جمہوریت ناگزیر مگر آئے گی کیسے؟


zeeshan hashimاس وقت جمہوریت بطور نظریاتی مقدمہ اپنا آپ منوا چکی ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطہ میں اگر ہم دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ تقریبا ہر ملک کے دانشوارانہ مکالمہ میں جمہوریت بطور ایک بہترین سیاسی لائحہ عمل اور سیاسی استحکام میں ایک ناگزیر ضرورت کے اپنی دلیل ثابت کر چکی ہے۔ مگر جمہوریت کو دنیا بھر میں بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سے ایک جس کا آج کل بہت چرچا ہے وہ ہے ٹرمپ کی شکل میں مقبول جمہوریت کا فاشسٹ تصور، مگر خاکسار اس موضوع کو اگلی تحریر تک ٹالتے ہوئے ایک اور چیلنج کو یہاں زیر غور لانا چاہتا ہے حس پر ہمارے اردو میڈیا میں کم ہی بات ہوئی ہے۔ جمہوری سیاسی تبدیلی کا کامیاب راستہ کیا ہے؟

عرب بہار ناکام ہو چکی ہے۔ جمہوریت کی منزل کو پانے کی یہ جدوجہد انتشار اور فساد پر منتج ہوئی ہے۔ جس سوال کا ارسطو کو سکندر کی بادشاہت میں سامنا کرنا پڑا تھا، اس کا اب ہر آمریت زدہ ملک میں آزادی کے کارکنوں کو سامنا ہے۔ ارسطو سے پوچھا گیا تھا کہ اگر سول آزادی اور سیاسی آزادی مطلب جمہوریت میں تمہیں کسی ایک کا انتخاب دیا جائے تو کسے قبول کرو گے؟ کافی غور و خوص کے بعد اس کا جواب تھا سول آزادیوں کو۔ جمہوریت کی جدوجہد میں اب عرب ممالک کے سیاسی کارکن پریشان ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے؟

“ڈیمبیسا مایو” ایک مقبول پولیٹیکل اکانومسٹ ہیں، وہ کہتی ہیں کہ وہ چین گئیں اور وہاں کے ان لوگوں سے ملیں جو چین میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات تھے اور انہوں نے اپنی اعلیٰ پروفیشنل تعلیم مغربی اداروں سے حاصل کی تھی۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آخر آپ کمیونسٹ پارٹی کی آمریت کا خاتمہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ کسی مضبوط سیاسی تحریک کی شکل میں سامنے کیوں نہیں آتے؟ وہ کہتی ہیں کہ کم و بیش نوے فیصد لوگوں کا جواب تھا ” کیا آپ یہ چاہتی ہیں کہ ہم جلد بازی میں اس آزادی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں جو اب تک ہمیں حاصل ہے؟ اور معاشی ترقی جو اب تک چین حاصل کر چکا ہے، سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں ختم ہو جائے؟ ہمیں وقت دیں، مڈل کلاس کی ایک بڑی تعداد پیدا ہونے دیں، ہمیں اپنے پر پھیلانے دیں، ہم جلد ہی سیاسی اور ثقافتی آزادی حاصل کر لیں گے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتنا آسان بھی ہے؟ ابھی دو سال پہلے 2013 میں حکمران سیاسی جماعت چائنا کمیونسٹ پارٹی نے ایک سرکلر جاری کیا جیسے ” ڈاکومنٹ نمبر 9” کہتے ہیں اس میں چین کی واحد سیاسی پارٹی کے لئے سات بڑے خطرات کا ذکر کیا گیا جن میں سے پانچ درج ذیل ہیں۔

1۔ مغربی آئینی جمہوریت کا تصور

2۔ انسانی حقوق کا عالمگیر تصور

3۔ سول سوسائٹی کا تصور

4۔ چائنا کمیونسٹ پارٹی کے ماضی پر فتنہ انگیز تنقید

5۔ میڈیا کی آزادی کا مغربی تصور اور اس کی اقدار

اس بیانیہ میں اس بات کا عزم کیا گیا کہ ان خطرات کا ہر میدان میں سامنا کیا جائے گا۔ یہاں دو باتیں یاد رکھنا اشد ضروری ہے۔

۔ چین ایسا ملک ہے جہاں روائتی و سوشل میڈیا دونوں مکمل طور پر سنسرڈ ہیں۔ عوام تک صرف ان معلومات کی رسائی ہے جو حکمران جماعت چائنا کمیونسٹ پارٹی پسند کرتی ہے۔ چین کا اندرونی سیکورٹی کے لئے بجٹ قومی دفاع کے بجٹ سے بھی زائد ہے اور یہ بجٹ عموما انسانی آزادیوں کے استحصال کے لئے خرچ ہو رہا ہے۔

اس سارے تناظر میں بنیادی سوالات یہ ہیں کہ چینی انسانی حقوق کے کارکنوں کا بنیادی منشور کیا ہونا چاہئے، کیا وہ بیٹھے سر کھجاتے رہیں اور انتظار کریں جب اچھا وقت آئے گا تو جمہوریت بھی خودبخود آجائے گی یا کسی سیاسی تحریک کو فعال کریں؟ اگر سیاسی تحریک فعال ہوتی ہیں تو کیا سیاسی کامیابی عدم تشدد سے ممکن ہو پائے گی؟ ہم جانتے ہے کہ چینی انتظامیہ اپنی طاقت کے اظہار میں انتہائی بے رحم ہے۔ کیا طاقت کا یہ استعمال فساد کا سبب نہیں بنے گا؟ کیا فساد در فساد سماج میں تشدد کو جنم نہیں دے گا جیسا کہ ہم نے عرب سپرنگ کے دوران دیکھا؟ بالفرض عدم تشدد سے حکمران جماعت کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے، کیا ایسے ادارے موجود ہیں جو نئے وجود میں آنے والے سیاسی نظام کو سہولیات بہم پہنچا سکیں؟ اگر ادارے موجود نہیں (جو یقینا نہیں موجود ) تو کیا سیاسی عدم استحکام کی صورت میں ریاست کمزور نہیں ہو جائے گی؟ جب ریاست کمزور ہو جائے گی تو کیا خانہ جنگی کا ماحول (جیسا کہ ہم شام و عراق میں دیکھ رہے ہیں ) پیدا نہیں ہو جائے گا؟ اس صورت میں معاشی ترقی کا بلبلا پھٹ تو نہیں جائے گا؟

یہ سوالات صرف چین، ہانگ کانگ، تائیوان، سنگاپور، اور نیپال کے باشندوں کو درپیش نہیں بلکہ عرب سپرنگ کے زخم خوردہ تمام سیاسی کارکن بھی اس آزمائش میں مبتلا ہیں کہ لبرل جمہوریت کی منزل کو پانے میں کہیں وہ ان سول آزادیوں سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں جو فی الحال انہیں میسر ہیں اور جن کو ارسطو نے بھی بچی کھچی آزادی سمجھ کر قبول کر لیا تھا۔ افریقہ میں قبائل کی سیاسی رسہ کشی اور آمریتوں کی قید میں مبتلا وہاں کے جمہوریت پسند شہری پریشان ہیں کہ عملی جمہوریت کو کیسے کامیاب بنایا جائے؟ لاطینی امریکہ بشمول وینزویلا اور روس (جہاں پیوٹن کی اپوزیشن سیاسی جبر کے ذریعہ آہستہ آہستہ منظر سے ہٹتی جا رہی ہے) میں بھی سیاسی تبدیلی کا کوئی کارگر نسخہ ابھی تک اہل دانش نہیں سمجھ پائے۔ جمہوریت کو اب نظریاتی میدانوں سے زیادہ عملی میدان میں چیلنجز کا سامنا ہے۔

(نہایت اہم موضوع پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ چین، وینزویلا اور روس کے علاوہ اس ضمن میں ایران کا معاملہ بھی زیر بحث لانا چاہیے جہاں کچھ کمی بیشی کے ساتھ یہی سوالات درپیش ہیں – مدیر)


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

2 thoughts on “جمہوریت ناگزیر مگر آئے گی کیسے؟

  • 08-03-2016 at 9:10 am
    Permalink

    A very important topic, plz write in more detail if possible.

  • 27-03-2016 at 11:40 pm
    Permalink

    جمہوریت یا سرمایہ داری ؟؟۔۔۔جو آ کے ہی نہیں دے رہی ان ممالک میں جن کا تذکرہ ہوا ؟؟

Comments are closed.