آزادی ٹرین کا صادق آباد سے شکار پور تک کا سفر


یوں صادق آباد میں ایک گھنٹہ قیام کے بعد آزادی ٹرین سندھ کی جانب عازم سفر تھی اور دادی مہران میں اپنی پہلی منزل ڈھرکی شام ساڑے سات بجے ایک گھنٹہ قیام کے لیے پہنچ گئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ کے ریلوے اسٹیشن کے نام تین زبانوں اردو، انگریزی اور سندھی میں لکھے ہوئے ہیں جبکہ دیگر صوبوں میں ریلوے اسٹیشنوں کے نام صرف انگریزی اور اردو میں لکھے گئے ہیں۔ اگرچہ ڈھرکی کا ریلوے اسٹیشن لوڈ شیڈنگ کے باعث اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا لیکن پس منظر میں اینگرو کی کھاد بنانے والی فیکٹری کی روشنیاں رات کی تاریکی میں جگنووں کی مانند لگ رہی تھی۔ اور دوسری جانب ریلوے اسٹیشن پر آزادی ٹرین کا استقبال کرنے والوں میں ایک ایسا سائیکل سوار نوجوان بھی تھا جس نے جشن آزادی کو منانے اور آزادی ٹرین کے استقبال کے لیے اپنی سائیکل کو رنگین برقی قمقوں اور سبز ہلالی پرچم سے سجایا ہوا تھا اور ہر کسی کا مرکز نگاہ بھی بنا ہوا تھا۔ اور زندہ قوم کے فرد ہونے کا عملی نمونہ بھی تھا۔

آزادی ٹرین ڈھرکی سے روانہ ہوئی تو اس کو پنوں عاقل چھاونی کے اسٹیشن پر قیام کرنا تھا۔ لیکن اس سے پہلے راستے میں آنیوالے ایک اور تاریخی شہر گھوٹکی پر مختصر وقفے کے لیے رکی۔ تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب رات کے اندھیرے میں گھوٹکی کی عوام نے ٹرین کا یادگار استقبال کیا ہماری حیرانی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ٹرین کے شیڈو ل میں گھوٹکی کا قیام شامل نہیں تھا لیکن ٹرین کی آمد کے ساتھ ہی گھوٹکی کی عوام بغیر اطلاع کے جس طرح اسٹیشن پر آ پہنچی وہ وطن سے محبت کے سچے جذبوں کی علامت تھی۔ اس رات گھوٹکی کے اسٹیشن ماسٹر بتا رہے تھے۔ کہ گھوٹکی بھی سندھ کے ان ریلوے اسٹیشنوں میں شامل تھا جو ستائیس دسمبر 2007کی شام راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد عوام کے غیض و غضب کا نشانہ بنا۔ اور ریلوے اسٹیشن کی عمارت سگنل کے نظام اور دیگر املاک کو شدید نقصان پہنچا لیکن محکمہ ریلوے نے موجودہ حکومت کے دور میں اپنی بحالی کے جامع پروگرام کے تحت ان تمام اسٹیشنوں کی بحالی کے کام کا آغاز کیا۔ اور اب گھوٹکی سمیت سندھ کے متعدد اسٹیشنوں پر ریلوے کے سگنل کے نظام کو چین کے تعاون سے کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے۔ یعنی اب ریل کی ٹریفک کو کیبن مین کانٹے کی جگہ کمپیوٹر کے ماؤس سے ایک کلک سے کنٹرول کرتا ہے۔ جس کے باعث ریل کے نظام میں واضح تبدیلی اور بہتری آرہی ہے۔

اور پھر آزادی ٹرین نے گھوٹکی کے اسٹیشن کو چھوڑا اور رات پونے دس بجے پنوں عاقل چھاونی پہنچ گئی۔ جس کی بنیاد اٹھاریوں صدی عیسوی میں عاقل خان نامی شخص نے رکھی تھی اور اس کا شمار ملک کی اہم فوجی چھاونیوں میں ہوتا ہے۔ آزادی ٹرین کے استقبال کے لیے پنوں عاقل کے ریلوے اسٹیشن کو بڑی خوبصورتی سے برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ جو رات کے اندھیرے میں بھی عمار ت کو نمایاں کر رہے تھے۔ اور بالاخر آزادی ٹرین پنوں عاقل میں ایک گھنٹہ قیام کے بعد رات ساڑھے گیارہ بجے روہڑی اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر آ لگی۔ جہاں اس کا قیام شیڈول کے مطابق صرف پانچ منٹ کا تھا کیونکہ اس نے کوئٹہ سے واپسی پر دو گھنٹے قیام کرنا تھا۔ روہڑی کوئی معمولی ریلوے اسٹیشن نہیں چاروں اطراف سے آ کر ریلوے لائنیں یہاں ملتی ہیں اور اگر بر صغیر میں ریل کی پٹڑی بچھاتے وقت انگریز حکمرانوں کا خواب پورا ہو گیا ہوتا تو افغانستان کے راستے وسطی ایشا اور یورپ تک ریل یہاں سے چلا کرتی لیکن اب موجودہ حکومت اس خواب کو چین پاکستان اقتصادی راہ داری(CPEC) کے ذریعے مکمل کر رہی ہے۔ روہڑی کے ایک پلیٹ فارم جس کی لمبائی ایک ہزار آٹھ سو چورانوے فٹ ہے کو پاکستان کے سب سے طویل پلیٹ فارم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ روہڑی اسٹیشن کی عمارت بھی اپنے فن تعمیر کے حوالے سے یکتا ہے یعنی اس کی عمارت موٹی موٹی دیواروں، اونچی چھت اتنے ہی اونچے روشن دانوں اور لمبی لمبی چمکتی کھڑکیوں والے کمروں پر مشتمل ہے۔

جن میں ایک کمرہ محکمہ ڈاک کے بھی زیر استعمال ہے۔ جہاں سے ملک کے طول و عرض میں ریل کے ذریعے ڈاک کی ترسیل کی جاتی ہے۔ اُس شب روہڑی کے ریلوے اسٹیشن پر مجھے ایک نوجوان ملا جس نے موبائل چارجنگ کا اسٹال لگارکھا تھا۔ یعنی اگر آپ ریل کے مسافر ہیں اور سفر کے دوران آپ کے موبائل کی بیٹری کی چارجنگ ختم ہو گئی ہے تو روہڑی اسٹیشن پر اپنی ریل کے پہنچنے کا انتظار کیجیے اسٹیشن پر اتریے اور صرف 20 روپے میں اپنی ریل کے 20 منٹ سے نصف گھنٹے تک روہڑی پر قیام کے دوران اس اسٹال سے اپنے موبائل کو چارج کروا لیجیے۔ اس لڑکے کا کہنا تھا کہ مسافروں کو یہ سہولت چوبیس گھنٹے فراہم کی جاتی ہے اور بارہ گھنٹے کی دو شفٹوں میں ڈیوٹی دی جاتی ہے۔

آزادی ٹرین روہڑی سے روانہ ہوئی اور تاریخ تبدیل ہونے سے اور نصف شب سے صرف پانچ منٹ قبل گیارہ بج کر پچپن منٹ پر سکھر پہنچ گئی۔ جہاں ہمارا قیام اگلے پورے دن اور رات کا تھا اس رات ہمیں نیند ایسی آئی کہ خبر نہیں کہ کتنے گھوڑے بیچے لیکن علی الصبح موبائل کے الارم کے باعث آنکھ کھل گئی اور یوں صبح کے نیوز بلیٹن کے لیے کوریج ممکن ہو سکی۔ سکھر دراصل ریلوے کا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ عموماً ریلوے کے ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ز مثلاً ملتان، لاہور، اور راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک تاریخی ریلوے انجن کو تزئین و آرائش کے بعد نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ لیکن سکھر ریلوے اسٹیشن کے باہر جب ہم نے پہلی مرتبہ جھانکا تو سڑک پر دوریل گاڑیا ں بمع انجن کھڑی نظر آئیں۔ عقل حیران ہوئی کہ اسٹیشن کے باہر سڑک پر ریل گاڑی کا کیا کام۔ لیکن جب قریب گئے تو معلوم ہوا کہ ریلوے کے نظام کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنے کے لیے سکھر ریلوے اسٹیشن کے بالمقابل سڑک پر ریل کی پٹڑی بچھا کر سگنل اور ریلوے پھاٹک کی باقاعدہ تنصیب کر کے ریل گاڑیاں کھڑی کی گئی ہیں جو سکھر ریلوے اسٹیشن پر آنے جانے والے ہر مسافر کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ لیکن مجھے تو اُس دن سکھر کے پانچ مشہور مقامات کو دیکھنا تھا دوسرے لفظوں میں وقت کم مقابلہ سخت۔

سو میں نے اپنے دن کا آغاز سکھر میں اپنے نوجوان میزبان آغا اویس کے ہمراہ کیا اور طے یہ پایا کہ سب سے پہلے سکھر بیراج دیکھا جائے۔ آغا اویس بتا رہے تھے کہ سکھر بیراج کی تعمیر دریائے سندھ پر برطانوی راج کے دور حکومت میں 1923؁ سے 1932؁ تک نو سال کے عرصے میں مکمل ہوئی اور اس کا افتتاح 13جنوری 1932؁ کو اس وقت کے وائسرائے ہند لارڈ ویلنگڈن نے کیا تاہم اس کانام بمبئی کے گورنر سر جارج ایمبروز لائیڈ کے نام پر لائیڈ بیراج رکھا گیا۔ وہیں سکھر بیراج کے ساتھ ہی ایک عجائب گھر بھی قائم کیا گیا ہے جو لائیڈ بیراج میوزئیم کے نام سے جاناجاتا ہے۔ جہاں سکھر بیرا ج کی تعمیر کے مختلف مراحل کوپلیک اینڈ وائٹ تصویروں بیراج کے مختلف حصوں کو لکڑی کے بنے ہوئے نمونوں اور پھر مکمل بیراج کو ایک ماڈل کی صورت میں واضح کیا گیا ہے تاکہ بیراج کے مختلف گوشوں اور اس کی کارکردگی سے مکمل آگاہی ہو سکے۔ عجائب گھر کے دورے کے دوران سکھر بیراج کی تعمیر کے دوران کھینچی گئی تصاویر کے ذریعے ہم بھی گذشتہ صدی کے اوائل میں پہنچ گئے جب کسی جدید ٹیکنالوجی کے بغیر انسانی ہاتھوں نے تقریباً ایک میل طویل یہ بیراج تعمیر کیا تھا۔ جس کو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے آبپاشی کے نظام کی حیثیت حاصل ہے۔ جو سکھر، میر پور خاص، تھرپارکر اور حیدرآباد کے اضلاع کو سیراب کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیراج کی پانی جمع کرنے کی گنجائش کم ہوتی گئی اور ایک جامع منصوبہ کے تحت پاک فوج کی انجینئرنگ کور اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے 22 نومبر 2004؁ کو پندرہ ملین ڈالر کی لاگت سے اس کی تعمیر نو اور بحالی کے منصوبے کومکمل کیا اور ماہرین کے مطابق اب آئیندہ ستر سال کے عرصے کے لیے یہ بیراج فعال رہے گا۔

سکھر بیراج سے ہماری اگلی منزل دریائے سندھ میں ایک چھوٹا سا جزیرہ (سادھ بیلو) تھا جو ہندووں کے لیے ایک مقدس جزیرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس جزیرے کے وسط میں ایک قدیم مندر ہے جہاں تک جانے کے لیے ہم نے موٹر بوٹ کا سفر کیا۔ مندر کے منتظم راجیش کمار کا کہنا تھا کہ اس مندر کی بنیاد 1823؁ میں سوامی بھکاندی مہاراج اداس نے رکھا تھا جبکہ (سادھ بیلو )سندھی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی سادھووں کا جنگل ہے۔ چونکہ اس منظر تک آمد و رفت کا واحد ذریعہ کشتی ہے لہذا محکمہ اوقاف نے ہندو یاتریوں کی سہولت کے لیے موٹر بوٹ کی سہولت مفت فراہم کی ہیتاکہ ہندو یاتری با آسانی دریا کے اندر جزیرے میں قائم مندر تک پہنچ سکیں۔ مندر کے دورے کے دوران اس کی لائبریری میں قدیم کتب کا ذخیرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ اور مہمانوں کے تاثرات قلم بند کرنے والی کتاب کے ذریعے معلوم ہوا کہ سابق صدرضیا الحق سمیت اہم ملکی و بین الاقوامی شخصیات اس تاریخی منظر کا دورہ کر چکی ہیں جن میں ہندوستان کے صوبے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کماربھی شامل ہیں۔ مندر کے منتظم راجیش کمار نے اس موقع پر محکمہ اوقاف اور صوبائی وفاقی حکومت کی ان اقدامات کی تعریف کی جن کے سبب مندر کی تزئین و آرائش کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندستان سے آنے والے ہندو یاتری با آسانی مندر کا دورہ کر کے اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

سادھ بیلو کے بعد ہماری اگلی منزل سکھر کے سابق حکمران میر ابوالقاسم کے مقبرے پر فاتح خوانی کے ساتھ ساتھ ’’ ستن جو آستان ‘‘ کا دورہ کرنا تھا جو دراصل سات خواتین سہیلیوں کی آخری آرام گاہ ہے۔ اور انگریزی میں HILL OF THE SEVEN VIRGINS کے نام سے مشہور ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ ساتوں خواتین با پردہ زندگی گذار رہی تھیں کہ اس وقت کے ہندو راجہ کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے سے بچنے کے لیے دعا مانگی اور پہاڑی پر واقع ایک غار میں اپنے آپ کو زندہ دفن کر لیا۔ اور یوں ان کی قبریں سات بڑے بڑے ایستادہ ستون کی شکل میں موجود ہیں۔

دریائے سندھ کے کنارے روہڑی کی حدود میں واقع اس پہاڑی پر سکھر کے سابق حکمران میر ابوالقاسم نمکین کا مزار بھی ہے۔ جو ہمیں ٹھٹھہ میں مکلی کے قبرستان کی یاد دلاتا ہے کیونکہ ان کے مقبرے پر ویسے ہی نقش و نگار بنے ہوئے ہیں اور خوبصورت خط نسخ قرآنی آیات مقبرے کی دیواروں پر کنندہ ہیں کہا جاتا ہے میر صاحب نے یہ مقبرہ اپنی زندگی میں ہی تعمیر کروا لیا تھا۔ اس عمارت پر سندھ کی ثقافت کی مخصوص شناخت نیلی ٹائلوں کا بھی بڑا خوبصورت استعمال کیا گیا ہے۔ اس پہاڑی پر چڑھ کر پس منظر میں ’’لینس ڈاون ریلوے پل ‘‘ اور دریائے سندھ کا نظارہ بہت دلفریب لگتا ہے۔

ہماری اگلی منزل سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ پر پہاڑ جیسا اونچا آسمان کو چھونے والا لوہے کا تاریخی ’’ لینس ڈاؤن ریلوے برج ‘ ‘ دیکھنا تھا۔ جس پر سے گزر کر ہماری آزادی ٹرین گذشتہ شب روہڑی سے سکھر پہنچی تھی۔ سکھر اور روہڑی دراصل جڑواں شہر ہیں جن کو دریائے سندھ جدا اور ’’ لینس ڈاؤن ریلوے برج ‘ ‘ ملاتا ہے۔ یہ آسمان کو چھونے والا لوہے کا پل 25مارچ 1889؁ کو کھلا تھا اس سے قبل لاہور سے کراچی جانیو الی ریل گاڑی سکھر رکتی تھی پھر بھاپ سے چلنے والی فیری آٹھ ویگنوں کو دریا پار لے جاتی تھی اور اس طرح ٹرین آگے چلتی تھی۔ دس برس تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور پھر لندن کے ایک انجینئر سر الیگزینڈر رینڈن نے اس کا نقشہ بنایا تین ہزار تین سو ٹن وزنی یہ پل لندن کی ویسٹ ووڈ پیلی اینڈ کمپنی میں تیار ہوا اور اٹھا رہ سو ستاسی میں اس کو ٹکڑوں کی شکل میں سکھر منتقل کیا گیا۔ 19 مارچ 1889؁ کو اس کو آزمائشی طور پر کھولا گیا اور چھ دن بعد ستائیس لاکھ روپئے کی لاگت اور چھ مزدوروں کی جان کی قربانی دینے کے بعد اس وقت کے بمبئی کے گورنرلارڈ ری نے فیتا کاٹنے کی بجائے پل کے دروازے پر نسب آرائشی قفل کو کھول کر اس کا افتتاح کیا۔ واضح رہے کہ یہ قفل میو کالج آف آرٹس لاہورکے پرنسپل اور نامور مصنف شاعر اور صحافی روڈیارڈ کپلنگ کے والد جے ایل کپلنگ نے تیار کیا تھا۔

لیکن تعمیر کے صرف پینتیس برس بعد پل کمزور پڑنے لگا اور 1924؁میں اس پل پر سے گزرنے والی ریل گاڑیوں کی رفتار انتہائی کم یعنی صرف آٹھ میل فی گھنٹہ کر دی گئی۔ اور پھر قیام پاکستان کے بعد 1962؁ میں اس پل سے ذرا فاصلے پر ایک اور ریلوے پل دو کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا جس کا افتتاح چھ مئی 1962؁ کو اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے کیا جس کا نقشہ معروف سائنس دان اور مصنف ڈاکٹر ڈیوڈ اشٹین نے بنایا اور اس پل کو ایوب برج کا نام دیا گیا۔

اس دن سکھر شہر میں ہماری آخری منزل حضرت میر محمد معصوم شاہ بخاری ؒ کے مزار پر فاتح خوانی اور مزار سے متصل قدیم مینار کو دیکھنا تھا۔ حضرت معصوم شاہ بخاریؒ سولویں صدی عیسوی میں معروف سندھی سائنس دان اور صوفی بزرگ کے طور پر گزرے ہیں جنہوں نے1600؁ میں تاریخ سندھ جو تاریخ معصومی کے نام سے بھی مشہور ہے تصنیف کی آپ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں 1598؁ میں سندھ کے گورنر مقرر کیے گئے۔ حضرت معصوم شاہ کے مینار کو سکھر شہر میں ایک اہم اور مرکزی عمارت کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مینار 1607؁ میں سرخ اینٹوں سے تعمیر ہوا اس کا قطر تقریباً 26میٹر اور مینار کی چوٹی پر پہنچنے کے لیے 84 سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں اور اس کی اونچائی تقریباً 31 میٹر ہے۔ ایک زمانے میں یہ مینار واچ ٹاور کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔ آج بھی مینار کی چوٹی سے سکھر شہر کا مکمل نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

وقت گزرتا جا رہا تھا اور شام ہونے کو تھی۔ لہذا واپسی کا قصد کیا اور سکھر ریلوے اسٹیشن آ پہنچے۔ جہاں آزادی ٹرین پر سوار PNCAکے پتلی گھر کے اراکین نے بچوں کے لیے ریلوے اسٹیشن پر پتلی تماشے کا خصوصی اہتمام کیا ہوا تھا۔ عموماً ریلوے اسٹیشن گرم چائے انڈے یا پکوڑے بیچنے والوں کی آوازوں سے گونجتا رہتا ہے لیکن اس شام سکھر ریلوے اسٹیشن پر بچے بڑے بوڑھے سب منڈلی جمائے پتلی تماشہ دیکھنے میں محو تھے جو خوب ہوا اور خوب چلا۔ بچوں نے پہلی بار پتلی تماشہ دیکھا تو بڑے بوڑھوں نے اس کو دیکھ کر اپنے بچپن کو خوب یاد کیا اور ماضی کے دھندلوں میں کھو گئے۔

پھر رات کے آٹھ بجے معلوم ہوا کہ چند لمحوں بعد سکھر سے تعلق رکھنے والے معروف بزرگ سیاست دان اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ آزادی ٹرین کا دورہ کریں گے۔ شاہ صاحب نے اپنے دورہ آزادی ٹرین کے دوران ریڈیو پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے واضح الفاظ میں حکومت پاکستا ن کی تعریف کی انہوں نے جشن آزادی کو شایان شان طریقے سے سرکاری سطح پر منانے اور عوام میں تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے دور کے جذبے کو جگانے کے لیے ملک کے طول و عرض کے دورے کے لیے آزادی ٹرین چلانے پر حکومت کو مبارک باد پیش کی۔ اس دوران ہم نے ریڈیو پاکستان کے قومی خبرنامے کے ذریعے یہ خبر بھی بریک کی کہ دو ہفتوں کے سفر کے دورا ن پانچ لاکھ سے زائد افراد آزادی ٹرین کو دیکھ چکے ہیں۔ اس رات ڈی ایس ریلوے سکھر کے دفتر کی عمارت کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ اور عمار ت کی چھت پر ایک چھوٹی سی ریل گاڑی بھی چلائی گئی تھی۔ جو اس عمارت کے سامنے سے گزرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ اس موقع پر سکھر ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک خصوصی ثقافتی شو کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جو رات گئے تک جاری رہا۔ پھر ہماری وہ شب بھی سکھر گزری اور اگلی صبح سات بجے آزادی ٹرین نے سکھر کی فضاؤں کو الوداع کیا اور شکار پور کے لیے روانہ ہو گئی۔

راستے میں حبیب کوٹ جنکشن کی خوبصورت عمارت بھی گزری لیکن آزادی ٹرین کو وہاں نہیں رکنا تھا۔ ریل کی پٹڑی کے دونوں اطراف چاولوں کی فصل پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس مرتبہ سند ہ میں چاول کی فصل پانی کی فراوانی کے باعث بھرپور ہو گی۔ اور بالاخر صبح ساڑھے آٹھ بجے ایک گھنٹہ قیام کے لیے ہماری ریل شکار پور پہنچ گئی۔ ایک زمانہ تھا کہ ہندوستان اور وسطی ایشاء جانیوالی قدیم سڑک شکار پور سے گزرتی تھی اور ادھر چین کا صوبہ سنکیانگ شکارپور کے تاجروں اور ان کی مصنوعات سے بھرا رہتا تھا۔ اور اٹھارویں صدی کے اختتام تک شکار پور کو سندھ کے سب سے بڑے کاروباری مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ اگر اس زمانوں کے نقشے ملاحظہ کیے جائیں تو جس جگہ اب پاکستان ہے وہاں صرف دو شہروں کی نشاندھی کی گئی تھی۔ ایک لاہور اور دوسرا شکار پور۔ اور اب لگتا ہے کہ CPEC کی تکمیل کے بعد تاریخ پھر اپنے آپ کو دھرائے گی۔ شکار پور مٹھائی اور اچار کی وجہ سے ملک بھر میں بہت مشہور ہے۔ سو اس صبح جونہی ہماری آزادی ٹرین شکار پور کے پلیٹ فارم پر لگی تو ہم چھلانگ لگا کر فوراً اسٹیشن پر موجود آچار کے واحد اسٹال پر جا پہنچے اور مولا بخش کے آچار کے کوئی نصف درجن بوتلیں خرید لیں تاہم اس دن ہمیں شکار پور کے اسٹیشن پر مٹھائی کا کوئی اسٹال نظر نہیں آیا۔ ورنہ مٹھائی بھی خرید لیتے خصوصاً لوکی کے سبز حلوے کے ڈبے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سے[email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 25 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz