہ انکل اپنا بیٹا سمجھ کر میری بات سنیں گے انکل آپ کے بھی بیٹے بیٹیاں ہوں گے۔  انکل میرے بابا کا یہ خط ضرورچھاپ دیں۔ جب میںنے اپنے بیٹے کی یہ باتیں سنی تومیں اورمیری بیوی اپنے آنسوﺅں پر قابل نہ پا سکے۔ بیٹے نے دل میں ایک امید پیدا کی ان شاءاللہ العزیز میرا یہ خط ردی کی ٹوکری کی نذر نہیں ہو گا بلکہ آپ جلد ہی اپنے کالم کی زینت بنائیں گے۔

جناب میں  AFIC ہسپتال راولپنڈی سے علاج کرا رہا ہوں۔  مجھے  AFIC ہسپتال کے ایک ماہر ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا ہے جس کے اخرابات دولاکھ روپے پچاس ہزار روپے(2,50,000) بتائے ہیں اور وہ رقم بھی ایڈوانس جمع کرنا ہو گی اور دس پیکٹ خود بھی جمع کرانے ہونگے۔ ہروقت گھرمیں رونا دھونا ہوتا ہے گھر میں ماتم جیسا سماں ہوتا ہے۔ میں نے اس سے پہلے محکمہ زکواة سے رجوع کیا تو انہوں نے بیت المال ریفرکیا کہ یہ بیت المال کیس ہے بیت المال کا فارم پرکر کے دیا چھ ماہ بعد جواب دیا کہ فنڈز نہیں ہے حالانکہ ان سب محکموں اورشعبوں سے مایوسی ہوئی۔ ووٹ مانگنے والے ایم پی اے اورایم این اے حضرات کی چوکھٹوں پر سر رکھ چکا، لیکن کسی نے ہمدردی کے بھی چارلفظ نہیں بولے۔ جناب ہمارے سیاست دان دعوے توبڑے کرتے ہیں لیکن ان کی عملی تعبیر کہیں نظرنہیں آتی۔ یہ سیاست دان صرف اخبارات اورٹی وی کے اشتہارات تک محدود ہیں۔ میں آ پ کے معرفت سے مجھے پاکستان صحت کارڈ یا انصاف صحت کارڈ فراہم کیاجائے تاکہ میں اس کارڈ کے ذریعے اپنا آپریشن کر سکوں اورمیں اپنے پاﺅں پر دوبارہ کھڑا ہو کر اپنے بیوی بچوں کا سہارا بن سکوں اگر کوئی شخص میرے گھر آکر میرے بچوں کو سکول میں داخل کرے کیونکہ میرے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے اوران کے تعلیمی اخراجات برداشت کرے تومیں اس کا زندگی بھر احسان مند رہوں گا۔ اور اس کے بدلے ہماری ڈھیروں دعائیں لیں۔ اس خط میں کافی غلطیاں ہوں گی اگر کوئی بات دل پر ناگوار گزری ہو تو معافی چاہتا ہوں کیونکہ بہت مجبوراورتکلیف میں ہوں۔ کوئی صاحب حیثیت اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والا اور اپنے اولاد کے سر کے صدقے میرے آپریشن کے لئے 2,50,000 (دولاکھ پچاس ہزار) روپے فراہم کرے اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ یہاں پر بھی اور وہا ں پربھی ضرور دے گا۔ میرا بڑا بیٹا اسماعیل خان جسکی عمر 14سال ہے اسکی طرف سے سلام ودعا قبول کریں۔ ابراہیم خان سے رابطہ 0307-5963692کرسکتے ہیں۔ ڈاکخانہ ریلوے سٹیشن دلہ زاک روڈ مکان نمبر 4 دوران پور رینگ روڈ پشاور

وجاہت صاحب میں نے یہ خط اللہ کی رضا کے لئے کمپوز کیا ہے اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امتیاز محمد کی دیگر تحریریں
امتیاز محمد کی دیگر تحریریں