جناح خاندان کا تعلق ملتان سے تھا


قیام پاکستان کے بعد حکومتی سطح پر فیصلہ کیا گیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی پر کتاب لکھی جائے۔ اس مقصد کے لئے نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے مصنف اور صحافی ہیکٹر بولیتھو کا انتخاب کیا گیا۔ ہیکٹر نے 1954 میں قائداعظم کی زندگی پر تحقیق شروع کی۔ سینکڑوں لوگوں سے ملے اور ہزاروں صفحات چھانے اور یوں 1956 میں انہوں نے ”جناح: کری ایٹر آف پاکستان“ نامی آفیشل سوانح حیات شائع کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے جن لوگوں کا انٹرویو کیا ان میں سے ایک فاطمہ بائی تھیں۔

فاطمہ بائی کی شادی سنہ 1884 میں سولہ برس کی عمر میں محمد علی جناح کے ایک کزن سے ہوئی تھی اور وہ ان کے خاندانی گھر میں آ گئیں۔ اس وقت قائداعظم کی عمر سات برس تھی۔ 1954 میں وہ ان گنے چنے لوگوں میں سے ایک تھیں جو محمد علی جناح کے بچپن سے واقف تھے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس گھر میں وہ آٹھ افراد دو کمروں میں رہتے تھے۔

فاطمہ بائی اپنے بیٹے محمد علی کے ساتھ رہتی تھیں اور ہیکٹر سے ان دونوں نے بات کی۔ محمد علی نے خاندانی کاغذات سامنے رکھ دیے اور خاندان کی ابتدائی کہانی بتانی شروع کی۔

قائداعظم کے آبا و اجداد ہندو تھے۔ بعد میں وہ اسلام قبول کر کے آغا خان کے خوجہ اسماعیلی مسلک کے پیروکار بن گئے۔ ان کے خاندان کا تعلق ملتان سے تھا جو بعد میں ترک وطن کر کے کاٹھیاواڑ گجرات میں آباد ہو گیا۔ کاٹھیاواڑ کے بعد اس خاندان کی اگلی منزل کراچی ٹھہری۔

اسی بارے میں: ۔  ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا

جب محمد علی جناح کی عمر چھے برس تھی تو ان کو کراچی کے ایک سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ دس برس کی عمر میں ان کو جہاز میں بٹھا کر بمبئی بھیج دیا گیا جہاں وہ گوکل داس تیج پرائمری سکول میں ایک برس تک پڑھتے رہے اور پھر ان کو واپس کراچی بھیج کر سندھ مدرسہ اسلام میں داخل کرا دیا گیا۔ جب ان کی عمر پندرہ برس ہوئی تو ان کو کرسچ مشنری سوسائٹی ہائی سکول میں داخل کروا دیا گیا۔

جب وہ کراچی کے مشن ہائی سکول میں زیر تعلیم تھے تو سولہ برس کی عمر میں ان کی شادی ایمی بائی نامی ایک چودہ سالہ خوجہ لڑکی سے کر دی گئی۔ شادی کے فوراً بعد محمد علی جناح انگلستان چلے گئے۔ اگلے برس ہی ایمی بائی اور محمد علی جناح کی والدہ مٹھی بائی کا ایک وبائی مرض میں انتقال ہو گیا۔ محمد علی جناح نے اس کے بعد 25 برس تک دوبارہ شادی نہیں کی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 729 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar