قائداعظم کی شان میں جنرل ضیاء الحق کی گستاخی


میں جب بھی شاہراہِ اسلام آباد (Islamabad Highway) سے گزرتے ہوئے ایک چھوٹی سی پہاڑی پر
faith
unity
discipline

لکھا ہؤا دیکھتا ہوں تو مجھے قائداعظم کا مشہور قول :
unity
faith
discipline
یاد آتا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے قائداعظم کے اس مشہور قول کو بدل دینے کی جرأت کیسے کی؟

اِس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پاکستانی قوم بابائے قوم کی شان میں اِس گستاخی پر مہر بہ لب کیوں چلی آ رہی ہے۔ قائداعظم کے اِس سیاسی قول کو تحریکِ پاکستان کے دوران قبولِ عام حاصل ہوا تھا۔ جب صدر جنرل ضیاء الحق نے اس سیاسی قول کو مذہبی رنگ میں رنگ دینے کی ٹھانی۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ قائداعظم کی اس قول کے مطرب و مفہوم میں یہ تبدیلی قائداعظم کی شان میں بہت بڑی گستاخی ہے۔ قائداعظم کی زندگی کا ایک واقعہ اس گستاخی کو سمجھنے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

تحریک پاکستان کے دوران قائداعظم ایک بہت بڑے جلوس کی قیادت فرما رہے تھے کہ اُن کے کانوں میں یہ آواز پڑی : حضرت مولانا قائداعظم محمد علی جناح زندہ باد! …. اِس پر قائداعظم نے جلوس کو روک کرنعرہ لگانے والوں کو یوں مخاطب کیا:
Look! I am not your religious leader. I am your political leader. Don’t call me Maulana!
کاش! صدر جنرل ضیاء الحق اُس جلوس میں شامل ہوتے اور قائداعظم کے اِس فرمان سے سبق اندوز ہوتے مگر وہ تو اُس وقت تحریکِ پاکستان کے ہنگاموں سے دُور ، بہت دُور برطانوی سامراج کی آبیاری کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اپنے دورِ اقتدار میں وہ بخوشی امریکی سامراج کی فرمانبرداری میں مصروف رہ رہے تھے

اسی بارے میں: ۔  وطن کی مٹی

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔